Last Updated on November 4, 2026 2:38 pm by INDIAN AWAAZ

AMN

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے 100 رکنی سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل کرکے اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا ہے اور ایوانِ بالا کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں بھی پارٹی نے اکثریت کے لیے درکار 218 نشستوں سے زیادہ یعنی 224 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو اب تک 135 نشستیں ملی ہیں۔ ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی ہے جنہیں روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار اور معالج اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی۔ اس ریاست میں 1998 کے بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے سینیٹ کا انتخاب جیتا ہے۔

پڑوسی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر اپنی پارٹی کو ایک اور اہم نشست دلائی۔

ٹیکساس میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑا سیاسی الٹ پھیر کیا۔ یہاں پارٹی کے امیدوار اور پادری جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار اور ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دے دی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے 1994 کے بعد سے کوئی ریاست گیر انتخاب نہیں جیتا تھا۔

اوہائیو میں ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن نے موجودہ ریپبلکن سینیٹر جان ہسٹڈ کو شکست دی، جبکہ کنساس میں ڈیموکریٹک امیدوار اور پادری ایڈم ہیملٹن نے موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ہرا دیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے مشی گن، آئیووا اور مین سمیت کئی دیگر ریاستوں میں بھی ریپبلکن پارٹی سے سینیٹ کی نشستیں چھین لیں۔ مشی گن میں عبدل السعید کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر بن جائیں گے۔

انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کو قبول کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے ریپبلکن پارٹی کی شکست کو اپنے لیے ذاتی دھچکا ماننے سے بھی انکار کیا۔

اس انتخاب میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں اور 36 ریاستوں میں گورنر کے عہدوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی اس بڑی کامیابی سے امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں آنے کا امکان ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھانے اور اس کے قانون سازی کے ایجنڈے کی مخالفت کرنے کا زیادہ اختیار مل جائے گا۔ صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے باقی دو برسوں میں اس کامیابی کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں ہیں، کہیں سیاسی حریفوں سے براہِ راست مقابلہ تو کہیں کئی جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔

مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں جہاں ان کا مقابلہ 4 امیدواروں سے ہے،کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ بھی اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔

دوسری جانب عام انتخابات میں رشیدہ طلیب کے مدمقابل ری پبلکن جیمز ہوپر سمیت 3 دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی موجودگی کے ساتھ یہ انتخابی مقابلے بھی خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں 3 امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیاAnil ، Luke اور Jessica نے ناسا کے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرونک ووٹ ہیوسٹن خلائی مرکز کو بھیجا، کہا ووٹ کا حق خلا سے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا جبکہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔