Last Updated on November 2, 2026 12:05 am by INDIAN AWAAZ


جاوید اختر
گھروں میں صفائی، کھانا پکانے، بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال سمیت روزمرہ کے متعدد کام انجام دینے والے گھریلو ملازمین عالمی معیشت اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی بڑی تعداد کو مناسب اجرت، ملازمت کے تحفظ اور سماجی سہولتوں سے محرومی کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ محنت آئی ایل اوکی تازہ ترین رپورٹ نے اس شعبے میں غیر رسمی روزگار، کم اجرت اور طویل اوقاتِ کار کے سنگین مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں گھریلو ملازمین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 8 کروڑ ہو گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 8 کروڑ افراد گھریلو ملازمتوں سے وابستہ تھے، جبکہ 2019 میں یہ تعداد 7 کروڑ 56 لاکھ تھی۔ ان میں سے 6 کروڑ 65 لاکھ افراد غیر رسمی ملازمتوں میں کام کر رہے تھے۔ ایسے ملازمین کو دوسرے شعبوں کے کارکنوں کے مقابلے میں مؤثر قانونی تحفظ اور سماجی سہولتیں حاصل نہ ہونے کا امکان دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کروڑوں افراد ایسے روزگار سے وابستہ ہیں جہاں ان کی ملازمت کی شرائط، اجرت، کام کے اوقات اور دیگر حقوق کی ضمانت موجود نہیں۔آئی ایل او کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی روزگار میں گھریلو ملازمتوں کا تناسب تقریباً 2.2 فیصد پر برقرار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 کے بعد اس شعبے میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ بنیادی طور پر مجموعی روزگار میں اضافے کا نتیجہ ہے، نہ کہ گھریلو ملازمتوں کے مجموعی حصے میں کسی بڑی توسیع کا۔
آئی ایل او کی ڈائریکٹر سحرہ رضاوی نے کہا کہ گھریلو ملازمین اکثر استحصال کا شکار رہتے ہیں۔ وہ گھروں کی صفائی، کھانا پکانے، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال اور معذور افراد کی نگہداشت جیسے اہم کام انجام دیتے ہیں، لیکن ان کی خدمات کو عموماً معمول کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے کام کی اہمیت کے باوجود انہیں وہ سماجی اور قانونی حیثیت نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
بھارت میں گھریلو ملازمین کی صورت حال
آئی ایل او کی رپورٹ کے نتائج بھارت کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، جہاں گھریلو ملازمتیں شہری اور نیم شہری علاقوں میں روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں خواتین اور مرد گھروں میں صفائی، برتن دھونے، کھانا پکانے، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی خدمت جیسے کام کرتے ہیں۔ تاہم، اس شعبے کا بڑا حصہ غیر منظم ہے اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو تحریری معاہدے، مقررہ اوقاتِ کار، باضابطہ چھٹیوں اور ملازمت کے تسلسل کی ضمانت حاصل نہیں ہوتی۔بھارت میں گھریلو ملازمتوں سے وابستہ خواتین کی بڑی تعداد دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں سے بڑے شہری مراکز کا رخ کرتی ہے۔ ان میں غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے علاوہ ایسی خواتین بھی شامل ہیں جن کے لیے گھریلو کام خاندان کی آمدنی میں حصہ ڈالنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بعض خواتین ایک ہی گھر میں پورا دن کام کرتی ہیں، جبکہ بہت سی خواتین صبح سے شام تک مختلف گھروں میں چند گھنٹے کام کرکے اپنی روزانہ کی آمدنی جمع کرتی ہیں۔
گھریلو ملازمین کی مشکلات صرف کم اجرت تک محدود نہیں ہیں۔ بہت سی خواتین کو کام کی جگہ پر بدسلوکی، توہین آمیز رویے اور ملازمت سے اچانک برطرف کیے جانے جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ بیشتر ملازمتیں نجی گھروں میں ہوتی ہیں، اس لیے کام کے حالات کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔بھارت میں گھریلو ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن اس شعبے کو جامع قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن، کم از کم اجرت کے مؤثر نفاذ، کام کے اوقات کا تعین، ہفتہ وار چھٹی اور سماجی تحفظ کی سہولتوں کو یقینی بنانا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔
دیگر ملازمین کے مقابلے میں نصف اجرت
رپورٹ کے مطابق، 2019 کے بعد اجرتوں کا یہ فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جو اس شعبے میں معاشی عدم مساوات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔کم اجرت کے ساتھ طویل اوقاتِ کار بھی گھریلو ملازمین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک تہائی سے زیادہ گھریلو ملازمین ہفتے میں کم از کم 49 گھنٹے کام کرتے ہیں، جبکہ 15 فیصد ایسے ہیں جنہیں ہفتے میں 60 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت کام کرنا پڑتا ہے۔اس کے برعکس ایسے ملازمین کی تعداد بھی قابل ذکر ہے جنہیں بہت کم وقت کے لیے کام ملتا ہے اور اس کے عوض معمولی اجرت ادا کی جاتی ہے۔ انہیں اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد گھروں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ایک طرف طویل اوقاتِ کار کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف ناکافی روزگار اور غیر یقینی آمدنی بھی ان کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
خواتین سب سے زیادہ متاثر
گھریلو ملازمتوں میں خواتین کا تناسب دنیا بھر میں 77.2 فیصد ہے۔ ان کی بڑی تعداد صفائی، کھانا پکانے، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی خدمت جیسے کاموں سے وابستہ ہے۔ اس شعبے میں خواتین کی نمایاں موجودگی کے باوجود انہیں مردوں اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کے ملازمین کے مقابلے میں کم اجرت اور محدود سماجی تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارت جیسے ممالک میں یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ آمدنی حاصل کرنے کے لیے بھی کام کرتی ہے۔ کئی خواتین اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے بعد دوسروں کے گھروں میں ملازمت کرتی ہیں۔ اس طرح انہیں دوہری ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں، لیکن ان کی محنت کا معاشی اور سماجی اعتراف اکثر نہیں کیا جاتا۔
آئی ایل او کنونشن 189 اور قانونی تحفظ کی ضرورت
رپورٹ میں بعض مثبت پیش رفتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس کنونشن کا بنیادی مقصد گھریلو ملازمین کے لیے باعزت روزگار، مناسب کام کے حالات اور دیگر کارکنوں کے مساوی بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔اس کے ساتھ ہی گھریلو ملازمین کو صحت بیمہ، پنشن اور دیگر سماجی فلاحی اسکیموں سے جوڑنے کے لیے مؤثر رجسٹریشن کا نظام بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر خواتین گھریلو ملازمین کے لیے زچگی کے دوران تحفظ اور کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچاؤ کے انتظامات اہم ہیں۔مجموعی طور پر آئی ایل او کی رپورٹ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ گھریلو ملازمین کی خدمات کے بغیر شہری زندگی اور لاکھوں خاندانوں کے روزمرہ معمولات کا تصور مشکل ہے۔ اس کے باوجود ان کی محنت کو اکثر باقاعدہ روزگار کا درجہ اور اس سے وابستہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ بھارت سمیت دنیا بھر کے ممالک کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ گھریلو کام کو محض نجی گھروں کی ایک ضرورت سمجھنے کے بجائے اسے ایک باقاعدہ معاشی سرگرمی تسلیم کیا جائے اور اس سے وابستہ افراد کو بھی باعزت روزگار، مناسب اجرت اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔