Last Updated on November 5, 2026 10:54 pm by INDIAN AWAAZ

غازی آباد کی صبا حیدر اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی نبیلہ سید کی شاندار انتخابی کامیابی، امریکی سیاست میں جنوبی ایشیائی خواتین کی بڑھتی نمائندگی کا روشن باب

عندليب اختر

امریکہ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں دو ہندوستانی نژاد مسلم خواتین کی شاندار کامیابی نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں آباد ہندوستانی تارکین وطن کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ اتر پردیش کے غازی آباد سے تعلق رکھنے والی صبا حیدر اور حیدرآباد سے آبائی رشتہ رکھنے والی محض 27 سالہ نبیلہ سید نے ریاست الینوائے میں کامیابی حاصل کرکے امریکی سیاست میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔

ان دونوں کی کامیابی محض انتخابی جیت نہیں بلکہ تعلیم، محنت، عزم اور سماجی جدوجہد کی ایسی کہانی ہے جو سرحدوں سے آگے بڑھ کر نئی نسل کی خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی طلائی تمغہ یافتہ سابق طالبہ صبا حیدر نے ریاستی ایوانِ نمائندگان میں جگہ بنائی، تو دوسری طرف نبیلہ سید نے 27 برس کی عمر میں الینوائے کی سینیٹ کی نشست جیت کر اپنی سیاسی کامیابی کا ایک نیا باب رقم کیا۔

یہ کامیابیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ میں تارکین وطن، نسلی تنوع، مذہبی شناخت اور اقلیتوں کی سیاسی نمائندگی جیسے موضوعات پر بحث جاری ہے۔ ایسے ماحول میں دو مسلم خواتین کا عوامی اعتماد حاصل کرکے قانون ساز اداروں تک پہنچنا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

صبا حیدر: غازی آباد سے امریکی قانون ساز اسمبلی تک کا سفر

صبا حیدر کی کامیابی نے ہندوستان کے تعلیمی حلقوں، خصوصاً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد کو بھی فخر کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے الینوائے کے ہاؤس ڈسٹرکٹ 84 سے ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور اپنے ریپبلکن حریف، ریٹائرڈ نیوی کمانڈر برائن اسکوپا کو بڑے فرق سے شکست دی۔ انہیں تقریباً 71.8 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

اس کامیابی کے ساتھ صبا حیدر الینوائے کی جنرل اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی تارک وطن خاتون بن گئی ہیں۔ ان کی یہ کامیابی امریکی سیاست میں تارکین وطن خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی ایک اہم مثال ہے۔

غازی آباد میں پیدا ہوئیں اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والی صبا کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں تعلیم کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ ان کے والد سید علی حیدر اتر پردیش جل نگم میں سینئر انجینئر کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ ان کی والدہ ایک نجی اسکول کا انتظام سنبھالتی تھیں اور تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں۔

صبا نے غازی آباد کے ہولی چائلڈ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور آر جی گرلز کالج سے بی ایس سی کی ڈگری طلائی تمغے کے ساتھ حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وائلڈ لائف سائنسز میں ایم ایس سی کیا اور یہاں بھی گولڈ میڈل حاصل کیا۔

تقریباً دو دہائی قبل وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ منتقل ہوگئیں۔ ان کے شوہر سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور عالمی بینک سے وابستہ ہیں۔ امریکہ میں نئی زندگی شروع کرنے کے باوجود صبا نے سماجی سرگرمیوں اور عوامی مسائل سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔

انہوں نے مقامی سطح پر کمیونٹی کے مسائل پر کام کرتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا اور ڈوپیج کاؤنٹی بورڈ کی رکن منتخب ہوئیں۔ اس تجربے نے انہیں مقامی حکومت، عوامی نمائندگی اور مختلف طبقات کے مسائل کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

مارچ میں انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں 63 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے ڈسٹرکٹ 84 سے پارٹی کی نامزدگی حاصل کی۔ اس کے بعد نومبر کے عام انتخابات میں انہیں زبردست کامیابی ملی۔ اس حلقے میں نیپروِل، اورورا، اوسویگو، مونٹگمری، بولڈر ہل اور پلین فیلڈ جیسے علاقے شامل ہیں۔

صبا کی کامیابی کی خبر جب غازی آباد پہنچی تو ان کے آبائی گھر چترگپت وہار میں خوشی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے اسے اپنی بیٹی کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ ایک ایسی طالبہ کا امریکہ میں قانون ساز بننا جس نے ہندوستان میں سائنس کی تعلیم حاصل کی اور اپنی محنت سے اعلیٰ مقام بنایا، یقیناً نئی نسل کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

نبیلہ سید: حیدرآباد سے رشتہ، 27 برس میں سینیٹ تک رسائی

نبیلہ سید کی کامیابی کی کہانی بھی کم متاثر کن نہیں۔ محض 27 برس کی عمر میں انہوں نے الینوائے کے سینیٹ ڈسٹرکٹ 26 سے کامیابی حاصل کرکے امریکی سیاست میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی اور تقریباً 57 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

نبیلہ کے والدین کا تعلق ہندوستان کے شہر حیدرآباد سے ہے۔ ان کا خاندان 1980 کی دہائی میں امریکہ منتقل ہوا تھا۔ نبیلہ کی پرورش الینوائے کے شہر پالٹائن میں ہوئی، تاہم بچپن میں وہ کئی مرتبہ حیدرآباد بھی آتی رہی ہیں اور اپنے خاندانی وطن سے ان کا تعلق برقرار رہا۔

انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پولیٹیکل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگریاں حاصل کیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ایک غیر منافع بخش ادارے میں ڈیجیٹل حکمت عملی کے شعبے سے وابستہ رہیں اور شہری و جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں۔

نبیلہ نے صرف 23 برس کی عمر میں 2022 کے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار کرس بوس کو شکست دے کر الینوائے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی نشست جیتی تھی۔ اس وقت وہ ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والی کم عمر ترین خواتین میں شامل ہوگئیں اور پہلی مسلم و جنوبی ایشیائی خواتین میں سے ایک کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ 2024 میں دوبارہ انتخاب جیت کر انہوں نے اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط کی۔

ریاستی اسمبلی میں ان کی توجہ صحت کی سہولتوں کو عام لوگوں کی پہنچ میں لانے، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے، خواتین کی صحت، تعلیم اور جمہوری عمل میں عوام کی شرکت بڑھانے جیسے معاملات پر رہی ہے۔ ان کی قانون سازی کی کوششوں میں چھاتی کے سرطان کی جانچ کی سہولتوں کو بہتر بنانے، اعضا عطیہ کرنے والوں کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹی اور 16 سالہ نوجوانوں کو ووٹر کے طور پر پیشگی اندراج کی اجازت دینے جیسے اقدامات شامل رہے ہیں۔

ایک مسلم خاتون کی حیثیت سے نبیلہ نے امریکہ میں مذہبی تعصب اور امتیازی سلوک کے اپنے تجربات پر بھی کھل کر بات کی ہے۔ وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دے چکی ہیں اور اسرائیل کی امریکی حمایت کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان کے یہ خیالات ان کی سیاسی شناخت اور بین الاقوامی امور پر ان کے موقف کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

ریاستی ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے بعد اب سینیٹ تک ان کی رسائی ان کے سیاسی سفر میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ تارکین وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل امریکی سیاست اور قانون سازی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے آگے آرہی ہے۔

دو کامیابیاں، ایک بڑا پیغام

صبا حیدر اور نبیلہ سید کی کامیابیاں دو الگ الگ نسلوں اور سیاسی سفر کی نمائندگی کرتی ہیں، لیکن دونوں کی کہانی میں ایک قدر مشترک ہے: تعلیم، سماجی خدمت اور عوامی مسائل سے وابستگی۔

صبا حیدر نے مقامی حکومت میں کام کرتے ہوئے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کی اور اب ریاستی اسمبلی تک پہنچی ہیں۔ دوسری طرف نبیلہ سید نے کم عمری میں انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور مسلسل کامیابیوں کے بعد ریاستی سینیٹ میں جگہ بنائی۔

مسلم خواتین کے لیے ان کی کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ امریکی معاشرے میں مذہبی شناخت اور اقلیتی نمائندگی پر بحث کے باوجود انہوں نے عوامی حمایت حاصل کرکے ثابت کیا کہ سیاسی قیادت کا راستہ کسی مذہب، نسل یا خاندانی پس منظر تک محدود نہیں۔

ان دونوں نے صحت، تعلیم، مہنگائی، عوامی فلاح اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو اپنی سیاست کا حصہ بنایا ہے۔ ان کی کامیابی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ ہندوستانی نژاد تارکین وطن اب امریکہ کی معاشی اور سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور قانون ساز اداروں میں بھی اپنی جگہ مضبوط کررہے ہیں۔

غازی آباد کی گلیوں سے امریکہ کے ایوانِ قانون سازی تک صبا حیدر کا سفر ہو یا حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے خاندان کی بیٹی نبیلہ سید کا 27 برس کی عمر میں سینیٹ تک پہنچنا، دونوں کہانیاں اس بات کا پیغام دیتی ہیں کہ عزم، قابلیت اور مسلسل محنت کے بل پر نئی منزلیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ صرف دو خواتین کی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستانی نژاد مسلم خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شناخت اور عالمی سطح پر ان کے بدلتے کردار کی ایک روشن مثال ہے۔

Share the Story