Last Updated on September 13, 2026 1:06 am by INDIAN AWAAZ

مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سنٹر بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی گنجائش سے کہیں زیادہ توانائی استعمال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے دنیا بھر میں توانائی کے نظام کی قابل بھروسہ کارکردگی اور مضبوطی کو خطرہ لاحق ہے۔

بین الاقوامی ادارہ توانائی (آئی ای اے) کے مطابق، 2030 تک ڈیٹا سنٹرز کی جانب سے استعمال کی جانے والی بجلی کی مقدار دو گنا تک بڑھ جانے کی توقع ہے۔ یہ کھپت 2025 میں 485 ٹیرا واٹ گھنٹےتھی جو 2030 تک بڑھ کر 950 ٹیرا واٹ گھنٹے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ مقدار دنیا بھر میں بجلی کی مجموعی طلب کا تقریباً تین فیصد ہے۔

دنیا بھر میں ڈیٹا سیٹرز کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری 2050 تک صرف دوگنا ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 2026 میں سالانہ 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں یہ رقم 2050 تک بڑھ کر تقریباً 1.8 کھرب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے خطوں میں ڈیٹا سنٹرز اور بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کرنے والی دیگر تنصیبات کوایسے گرڈز کی تعمیر سے کہیں زیادہ تیزی سے قائم کیا جا رہا ہے جو انہیں بجلی فراہم کرنے کے لیے درکار ہیں۔

بجلی کے نظام پر بڑھتا دباؤ

تشویشناک امر یہ ہے کہ بجلی کے نظام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ پڑنے کے نتیجے میں وولٹیج میں اتار چڑھاؤ، غیر متوقع طور پر بجلی منقطع ہونے اور ایک کے بعد دوسری خرابی پیدا ہونے جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر انحصار کرنے والے بعض نظام پہلے ہی اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔

کمیشن کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سنٹرز کی بجلی کی طلب میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے جو اچانک بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب قابل تجدید توانائی پر انحصار کرنے والے بجلی کے گرڈ طلب میں ہونے والی ایسی تبدیلیوں کے مطابق فوری طور پر اپنی پیداوار کو ایڈجسٹ نہیں کر سکتے۔ طلب اور رسد کے اس فرق کے باعث کئی ممالک نے اپنے بجلی کے نظام پر حد سے زیادہ بوجھ پڑنے سے بچنے کے لیے توانائی کی بچت کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

‘اخراجات کون اٹھائے گا؟’

ایک اہم اور حل طلب سوال یہ ہے کہ بجلی کے گرڈ کو اپ گریڈ کرنے کے اخراجات کون ادا کرے گا۔

بڑے ڈیٹا سنٹرز کو بجلی کے نظام سے منسلک کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی یکساں نظام موجود نہیں جو یہ طے کرے کہ یہ اخراجات ڈیٹا سنٹرز کے مالکان، بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور صارفین کے درمیان کس طرح تقسیم کیے جائیں۔

کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ واضح قواعد و ضوابط نہ ہونے کی صورت میں اس حوالے سے ضروری سرمایہ کاری میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

ضابطہ کاری میں خلا

ڈیٹا سنٹر قائم کرنے کی جگہوں حوالے سے بھی ضابطہ کاری کے کئی خلا موجود ہیں۔ بڑی مقدار میں بجلی استعمال کرنے والی زیادہ تر تنصیبات اب بھی ایسے علاقوں میں بنائی جا رہی ہیں جہاں انٹرنیٹ اور بجلی کی سہولیات اور ضابطہ جاتی ماحول سازگار ہیں۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی طلب ایسے مقامات پر مرتکز ہو رہی ہے جہاں مقامی گرڈ اضافی طلب پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ماحولیاتی ضوابط کا دائرہ بھی اب صرف بجلی کی کھپت تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیٹا سنٹرز کی جانب سے پانی کے استعمال، اخراج اور مقامی وسائل پر پڑنے والے وسیع تر اثرات تک پھیل رہا ہے۔ تاہمکمیشن کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں قواعد و ضوابط اب بھی غیر مربوط ہیں۔

کمیشن نے اس معاملے میں مزید موثر ضابطہ کاری اور بہتر باہمی تعاون پر زور دیا ہے تاکہ توانائی کے ایسے نظام کی طویل مدتی قابل بھروسہ کارکردگی اور مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے جو جدید دنیا میں خاص اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

UN NEWS