All posts by INDIAN AWAAZ

The Indian Awaaz (theindianawaaz.com) is a fast growing English news website based in New Delhi. Website covers Politics, Economy/Business, Entertainment, Health, Education, Technology, Fashion, Lifestyle, Stock Market, Commercial issues and much more. It has separate sections in Hindi and Urdu too.

جنازوں پر سیاست

حسام صدیقی

تین سوا تین سال تک اقتدار کی بالائی چاٹنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اور اتنی ہی کٹر پنتھی جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی الگ ہو گئی۔ سرکار گر گئی لیکن تین سوا تین سالوں میں دونوں ہی پارٹیوں نے اپنی اپنی جیبیں بھی خوب بھریں۔ کشمیر وادی میں پی ڈی پی تو جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے عوام میں خود کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ یہ دیگر بات ہے کہ یہ دونوں ہی اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائیں۔ اب دونوں کا طلاق ہو چکا ہے۔ آٹھ دس مہینے بعد لوک سبھا کاالیکشن ہونا ہے تو ظاہر ہے کہ ملک کی دیگر تمام سیاسی پارٹیوں کی طرح بی جے پی اور پی ڈی پی دونوں کو الیکشن جیتنے کے لئے نئے نئے نعروں اور مدوں کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں اب جنازوں پر نئی سیاست شروع کرکے پورے ملک میں ہندو ووٹوں کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ ویسے کشمیر میں جنازوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے کشمیر وادی میں دہشت گردی کا دور شروع ہوا وہاں جنازوں اور لاشوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ اس سیاست میں ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ طریقے سے ہر پارٹی، سرکاریں اور ایڈمنسٹریٹیو افسر سبھی شامل رہے ہیں۔ انتظامیہ کے افسران سے بھی سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جب میر واعظ مولوی فاروق کو قتل کیا گیا تھا تو ان کے جنازے کے جلوس پر فائرنگ ہوئی تھی، اس وقت فائرنگ کرنے والے اتنے بے لگام ہو گئے تھے کہ ان میں سے کچھ نے مولوی فاروق کے جنازے تک پر گولیاں چلائی تھیں۔ اس وقت جلوس میں شامل لوگوں نے گورنر پر الزام لگائے تھے کہ محض مسلمانوں کو بے عزت کرنے کے لئے مولوی فاروق کے جسد خاکی پر گولیاں چلوائیں تو گورنر خاموش رہے تھے لیکن سرکاری مشینری نے ہی یہ پروپگینڈہ پورے ملک میں کیا تھا کہ دیکھو کشمیر سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھا دیا۔ میر واعظ مولوی فاروق کے بیٹے اور آج کے میرواعظ عمر فاروق نے واضح الزام لگایا تھا کہ سرکار نے ان کے والد کو قتل کرایا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی بی کے افسران نےعمر فاروق کو ایک ویڈیو دکھایا تھا جس سے ثابت ہوتا تھا کہ مولوی فاروق کا قتل انہی لوگوں نے کیا ہے جو پہلے ان کے ساتھ رہتے تھے۔ پرانےساتھیوں نے ہی انہیں خود قتل کیا یا انہیں خرید کر کسی نے کرایا؟پھر ان کے جنازے پر فائرنگ کس نے کرائی ان تمام سوالات کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے لیکن ان کے جنازے پر فائرنگ کاواقعہ دنیا بھر میں ملک کے لئے شرمندگی کا باعث ضرور بنا تھا۔
گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گرد،سرحد پر بیٹھے ان کے آقاؤں اور علیحدگی پسندوں کے ذریعہ کشمیر میں جنازوں کی سیاست کی جاتی رہی ہے انہیں کرنی بھی چاہئے تھی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے جنازوں کی سیاست میں جو اضافہ ہوا اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟یقینی طور پر اس کے لئے مودی کی بی جے پی اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کی ساجھا سرکار ہی اصل قصوروار تھی۔ کیا سرکار نے کبھی کسی بھی دہشت گرد کے جنازے میں بھیڑ اکٹھا ہونے سے روکا اگر نہیں تو کیوں اب اس کا جواب کون دے گا؟ خیر اب سرکار نے میڈیا کے ذریعہ یہ خبر پھیلوائی ہے ہےگورنر راج کے دوران آرمی یہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ اب مڈ بھیڑ میں مارے جانے والے دہشت گردو ں کی لاشیں ان کے گھر والوں کو نہیں سونپی جائیں گی تاکہ ان کے جنازے کے جلوس میں بھیڑ نہ ا کٹھا ہو سکے اور اس بھیڑ کو دیکھ کر نوجوان اس سے متاثر ہو کر دہشت گردی کا راستہ اختیار نہ کریں دوسرے جنازوں کے جلوس میں شامل ہو کر دہشت گرد سرکار کے سامنے کوئی نئی چنوتی پیش نہ کرنے پائیں۔
یہ خبر پلانٹ ہوتے ہی مودی سرکار کی غلامی میں لگے کئی ٹی وی چینلوں نے ملک کے جذبات بھڑکانے والی بحثیںشروع کردیں۔ ان پڑھ قسم کے اینکرس چیخ چیخ کر بحث میں شامل لوگوں خصوصاً مسلم نمائندوں سے چیخ چیخ کر سوال کرنے لگے کہ دیش دروہی دہشت گردوں کے جنازے نکالیں ہاں یا نا اب ایسے حساس مسئلہ پر ہاں یا نا میں جواب کوئی کیسے دے سکتا تھا۔ پھر اینکروں نے وہی کیا جس کی ہدائت انہیں ان کے آقاؤں سے ملی تھی۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ آپ لوگ دہشت گردوں کے جنازوں کے جلوس نکال کر ان کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کے ہندوؤں کو اثر دار طریقہ سے پیغام دیا گیا کہ دیکھو یہ مسلمان ہیں جو مارے جانے کے بعد بھی دہشت گردوں کی عزت افزائی کرانا چاہتے ہیں۔ جب کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی سرکار ایسا نہیں چاہتی۔
چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب دہشت گردوں کے جنازوں کو بھی ووٹوں میں بھنانا چاہتی ہے اس لئے اس قسم کی خبریں پہلے پلانٹ کرائی گئیں پھر غلام ٹی وی چینلوں پر بحثیں کرائی گئیں۔ اگر سرکار اس معاملے میں سنجیدہ اور ایماندار ہوتی تو آئندہ مڈ بھیڑ میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں ان کے گھر والوں یا گروہوں کو سونپنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ پولیس اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ انہیں دفن کرا دیتی ۔ زیادہ سے زیادہ یہ بھی کیا جاسکتا تھا کہ مارے گئے دہشت گردوں کے گھر والوں کو بھی بلا کر تدفین میں شامل کرایا جاتا۔ اس کے بعد اگر کوئی اس کاروائی پر اعتراض کرتا تب اس پر بحث بھی ہوسکتی تھی اور خبریں بھی شائع کرائی جا سکتی تھیں۔ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ایسا کرنے سے کشمیر کے باہر کے لوگوں کے جذبات بھڑکائے نہیں جاسکتے ہیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر اس طرح مار ے گئے دہشت گردوں کو دفنا دیا جائے تو ان کے گھر والوں کے علاوہ کوئی دوسرا اعتراض نہیں کرے گا۔ مقبول بھٹ کو اندرا گاندھی سرکار میں اور افضل گرو کو منموہن سنگھ سرکار میں تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تو وہیں دفنا دیا گیا تھا۔ افضل گروکو تہاڑ جیل میںہی دفنائے جانے کے خلاف صرف محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ہی شور مچایا تھا جس کی گود میں بیٹھ کر نریندر مودی کی بی جے پی نے جموں کشمیر میں سرکار بنائی۔
خبریں شائع کرائی گئیں کہ مڈ بھیڑ میں مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں اب ان کے گھر والوں کو نہ سونپنے پر آرمی غور کررہی ہے یہ جھوٹ ہے کیونکہ فوج کا یہ کام ہی نہیں ہے۔ آرمی کے ساتھ مڈ بھیڑ میں مارے جانے والوں کی لاشیں آرمی مقامی پولیس کو سونپ دیتی ہے۔ پھر پولیس اور سرکار ہی اس کی تدفین یا آخری رسومات ادا کرنے کی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ پھر آرمی کو اس تنازعہ میں کیوں کھینچا گیا؟ ملک کا قانون اور روائت یہی رہی ہے کہ دہشت گردہوں یا ماؤوادی ہوں یا ڈاکو مڈ بھیڑ میں جو بھی مارا جاتا ہے بعد میں اس کی لاش اس کے گھر والوں کو سونپ دی جاتی ہے۔ اسی روائت کے چلتے تو ملک کی آرمی سرحد پر مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں اور دہشت گردوں کی لاشیں پاکستان کو سونپتی رہی ہے۔کرگل میں مارے گئے پاکستانی فوجیوں، ممبئی پر حملہ کرنے والے پاکستانی دہشت گردوں ، یہاں تک کہ اجمل قصاب کی لاش بھی کئی دنوں تک ڈیفریزر میں رکھ کر پاکستان سے کہا گیا کہ وہ لاش لے لیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ وہ اپنے بھیجے ہوئے فوجیوں اور دہشت گردوں کی لاشیں لے جا کر اپنے یہاں دفن کراتا اور کئی دنوں تک انتظار اور لاشیں لینےسے پاکستان کے انکار کے بعد ہی سرکار نے اپنی ہی دھرتی پر انہیں دفن کرا دیا۔
اب اگر کشمیر میں دہشت گردوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کو نہ سونپنے کا ارادہ سرکار کا ہے تو ایک آرڈر کردینا چاہئے کہ اب ہم مڈ بھیڑ میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی لاشیوں کو ان کے گھر والوں کو نہیں سونپیں گے۔ کیونکہ ان کے جنازے کا جلوس نکلتا ہے تو وادی کا ماحول خراب ہوتا ہے پھر دیکھئے کون اعتراض کرتا ہے؟ ایسا اسلئے نہیں کیا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے بھی بد نیتی نظر آتی ہے۔ لوک سبھا الیکشن سے پہلےدہشت گردوں کے جنازوں پر بھی سیاست شاید سرکار میں بیٹھے لوگوں کے لئے فائدہ کا سودا نظر آرہا ہے۔ ملک کے مسلمان کسی بھی دہشت گرد کی نہ تو حمائت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے مرنے کے بعد اس کے جنازے کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہاں اگر سرکار یعقوب میمن کے جنازے کی طرح گھر والوں کے ساتھ سودے بازی کرکے جنازہ سونپے گی تو اس کی تدفین تو مسلمان کی طرح ہی ہوگی کوئی کتنا ہی بہک جائے دہشت گرد بن جائے، ڈاکو بن جائے یا بے گناہ ہوتے ہوئے بھی بھوپال جیل سے نکال کر پولیس کے ذریعہ قتل کردیا جائے مرنے کے بعد اس کی تدفین یا آخری رسومات کی ادائیگی تو اس کے اسی مذہب کے مطابق کی جائے گی جس مذہب میں وہ پیدا ہوا ہوگا۔اس پرکسی کو اعتراض کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا ملک کے پہلے دہشت گرد ناتھو رام گوڈ سے کی پھانسی کے بعد اس کے مذہب کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئی تھیں۔ اب تو بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ذہنیت و الے لوگ ہر سال اس کے لئے جلسہ کرتے ہیں اور اس کا مندر بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔

Muslim Board asks Govt to take a firm stand on homosexuality

AIMPLB meet

Andalib Akhter / New Delhi

The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) on Sunday asked the government to take a firm stance in the Supreme Court against homosexuality. accusing government of being reluctant on the issue Board said that it was a sin in all religions and should be declared a crime.

The working committee of AIMPLB which met here Sunday said that “a neutral stance by the government is against religions, traditions and ethics of this country”.

The Centre on July 11 told the Supreme Court that it would leave it to the wisdom of its judges to decide on the constitutional validity of Section 377 on the issue of criminalising unnatural intercourse between two consenting adults.

A five-judge constitution bench, headed by Chief Justice Dipak Misra, was told by Additional Solicitor General Tushar Mehta that the Centre has no objection with the court dealing with the validity of this penal provision.

The bench is hearing a batch of petitions challenging its 2013 verdict that had re-criminalised consensual sex between two consenting adults of the same gender.

The bench, also comprising Justices RF Nariman, AM Khanwilkar, DY Chandrachud and Indu Malhotra, said it made it clear yesterday that only the constitutional validity of Section 377 will be dealt with by it.The apex court had commenced the hearing yesterday.

 

AIMPLB meet - Copy

 

The working committee of AIMPLB  also asserted that ‘Darul Qazas’ were not parallel court system. These counseling centers help to take the burden off courts where hundreds of thousands of cases are still pending.

It also clarified that no proposal was made to set up Shariat courts in all districts across the country.

“We have never talked about setting up Shariat courts in all districts across the country. Our motive is to set them up in places where it is required and where people want them,” Zafaryab Jilani, member of the AIMPLB, said after the meet.

He said that the Bharatiya Janata Party (BJP) and Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) were politicising the matter.

“Shariah Board is not a court. BJP-RSS is doing politics in the name of Shariat courts,” he said.

FOLLOW THE INDIAN AWAAZ

 

 

TIA BANNER

FIFA 2018: FRANCE IS WORLD CHAMPION FOR 2ND TIME

FIFA 2018: FRANCE IS WORLD CHAMPION BEAT CROATIA 4-2

 The Blues are world champions! 

France win FIFA WORLD CUP in thrilling final with Croatia

France win World Cup for second time, after winning in 1998
Deschamps third person to win the World Cup as both player & manager
Mandzukic gave France lead with first World Cup final own goal
Pogba & Mbappe score for France before Lloris gifts Mandzukic goal

Valiant Croatia are runners-up, their best-ever World Cup finish
Deschamps becomes third man to win Trophy as player and manager

Well done France, a victory for immigrants as 7 of the French players were from Africa.- Vivek Shukla

 

Whole France is jubilant today as it has created history once again. France beat Croatia 4-2 and won the second World Cup in its history. earlier she won the world cup in 1998.

Dominated for a large part of the game, the Blues have almost always led the score. And for that, they enjoyed two firsts at this stage of the competition, which had never been seen in any of the previous twenty editions.

If the Croatians reacted quickly thanks to Ivan Perisic, author of a superb shot, it is another first that changed the course of the meeting: the call to the video assistance to know if the same Perisic was indeed the author of a hand foul in the penalty area. After the French complaints to the referee, Nestor Pitana went to the screen off the field to return a few long seconds later, and give a penalty. Antoine Griezmann did not pray to transform the offering and give an unexpected advantage to his team at half-time (2-1).

Earlier in the tournament, France was the first team to receive a penalty after the call to video refereeing. It was against Australia, and Antoine Griezmann, already, had scored the first French goal of the competition.

In 2014, France was the first to benefit from the goal-line technology to validate a goal from Karim Benzema against Honduras. It was also the first nation to have a golden goal in the World Cup, when Laurent Blanc eliminated Paraguay in the eighth-finals of the 1998 World Cup. The French had also participated in the first session of the World Cup. In 1982, Lucien Laurent scored the first goal in the history of the World Cup against Mexico in 1930.

additional input from FIFA, Le Monde

Trump has low expectations from his meeting with Putin

PUTIN TRUMP

file photo

WEB DESK

US President Donald Trump has said he has low expectations for his meeting with Russian counterpart Vladimir Putin in Finland tomorrow. However, he told CBS News that nothing bad and maybe some good would come out of the meeting.

Mr Trump also said, he would raise the subject of 12 Russians indicted for alleged hacking during the 2016 US election.

Russia has denied the hacking allegations.

There have been calls in the US for Mr Trump to cancel his meeting with Mr Putin over the indictments, announced on Friday by US Deputy Attorney General Rod Rosenstein.

India revised travel agreement with Bangladesh

AMN / DHAHAKA

India today signed a revised travel agreement with Bangladesh to ease visa restrictions for citizens from the neighbouring country. The agreement was signed between the two countries here in presence of visiting Home Minister Rajnath Singh and his counterpart Asaduzzaman Khan.

According to sources under the Revised Travel Arrangement (RTA)-2018, freedom fighters and elderly Bangladeshi nationals will get five year multiple visa from India. Both leaders also held the 6th Home Minister Level Talks between India and Bangladesh.
Mr Singh offered prayers at Dhakeshwari Temple in Dhaka. He also visited Bangabandhu Museum and paid tributes to the father of the Nation of Bangladesh Sheikh Mujibur Rahman.
Mr Singh had reached Dhaka on Friday on a three-day visit to Bangladesh. The Home Minister called on Bangladesh Prime Minister Sheikh Hasina yesterday and discussed issues of mutual concern, including terrorism. He also inaugurated India’s largest visa centre in the world to reduce the waiting time for applicants.

EU, ASEAN agree to restart process of establishing FTA: Singapore PM

WEB DESK

Singapore Prime Minister Lee Hsien Loong has said, the European Union (EU) and ASEAN have agreed to restart the process of establishing a Free Trade Agreement (FTA) between them.

Mr.Lee said that Singapore hopes to establish a framework to identify areas with potential to work out deals. Singapore takes over as the ASEAN coordinator for ASEAN-EU relations after August.

Mr. Lee was speaking to the media after attending France’s National Day Parade in Paris yesterday, where he was the guest of honour.

On July 14 every year, France holds a military parade in Paris to commemorate the storming of the Bastille prison in Paris in 1789, and the beginning of the French Revolution. Every year, France invites a country to participate in its National Day Parade.

NDA govt is working to improve lives of farmers: PM Modi

AMN / MIRZAPUR

Prime Minister Narendra Modi today said that the NDA government was working hard to improve the lives of farmers. Mr Modi said, sharp increase in Minimum Support Price of Kharif crops and easy availability of fertilisers were some of the steps his government has taken to improve the condition of farmers.

Addressing a rally here today after inaugurating the Bansagar canal project and 100 Jan Ausadhi Kendras, Prime Minister said, the day was not very far when farmers’ income will get doubled compared to their present income.
Mr Modi also laid the foundation stone of Mirzapur medical college.

Prime Minister said, because of untiring efforts of the NDA government at the Centre and Yogi Adityanath government in Uttar Pradesh that Bansagar project was completed. Mr Modi said this project will provide a big boost to irrigation and will be greatly beneficial to the farmers of Mirzapur and Allahabad districts.

Prime Minister accused the previous governments headed by opposition parties of neglecting the people and not completing development projects on time. He said those shedding crocodile tears for farmers today should be asked as to why they did not complete irrigation projects which were left incomplete throughout the nation during their tenure. Mr Modi said after the BJP-NDA government assumed office, the development work in Purvanchal has been accelerated and its results can be seen by everyone today. Prime Minister said his government visualises a new India that takes full care of the sick, the poor, the children, the youth and the farmers.

Chhattisgarh: 2 security personnel killed, 1 injured in Maoist attack

AMN

Two security personnel were killed and one injured in a Maoist attack in Kanker district today. Kanker SP KL Dhruv said, Maoists ambushed a BSF team in Mahla forest in Pratappur area. The BSF team was on a search operation in the area.

Martyred jawans belong to 114th battalion of BSF. The injured jawan has been airlifted to the state capital Raipur for better treatment.
Additional forces have been rushed to the spot.

13 Indian boxers enter final of Golden Glove of Vojvodina youth tournament at Subotica

boxing

As many as 13 Indian boxers including 6 women have entered final of Golden Glove of Vojvodina youth tournament at Subotica in Serbia last night. The women who made the final included reigning youth world champion Jyoti Gulia, who out-punched Russian Liubov Makeeva 5-0 in her semifinal bout.

Among the men, Akash Kumar (56kg), Ankit (60kg), Akash (64kg), Vijaydeep (69kg), and Nitin Kumar (75kg) entered the final. Akash Kumar defeated Scotland’s John Casey 5-0 and Ankit also had little trouble going past Hungary’s Alex Jakab. In the 64kg category, the other Akash blanked Poland’s Daniel Piotrowski 5-0. Vijaydeep too pulled off a unanimous verdict in his clash against local favourite Milan Vrankovic. In the middleweight division, Nitin sent packing another crowd favourite in Filip Dzinic with a 5-0 win. S Barun Singh (49kg) and Aman (91kg) had made their way to the finals by clinching their respective bouts.
Among the women, Nitu (48kg) took less than two rounds to force Russian Kseniia Beschastnova out of the competition. Divya Pawar (54kg) clinched a similar result against another Russian, Mariia Med, while Manisha (64kg) faced a slight challenge Diana Rys, also from Russia, before prevailing 4-1. Lalita (69kg) defeated Poland’s Patrycja Borys 4-1. Neha Yadav (81kg) got a direct entry into the final due to the small size of the draw in her weight category.
Settling for bronze medals were Saskhi (51kg), Sakshi Gaidhani (81kg) and Bhavesh Kittamani (52kg) after losing their respective semifinals bouts.

7 COMMENTS
In Karnataka, one person was killed in Salem. Another – a 26-year-old labourer from Rajasthan – was beaten to death in state capital Bengaluru.

Another lynching : Techie killed by Mob in Karnataka After WhatsApp Rumours

lynchinh hyderbad

Photo- Siasat

Web Desk

Bidar/ Karnatka

In another ghastly incident, a 32-year-old software engineer was beaten to death and four others – one of them a Qatari national — were seriously injured over WhatsApp-driven rumours of child kidnapping in Karnataka’s Bidar.

The police said the mob frenzy started after the man from Qatar was seen distributing chocolates to local children. The police have arrested 32 people.

The techie, Mohammad Azam, had gone for a drive on Friday with four others when they were stopped at the roadside. Mr Azam’s friend Mohammad Salam, who was from Qatar, was seen handing chocolates to children.

Rumours of child lifting were doing the rounds in the area and seeing the chocolates being handed out, residents of a nearby village, Murki, sent messages on a WhatsApp group.

Soon, a large crowd gathered and started an argument and taking videos. Panicking, the men got into their car and drove away. Some of the villagers chased them on motorcycles, said the police. Some way off, the speeding car hit one of the motorcycles and fell into a culvert.

As the crowd caught up, the men were dragged out of the car and brutally beaten up, said eye witnesses. Hundreds of villagers gathered but none came to their rescue. By the time the police arrived, Mohammad Azam had died. The others were taken to the hospital in Hyderabad.

“They had gone out for a drive. My brother gave chocolates to children. We don’t know what their parents thought but several villagers gathered and beat them. How can they think they were kidnappers?” said Mohammad Azam’s brother Akram. Appealing to the government to stop mob killings, Akram said, “My brother was a software engineer, father of a 2-year-old. He was just a regular guy”.

The other four – cousins and friends of Mr Azam — were badly injured. One of them is fighting for his life at a local hospital.

Among the 32 arrested for the killing, one is the administrator of the WhatsApp group. There were also women among those arrested, sources said.

More than 20 people have been killed across India over fake WhatsApp rumours. The last such incident took place in Maharashtra’s Dhule, where five people were killed. The WhatsApp videos that had triggered the attack were fake – one of them was a five-year-old video from Syria that had photographs of children who died in a nerve gas attack.