Last Updated on November 4, 2026 11:09 pm by INDIAN AWAAZ
سیاہ فام، مسلم، مقامی امریکی اور ہم جنس پرست امیدواروں نے بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرکے امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ ان انتخابات میں کئی ریاستوں میں ایسے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن کی جیت کو مختلف حوالوں سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران سیاہ فام، مسلم، مقامی امریکی اور ہم جنس پرست امیدواروں نے بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر انتخابی نتائج پر نظر رکھی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد تقریباً تین گھنٹے تک انہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم رات تقریباً ساڑھے دس بجے انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’میں انتخابی میدان میں نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بڑی کامیابی حاصل کرتے! اس بات کو ذہن میں رکھنے کے لیے شکریہ۔‘‘
جارجیا میں کیشا لانس باٹمز نے گورنر کا انتخاب جیت کر ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ نیو ہیمپشائر سے کرس پاپاس سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے طور پر ہم جنس پرست مرد رکن ہوں گے۔
مشی گن سے عبدل السید نے کامیابی حاصل کرکے امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن بننے کی تاریخ رقم کی۔ اسی طرح نیو میکسیکو میں ڈیب ہالینڈ گورنر منتخب ہوئیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون ہیں۔
جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز کی کامیابی بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ وہ ریاست سے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ اس ریاست میں کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
کینساس میں ایڈم ہیملٹن نے کامیابی حاصل کرکے 94 برس بعد ریاست سے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹک سینیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو نے سینیٹ کی نشست جیت کر ڈیموکریٹس کو 1988 کے بعد پہلی مرتبہ اس ریاست سے سینیٹ میں کامیابی دلائی۔
ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں جینا ہینوجوسا نے کامیابی حاصل کی۔ وہ ریاست کی پہلی لاطینی نژاد خاتون گورنر ہوں گی۔ ان کی جیت کے ساتھ ہی ٹیکساس میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ریپبلکن پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ بھی ہوگیا۔
اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن نے ریپبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ راماسوامی کی انتخابی مہم کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی حمایت حاصل تھی، تاہم یہ حمایت انہیں کامیابی دلانے میں ناکام رہی۔
انتخابات میں ڈیموکریٹس نے آئیووا، مشی گن، منی سوٹا اور اوہائیو سمیت کئی ریاستوں میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر ان نتائج نے امریکی سیاست میں نئی صف بندی کے امکانات پیدا کردیئے ہیں اور مختلف طبقوں کی نمائندگی کے حوالے سے بھی کئی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔
