Last Updated on November 6, 2026 11:41 pm by INDIAN AWAAZ
محمد نعمان اشرف صدر اور محمد حمدان اعزازی سکریٹری منتخب،

علی گڑھ، نمائندہ خصوصی
علی گڑھ: آٹھ سالہ طویل انتظار، مسلسل احتجاج اور طلبہ کی بھوک ہڑتال کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ جمعہ کی صبح اعلان کردہ انتخابی نتائج نے نہ صرف کیمپس میں جمہوری طلبہ سیاست کی واپسی پر مہر ثبت کی بلکہ خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی تاریخ رقم کردی۔ تاریخ کے ریسرچ اسکالر محمد نعمان اشرف صدر منتخب ہوئے، جبکہ قانون کی طالبہ نشرہ نعیم نے پہلی خاتون نائب صدر بن کر یونیورسٹی کی سو سال سے زائد قدیم طلبہ یونین میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انجینئرنگ کے طالب علم محمد حمدان نے اعزازی سکریٹری کا عہدہ جیتا۔
یہ انتخابات کیمپس میں تقریباً 20 روز تک جاری رہنے والی طلبہ تحریک، احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعد منعقد ہوئے۔ طلبہ طویل عرصے سے منتخب طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
نعمان اشرف کو 7,797 ووٹ
ووٹوں کی گنتی جمعرات کی شام شروع ہوئی اور پوری رات جاری رہی۔ جمعہ کی صبح انتخابی نتائج کا اعلان کیا گیا۔ صدر کے عہدے پر محمد نعمان اشرف نے 7,797 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے قریبی حریف محمد انتخاب کو 3,676 ووٹ ملے۔ اس طرح نومان اشرف نے 4,121 ووٹوں کے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
نائب صدر کے عہدے پر نشرہ نعیم نے 7,091 ووٹ حاصل کرکے کامیابی درج کی۔ ان کے مقابل امیدوار ثاقب علی خان کو 5,818 ووٹ ملے۔ نشرہ نعیم نے 1,273 ووٹوں کے فرق سے یہ انتخاب جیتا۔
اعزازی سکریٹری کے عہدے پر محمد حمدان نے 8,385 ووٹ حاصل کیے، جو تینوں اہم عہدوں پر کامیاب امیدواروں میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے حریف احمد فراز رازی کو 6,882 ووٹ ملے۔ حمدان نے 1,503 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
نشرہ نعیم کی تاریخی کامیابی

نشرہ نعیم کی کامیابی کو اے ایم یو کی طلبہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ یونیورسٹی کی 100 سال سے زیادہ پرانی طلبہ یونین کی تاریخ میں تین مرکزی عہدوں میں سے کسی ایک پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
انتخابات میں خواتین کی مجموعی کامیابی بھی قابل ذکر رہی۔ خواتین امیدواروں نے یونین کی کابینہ کی 10 نشستوں میں سے پانچ پر کامیابی حاصل کی۔ اس طرح صدر، نائب صدر اور اعزازی سکریٹری سمیت یونین کے 13 منتخب عہدوں میں خواتین کی نمائندگی چھ ہوگئی ہے۔
74.65 فیصد طلبہ نے ووٹ ڈالے
انتخابات میں طلبہ کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ یونیورسٹی کے مطابق 20,754 ووٹروں میں سے 15,523 نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس طرح ووٹنگ کا تناسب 74.65 فیصد رہا۔ کیمپس میں 13 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔
طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر احتجاج 21 ستمبر سے شروع ہوا تھا۔ مظاہرین نے منتخب طلبہ یونین کی بحالی، انتخابات کی تاریخ کے اعلان اور پروکٹوریل انتظامیہ میں تبدیلی سمیت کئی مطالبات پیش کیے تھے۔ طلبہ رہنما یاسر فہد نے اس دوران غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی کی۔ بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ نے 9 اکتوبر کو انتخابی شیڈول جاری کیا، جس کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔ انتظامیہ نے محمد نوید خان کی جگہ محمد نفیس احمد انصاری کو نیا پروکٹر بھی مقرر کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انتخابات کے پرامن انعقاد اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق انتخابی عمل کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
ویمنز کالج یونین کے نتائج

یونیورسٹی کے ویمنز کالج طلبہ یونین کے نتائج بھی جاری کیے گئے۔ انام ریاض صدر، عائشہ خان نائب صدر اور مریم جاں اعزازی سکریٹری منتخب ہوئیں۔
آٹھ سال بعد طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ اب نومنتخب نمائندوں کے سامنے طلبہ کے تعلیمی مسائل، کیمپس میں سہولتوں کی بہتری، فلاح و بہبود اور یونیورسٹی کے فیصلہ سازی کے عمل میں طلبہ کی مؤثر شرکت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہوگی۔
