Last Updated on November 8, 2026 12:51 am by INDIAN AWAAZ

صنفی مساوات اور تنوع کاروباری اداروں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ کاروباری دنیا میں خواتین کی بڑی تعداد اب اعلیٰ عہدوں تک پہنچ رہی ہے تاہم اس پیش رفت کو برقرار رکھنے اور مزید آگے بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ بعنوان ‘کاروبار اور انتظامی شعبوں میں خواتین: کامیابیوں کو وسعت دینے کی ضرورت‘ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 سے 2025 کے دوران ایسے کاروباری اداروں کی شرح 13.1 فیصد سے بڑھ کر 30.1 فیصد ہو گئی تھی جن کے بورڈ کی سربراہی کسی خاتون کے پاس ہے۔ اسی عرصہ میں خواتین چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) والے اداروں کی شرح بھی 23.5 فیصد سے بڑھ کر 28.2 فیصد تک پہنچ گئی۔
تاہم مجموعی طور پر انتظامی عہدوں پر خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے اور ان میں خواتین کا حصہ تقریباً ایک تہائی ہے۔ اس عرصہ میں اعلیٰ انتظامی سطح پر صنفی توازن میں بہتری آئی لیکن نچلے اور درمیانی سطح کے انتظامی عہدوں پر یہ تناسب کم ہو گیا ہے۔
مساوات اور تنوع کے فوائد
یہ رپورٹ 99 ممالک کے 11 ہزار 957 کاروباری اداروں کے جائزوں پر مبنی ہے جو گزشتہ سال لیے گئے۔ علاوہ ازیں، 2013 اور 2018 کے جائزوں، گزشتہ 30 برس کے دوران محنت کی منڈی کے اعداد و شمار، دیگر تحقیقی جائزوں اور مختلف کاروباری اداروں کی مثالوں کو بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال کے جائزے میں تقریباً 70 فیصد کاروباری اداروں نے بتایا کہ صنفی مساوات اور تنوع کو فروغ دینے کے اقدامات سے ان کی کاروباری کارکردگی بہتر ہوئی۔ جن اداروں نے انتظامی عہدوں پر خواتین کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات کے نتیجے میں منافع بڑھنے کی اطلاع دی ان میں سے 87.4 فیصد نے منافع میں کم از کم پانچ فیصد اضافے کی تصدیق کی۔
تاہم ایک نمایاں تضاد بھی سامنے آیا۔ 2025 میں تقریباً تین چوتھائی یعنی 74.8 فیصد اداروں نے بتایا کہ ان کے ہاں صنفی مساوات اور تنوع سے متعلق پالیسی یا اس کے مساوی کوئی نظام موجود ہے لیکن ان پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے والے اداروں کی شرح صرف 26.5 فیصد رہی جو 2018 میں 37.4 فیصد تھی۔
خواتین کی صلاحیتوں سے استفادہ
‘آئی ایل او‘ نے نشاندہی کی ہے کہ خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں خواتین کے داخلوں کی شرح مردوں کے مقابلے میں بڑھنے کے باوجود کاروباری دنیا میں انہیں اب بھی خاطرخواہ نمائندگی حاصل نہیں ہے۔ ان میں ایسے کاروباری شعبے اور ذمہ داریاں بھی شامل ہیں جو خواتین کے لیے اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پہنچنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ادارے میں آجروں سے متعلق شعبے کی ڈائریکٹر ماریا پاز انزوریگوئے نے کہا ہے کہ ایسے وقت جب کاروباری ادارے ہنرمند اور باصلاحیت افراد کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہ اٹھانا کاروباری نقطہ نظر سے کسی طور دانش مندانہ فیصلہ نہیں۔
‘آئی ایل او’ کی سفارشات
رپورٹ میں اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، ان کی کم نمائندگی والے عہدوں اور شعبوں تک رسائی بہتر بنانے اور صنفی اعداد و شمار کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ رضاکارانہ اہداف مقرر کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹ میں کام کی جگہ سے باہر ان بنیادی رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے جو خواتین کی پیشہ وارانہ ترقی میں حائل ہیں۔ ان میں گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی غیر مساوی ذمہ داریاں، پیشوں اور شعبوں میں صنفی تقسیم اور معاشرے میں رائج دقیانوسی رویے شامل ہیں۔
