Last Updated on October 31, 2026 9:18 pm by INDIAN AWAAZ

عندليب اختر / نئی دہلی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنی مہم تیز کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد انڈیا نے ہفتہ کو نئی دہلی میں منعقدہ فرضی پارلیمنٹ (موک پارلیمنٹ) میں ان کے خلاف ’عوامی مواخذے‘ کی علامتی کارروائی کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف مواخذے کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ اس پروگرام کی صدارت لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے کی۔ کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے وہاں موجود رہنماؤں نے ہاتھ اٹھا کر منظور کیا۔ اس پروگرام میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ، سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا، ’’میں گیانیش کمار کے مواخذے کی تجویز کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اس اجتماع کو ان لوگوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار قرار دیا جن پر اپوزیشن ملک کے انتخابی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 250 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر بحث کے لیے کھڑگے کی رہائش گاہ کے باغیچے میں بیٹھنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ان کے لیے پارلیمنٹ اور دیگر ادارہ جاتی فورم پر اپنی بات رکھنے کے راستے بند ہیں۔ راہل نے کہا، ’’یہ غیر معمولی صورت حال ہے کہ پورا اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے پر بات کرنے کے لیے باغیچے میں بیٹھا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی یہ مہم جاری رہے گی اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔

کھڑگے نے اپنے خطاب میں چیف الیکشن کمشنر پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ہدایت پر کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اس پہل کا مقصد کسی شخص سے ذاتی دشمنی نکالنا نہیں، بلکہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور ایک آئینی ادارے کے وقار کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن کو آئین کی روح کے مطابق کام کرنا چاہیے تاکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔

کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ سات ماہ قبل اپوزیشن کے 193 ارکان پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے نوٹس دیے تھے، لیکن انہیں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ طور پر 13.2 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کیے جانے سمیت چھ الزامات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور طبقات، خواتین اور نوجوانوں کے حق رائے دہی کو کسی کمپیوٹرائزڈ عمل کے ذریعے ان کی معلومات کے بغیر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد ووٹر کا حق ہے۔ اگر کسی ایک ووٹر کو بھی اپنا ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے تو اس سے جمہوریت کی بنیاد متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد اس معاملے پر آئندہ بھی غور و خوض کرے گا اور راجیہ سبھا میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی تجویز لانے کی سمت میں قدم اٹھائے گا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے نوٹس قبول نہ کیے جانے کے باعث فرضی پارلیمنٹ منعقد کرنے کی نوبت آئی۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور پارلیمنٹ میں ان نوٹس پر غور و خوض کو یقینی بنائیں۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور الیکشن کمیشن میں اصلاحات تک یہ مہم جاری رہے گی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ اتوار کو رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی کے ذریعے وزیر اعظم کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ ملک اس طرح نہیں چلایا جا سکتا۔

اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، اہل ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے اور انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی کو اپنے احتجاج کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ تاہم، یہ اپوزیشن کے الزامات ہیں اور ان پر الیکشن کمیشن کا موقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ’عوامی مواخذے‘ کے نام سے منعقدہ یہ پروگرام پارلیمنٹ کی کوئی باضابطہ آئینی کارروائی نہیں، بلکہ اپوزیشن کی جانب سے منعقدہ علامتی فرضی پارلیمنٹ تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی طریقہ پارلیمنٹ کے مقررہ ضابطوں اور آئینی دفعات کے تحت ہی مکمل کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا اتحاد نے اس پروگرام کو انتخابی اصلاحات اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق اپنی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ اتحاد نے اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ ریلی منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔