Last Updated on November 1, 2026 11:59 pm by INDIAN AWAAZ
ورلڈ بینک کی رپورٹ: غربت میں بڑی کمی، مگر چیلنج اب بھی باقی!

عندلیب اختر
بھارت میں غربت کے حوالے سے ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ نے ایک مثبت تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2023 کے درمیان تقریباً 49.6 کروڑ افراد ورلڈ بینک کی نچلی متوسط آمدنی والی غربت کی حد (روزانہ 4.20 ڈالر) سے اوپر آ گئے۔ اسی عرصے میں غربت کی شرح 57.7 فیصد سے کم ہو کر 16.1 فیصد رہ گئی، جبکہ انتہائی غربت 27.1 فیصد سے گھٹ کر 2.6 فیصد تک پہنچ گئی۔
یہ اعداد و شمار بلاشبہ بھارت کی معیشت، روزگار کے مواقع اور سماجی بہبود کے پروگراموں میں پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صارفین کے اخراجات میں اضافہ، خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی شمولیت اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سماجی امداد، خصوصاً غذائی سبسڈیز، غربت میں کمی کے اہم عوامل رہے ہیں۔ 2017 سے 2023 کے درمیان ملک میں 13.4 کروڑ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، جن میں دیہی خواتین کا کردار نمایاں رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے مالیاتی اور غیر مالیاتی دونوں پیمانوں پر غربت کم کرنے میں دنیا کی تیز ترین پیش رفت کرنے والے ممالک میں جگہ بنائی ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے رپورٹ کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مسلسل پالیسی کوششوں سے جامع ترقی اور معاشی مواقع کو فروغ مل رہا ہے۔عالمی بینک نے غربت کی پیمائش کے لیے فی کس یومیہ 4.20 ڈالر کی حد مقرر کی ہے، جو 2021 کی قوتِ خرید کی برابری (پی پی پی) پر مبنی ہے۔ اس سے کم آمدنی والے افراد کو کم متوسط آمدنی والے ممالک کے معیار کے مطابق غریب شمار کیا جاتا ہے۔ انتہائی غربت کے لیے یومیہ 3 ڈالر کی حد استعمال کی گئی ہے۔ یہ بین الاقوامی پیمانے ہیں اور انہیں موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق بھارتی روپے میں براہ راست تبدیل کرکے نہیں سمجھنا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق، غربت میں کمی کے اہم اسباب میں گھریلو کھپت میں اضافہ، روزگار کے مواقع میں توسیع، خصوصاً خواتین کی ملازمتوں میں اضافہ، اور غذائی سبسڈی سمیت سرکاری سماجی امدادی اسکیموں کا دائرہ وسیع ہونا شامل ہیں۔
رپورٹ میں روزگار کے محاذ پر بھی بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2017 سے 2023 کے درمیان بھارت میں ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد میں 13.4 کروڑ کا اضافہ ہوا، جو اسی عرصے میں کام کرنے کی عمر والی آبادی میں اضافے سے تقریباً دو گنا تھا۔ اس اضافے میں دیہی خواتین کا نمایاں حصہ رہا، جنہوں نے اجرت پر کام کرنا شروع کیا اور اپنے خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا۔
عالمی بینک کے مطابق، دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں گھریلو فلاح و بہبود کے اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم دیہی علاقوں میں پیش رفت نسبتاً تیز رہی، جس سے دیہی اور شہری آبادی کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد ملی۔ 2022 کے سروے کے مطابق، ملک کی 99 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت حاصل ہو چکی تھی۔
رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ غربت میں کمی کے باوجود معاشی عدم مساوات اور اجرتوں کا فرق اہم چیلنج ہیں۔ 2023 میں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے 10 فیصد ملازمین کی اوسط درمیانی اجرت، سب سے کم آمدنی والے 10 فیصد ملازمین کے مقابلے میں تقریباً 13 گنا زیادہ تھی۔
تاہم ان کامیابیوں کے باوجود تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ اگرچہ کروڑوں افراد سرکاری پیمانوں کے مطابق غربت کی لکیر سے اوپر آئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ اور پردھان منتری غریب کلیان اَن یوجنا کے تحت تقریباً 80 کروڑ افراد حکومت سے مفت یا انتہائی رعایتی اناج حاصل کر رہے ہیں۔ یہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی بہتری کے باوجود ملک کی ایک بڑی آبادی ابھی بھی غذائی تحفظ کے لیے ریاستی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ بھی تسلیم کرتی ہے کہ غربت اب اُن گھرانوں میں زیادہ مرتکز ہے جہاں تعلیم کی سطح کم ہے، آمدنی کے ذرائع غیر مستحکم ہیں، اثاثے محدود ہیں اور خاندان کے کفیل افراد کی تعداد کم ہے۔ مزید برآں، آمدنی میں عدم مساوات ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں سب سے زیادہ کمانے والے 10 فیصد کارکنوں کی اوسط آمدنی، نچلے 10 فیصد کارکنوں کی آمدنی سے تقریباً 13 گنا زیادہ تھی۔
دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق میں اگرچہ کمی آئی ہے، لیکن معیارِ زندگی، صحت، تعلیم اور باوقار روزگار تک رسائی میں نمایاں تفاوت برقرار ہے۔ اس تناظر میں صرف غربت کی لکیر سے اوپر آ جانا معاشی خوشحالی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ چند ڈالر روزانہ کمانے والا شخص سرکاری تعریف کے مطابق غریب نہ ہو، لیکن وہ کسی بیماری، روزگار کے نقصان یا مہنگائی کے جھٹکے سے دوبارہ غربت میں جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ورلڈ بینک کی رپورٹ بھارت کے لیے ایک اہم کامیابی کی نشاندہی کرتی ہے، مگر یہ کامیابی ابھی نامکمل ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا ملک کروڑوں لوگوں کو سرکاری غذائی امداد پر انحصار سے نکال کر پائیدار روزگار، بہتر آمدنی اور سماجی تحفظ فراہم کر پاتا ہے یا نہیں۔ غربت میں کمی قابلِ ستائش ہے، لیکن ایک ایسی معیشت جہاں کروڑوں افراد اب بھی مفت راشن کے محتاج ہوں، وہاں ترقی کے دعووں کے ساتھ زمینی حقیقتوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔مجموعی طور پر عالمی بینک کی رپورٹ بھارت میں غربت میں نمایاں کمی کی تصدیق کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی واضح کرتی ہے کہ اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر اجرت، مستحکم روزگار، تعلیم اور سماجی تحفظ تک وسیع رسائی ضروری ہوگی۔ AMN
