Last Updated on August 19, 2026 3:19 pm by INDIAN AWAAZ

پروفیسر ایم رحمت اللہ


اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی شناخت، فکری روایت اور اجتماعی حافظے کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے برصغیر کی تہذیبی تشکیل میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ تاہم بدلتے ہوئے ابلاغی منظرنامے میں اردو زبان و ادب کے فروغ، تحفظ اور نئی نسل تک اس کی رسائی کے لیے جدید ذرائعِ ابلاغ کی اہمیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ ٹیلی ویژن ان ذرائع میں ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی، معاشرتی رویوں اور ثقافتی ترجیحات کو متاثر کیا بلکہ زبان و ادب کے فروغ کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کیے۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی کتاب  اردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹیلی ویژن کا کردار  اسی اہم اور  بامعنی موضوع پر ایک سنجیدہ علمی و تحقیقی کاوش ہے۔ کتاب کی بنیادی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ مصنف نے اردو زبان و ادب اور ٹیلی ویژن کو دو الگ الگ شعبوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلق، اثرات اور امکانات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ موضوع اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیلی ویژن محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی، ثقافتی اور لسانی وسیلہ بھی ہے، جو معاشرے میں زبان کے استعمال، تلفظ، الفاظ کے انتخاب، محاورات اور اظہار کے انداز پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

 ڈاکٹر محمد شمیم اخترنے کتاب کی تدوین میں موضوع کو ایک منظم تحقیقی ڈھانچے میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کے ابواب اور ان کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے ٹیلی ویژن کے مختلف پہلوؤں، اس کی تکنیکی و ابلاغی ترقی اور پروگرام سازی کے مختلف شعبوں کو اردو زبان و ادب کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اندازِ تحقیق کتاب کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ قاری کو ٹیلی ویژن کے بدلتے ہوئے کردار اور اس کے وسیع تر ابلاغی امکانات پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

ایک صحافی اور استاذ کی حیثیت سے میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ذرائعِ ابلاغ کی اصل طاقت صرف معلومات پہنچانے میں نہیں بلکہ زبان، فکر اور معاشرتی شعور کی تشکیل میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ٹیلی ویژن نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اردو زبان کو گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خبروں، ڈراموں، دستاویزی پروگراموں، ادبی پروگراموں، مذہبی و ثقافتی نشریات، مباحثوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے اردو کے الفاظ، محاورات، ادبی حوالوں اور تہذیبی تصورات کو وسیع تر ناظرین تک پہنچنے کا موقع ملا۔ اس اعتبار سے ٹیلی ویژن کو اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دینا بالکل بجا ہے۔

اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں ٹیلی ویژن کو صرف ایک تکنیکی ایجاد کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اس کے وسیع ابلاغی اور سماجی کردار کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ٹیلی ویژن کی ترقی کے ساتھ اس کی ٹیکنالوجی، پروگرامنگ اور ناظرین کے رویوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ روایتی ٹیلی ویژن سے لے کر جدید ڈیجیٹل اور آن لائن پلیٹ فارمز تک ابلاغ کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ ایسے وقت میں اردو زبان کے لیے ان نئے ذرائع کے امکانات اور چیلنجز پر گفتگو نہایت ضروری ہے۔

مصنف کا تعلق صحافت سے ہے، اس لیے کتاب میں موضوع کے عملی پہلوؤں کی طرف ان کی توجہ فطری بھی ہے اور قابلِ تحسین بھی۔ ایک صحافی جب زبان اور ابلاغ کے موضوع پر لکھتا ہے تو اس کے تجربات تحقیق کو محض کتابی معلومات تک محدود نہیں رہنے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوع کی کاوشیں میڈیا کے طلبہ، محققین اور زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے خصوصی اہمیت اختیار کرجاتی ہیں۔ میرے نزدیک اس کتاب کی اصل خوبی بھی یہی ہے کہ اس نے ایک ایسے موضوع کو علمی گفتگو کا حصہ بنایا ہے جس پر مزید تحقیق اور سنجیدہ بحث کی گنجائش موجود ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آج کا ناظر صرف روایتی ٹیلی ویژن اسکرین تک محدود نہیں رہا۔ موبائل فون، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع نے ٹیلی ویژن کے روایتی تصور کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نئے دروازے کھلے ہیں۔ اردو پروگرام اب جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں۔ اس صورتحال میں اردو کے تخلیق کاروں، صحافیوں، پروگرام سازوں اور میڈیا اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ زبان کے معیار، شائستگی، درست تلفظ اور ادبی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مواد تیار کریں۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر نے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جس میں زبان، ادب، صحافت، ابلاغیات اور ٹیلی ویژن اسٹڈیز کے کئی اہم پہلو باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔ کتاب کی یہ بین العلومی نوعیت اسے مزید اہم بناتی ہے۔ خصوصاً میڈیا کے طلبہ اور نوجوان محققین کے لیے یہ کتاب اس اعتبار سے مفید ثابت ہوسکتی ہے کہ اس کے ذریعے وہ اردو زبان اور ٹیلی ویژن کے تعلق کو ایک وسیع تر علمی تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔

مجھے یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ مصنف نے ٹیلی ویژن کے بدلتے ہوئے تکنیکی اور ابلاغی منظرنامے کو موضوع کا حصہ بنایا ہے۔ ٹیلی ویژن کی ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیاں—اسکرین، نشریاتی نظام، تصویر کے معیار اور جدید ڈیجیٹل امکانات—نے پروگرام سازی اور ناظرین کے تجربے کو یکسر بدل دیا ہے۔ کتاب کے متعلقہ مباحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے ٹیلی ویژن کے اس ارتقائی سفر کو بھی اپنی تحقیق میں جگہ دی ہے۔

میری نظر میں کسی بھی تحقیقی کتاب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ قاری کو کسی موضوع کے بارے میں صرف معلومات فراہم نہ کرے بلکہ اسے مزید سوچنے پر بھی آمادہ کرے۔ ’’اردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹیلی ویژن کا کردار‘‘ اس اعتبار سے ایک خوش آئند کوشش ہے۔ یہ کتاب ہمیں اس بنیادی سوال کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم جدید ذرائعِ ابلاغ کو اردو زبان و ادب کی ترویج، تحفظ اور نئی نسل سے اس کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے کس طرح زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکتے ہیں۔

ایک صحافی اور اب ایک سنجیدہ قلم کار کی حیثیت سے ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی یہ کاوش میرے لیے خصوصی مسرت کا باعث ہے۔ صحافت اور میڈیا کے میدان میں نئی نسل کے لوگوں کا اپنے تجربات اور مشاہدات کو علمی و تحقیقی کام میں ڈھالنا یقیناً ایک حوصلہ افزا امر ہے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ نوجوان صحافی صرف روزمرہ صحافتی سرگرمیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے تجربات کو تحقیق، تصنیف اور علمی مکالمے کا حصہ بھی بنائیں۔ ڈاکٹر شمیم اختر کی یہ کتاب اسی سمت میں ایک قابلِ قدر قدم ہے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اردو زبان و ادب، صحافت، ابلاغیات اور ٹیلی ویژن اسٹڈیز کے طلبہ، اساتذہ، محققین اور میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ بالخصوص اردو زبان کے مستقبل اور جدید ذرائعِ ابلاغ کے باہمی تعلق پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک مفید نقطۂ آغاز فراہم کرسکتی ہے۔

میں ڈاکٹر محمد شمیم اختر کو اس علمی کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی صحافت اور ابلاغیات کے میدان میں اپنی عملی بصیرت کو تحقیقی اور تصنیفی سرگرمیوں کے ذریعے وسیع تر علمی حلقے تک پہنچاتے رہیں گے۔ ان کی یہ کتاب نہ صرف ان کی علمی جستجو کا ثبوت ہے بلکہ اردو زبان و ادب سے ان کی وابستگی اور جدید میڈیا کے امکانات کو سمجھنے کی ان کی کوشش کی بھی عکاس ہے۔

میری خواھش ہے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچے، علمی حلقوں میں اس پر سنجیدہ گفتگو ہو اور یہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے مزید تحقیق اور تخلیقی کام کی تحریک کا ذریعہ بنے۔

پروفیسر ایم رحمت اللہ
 اے جے کے ماس کومنیکشن ریسرچ سنٹر
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی