Last Updated on August 22, 2026 5:11 pm by INDIAN AWAAZ

جاوید اختر

حکومت ہند کے پالیسی تھنک ٹینک نیتی آیوگ کے مطابق ملک میں ہر سال پہلے سے کہیں زیادہ نوجوان گریجویٹ ہو رہے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 8.25 فیصد کو ایسی ملازمتیں مل رہی ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت اور زیرِمطالعہ شعبے سے مطابقت رکھتی ہیں۔

’نیتی آیوگ‘ نے رواں ہفتے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں ملک کے تعلیمی نظام اور روزگار کی منڈی میں مطلوبہ مہارتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ صرف بے روزگاری کا نہیں بلکہ تعلیم، مہارت اور ملازمتوں کی ضروریات کے درمیان گہری عدم مطابقت کا ہے۔

اقتصادی سروے 2024-25  کی بنیاد پر تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق صرف 8.25 فیصد گریجویٹس ایسے عہدوں پر کام کر رہے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتے ہیں۔

وزیر خ‍زانہ نرملا سیتا رمن بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ ایک بھارتی روزنامے کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جن کورسز میں طلبہ داخلہ لیتے ہیں اور ڈگری مکمل کرکے نکلتے ہیں، وہ انہیں ملازمت کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ کورسز اکثر طلبہ کو کاروبار یا انٹرپرینیورشپ کے لیے بھی تیار نہیں کرتے۔

ڈگری اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان عدم تعلق

نیتی آیوگ کی اس رپورٹ کے مطابق متعدد تعلیمی اداروں میں نصاب پرانا ہے اور صنعت کی بدلتی ہوئی ضروریات سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔ نتیجتاً ڈگریاں، ڈپلومے اور سرٹیفکیٹس ہمیشہ روزگار کے قابل بنانے والی صلاحیت میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں انڈر گریجویٹ پروگرامز میں زیرِتعلیم تقریباً 3.4 کروڑ طلبہ میں سے 1.13 کروڑ صرف بیچلر آف آرٹس (BA) پروگرام میں داخل ہیں، جبکہ BA، بی ایس سی (BSc) اور بی کام (BCom) میں مجموعی داخلہ دو کروڑ سے زیادہ ہے۔

نیتی آیوگ کا کہنا ہے کہ ان پروگرامز کا روزگار سے تعلق کمزور ہے اور بہت سے طلبہ ان ڈگریوں کا انتخاب اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے انہیں سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اہلیت حاصل ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ BA، BCom یا BSc کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر یہ ڈگریاں طالب علم یا ممکنہ آجر کو یہ واضح نہیں کرتیں کہ گریجویٹ عملی طور پر کیا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیتی آیوگ کے مطابق عمومی BA، BCom اور BSc ڈگریاں براہِ راست ملازمت میں تبدیل ہونے کے امکانات کم رکھتی ہیں، جبکہ بعض ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے لیے بھی Tally یا Microsoft Office جیسی اضافی عملی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

تعلیم یافتہ لیکن ملازمت کے لیے مناسب نہیں

نیتی آیوگ کی رپورٹ میں اجاگر کیا گیا عدم توازن صرف روزگار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ طلبہ خود بھی اپنی تعلیم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 34 فیصد طلبہ نے تعلیم کے دوران مہارتوں کی کمی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ 18 فیصد نے انٹرویو کی تیاری کی کمی کی نشاندہی کی۔

رپورٹ میں کارکنوں کے درمیان ڈیجیٹل اور مواصلاتی مہارتوں کی کمی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔

سب سے زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ 80 فیصد طلبہ نے عملی تجربے اور صنعت سے براہِ راست واقفیت کی کمی کو اپنی ڈگریوں میں ایک بڑی خامی قرار دیا۔

سرکاری ملازمت طلبہ کی اولین ترجیح

نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان صرف 55 ہزار سرکاری عہدوں کے لیے 1.86 کروڑ درخواستیں موصول ہوئیں۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی خواہش اور دستیاب محفوظ سرکاری ملازمتوں کی محدود تعداد کے درمیان کتنا زیادہ فرق ہے۔وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف مزید سرکاری ملازمتیں پیدا کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کو مختلف راستوں کے لیے تیار کرنا چاہیے، جن میں ملازمت، کاروبار، خود روزگاری اور خاندانی کاروبار میں شمولیت یا اس کی توسیع شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو اپنی دلچسپی کے مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا کسی مقامی تکنیکی یونیورسٹی سے مخصوص عملی مہارت سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جہاں انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس مہارت کو عملی طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں عملی کورسز کی تدریس میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض اوقات اساتذہ جدید اور ابھرتے ہوئے مضامین پڑھاتے ہیں، لیکن خود انہیں صنعت میں عملی تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ناکافی بنیادی سہولیات طلبہ کو محدود یا پرانی عملی معلومات تک محدود کر سکتی ہیں۔

کالج اور روزگار کی منڈی کے درمیان پل کہاں ہے؟

نیتی آیوگ کا تجزیہ صرف نصاب تک محدود نہیں۔ رپورٹ میں عملی تعلیم کی کمی، صنعت سے ناکافی رابطے اور ملازمت کے لیے تیاری میں معاونت کی کمی کو بھی اہم مسائل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اکثر طلبہ کو CV بنانے، فرضی انٹرویوز (Mock Interviews) اور ملازمت تلاش کرنے کے حوالے سے منظم رہنمائی نہیں ملتی۔

نتیجتاً بہت سے طلبہ لیبر مارکیٹ میں اس تیاری کے بغیر داخل ہوتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ممکنہ آجر کے سامنے مؤثر انداز میں کیسے پیش کریں۔

رپورٹ میں عملی کورسز کی تدریس میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض اوقات اساتذہ جدید اور ابھرتے ہوئے مضامین پڑھاتے ہیں، لیکن خود انہیں صنعت میں عملی تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ناکافی بنیادی سہولیات طلبہ کو محدود یا پرانی عملی معلومات تک محدود کر سکتی ہیں۔

آجر تجربہ چاہتے ہیں، گریجویٹس کے پاس تجربہ نہیں ہوتا، جبکہ کالج اور یونیورسٹیاں طلبہ کو مطلوبہ عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے صنعت سے کافی حد تک مربوط نہیں ہیں۔

نیتی آیوگ کے مطابق انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اہم پل ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر طلبہ کو صرف مشاہدے تک محدود رکھا جائے اور انہیں حقیقی کام اور سیکھنے کا موقع نہ ملے تو ایسی انٹرن شپ بھی محض رسمی کارروائی بن سکتی ہیں۔

اصل چیلنج ڈگری نہیں، ڈگری کے بعد کا راستہ ہے

نیتی آیوگ کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ نوجوانوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچایا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان نوجوانوں کے لیے عملی روزگار کا راستہ کہاں ہے؟

رپورٹ کے مطابق ملک اپنے تعلیمی نظام کو اس طرح تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو عملی مہارت، صنعت کا تجربہ اور روزگار کے لیے ضروری صلاحیتیں بھی حاصل ہوں، تاکہ تعلیم حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل ہو سکے۔