Last Updated on August 15, 2026 1:54 pm by INDIAN AWAAZ

بِبھودتہ پردھان

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یومِ آزادی کے موقع پر ملک کے نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ اور ملک گیر سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارت فراہم کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا۔ لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں ملک کے نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہوگا۔

مودی نے اعلان کیا کہ آئندہ ایک سال کے دوران ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ ہندوستان اس تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی قیادت کی جانب آگے بڑھ سکے۔

وزیر اعظم نے کہا، “جب میں ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کرتا ہوں، جب میں ملک کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی بات کرتا ہوں، تو اس کا سب سے بڑا فائدہ کس کو ہوگا؟ ان تمام کوششوں کا سب سے بڑا محرک کون ہوگا؟ اگر کوئی محرک قوت ہے تو وہ میرے ملک کا نوجوان ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ملک کے نوجوان ہوں گے اور ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔

غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ

وزیر اعظم نے مسابقتی امتحانات کی تیاری پر ہونے والے بھاری اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوچنگ اداروں کی فیس غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر مالی بوجھ ڈالتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مختلف امتحانات کی تیاری کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کرے گی۔

مودی نے کہا کہ اس اقدام سے والدین کو بڑی مالی راحت ملے گی اور انہیں اپنے بچوں کو کوچنگ کے لیے دوسرے شہروں میں بھیجنے کی ضرورت کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے والدین اپنے بچوں کے قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال بھی کر سکیں گے اور ہزاروں کروڑ روپے کی بچت ہو سکے گی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان مسابقتی امتحانات میں مبینہ سوالنامے افشا ہونے اور بھرتی کے عمل سے متعلق ناراضگی سامنے آئی ہے۔ ان واقعات نے امتحانی نظام، شفافیت اور روزگار کے مواقع سے متعلق نوجوانوں کے خدشات کو قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی تربیت پر خصوصی زور

مودی حکومت کے اعلان میں مصنوعی ذہانت کی مہارت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور روزگار کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کریں گی۔ ایسے میں ہندوستان کے نوجوانوں کو نئی ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ضروری ہے۔

حکومت کا ہدف اگلے 12 ماہ کے دوران ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی مہارت فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر قائم کرنا ہے۔

ہندوستان کی بڑی نوجوان آبادی کے پیش نظر اس اقدام کی خاص اہمیت ہے۔ ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دو تہائی سے زیادہ آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ 18 سے 29 سال کے نوجوان ووٹرز بھی مجموعی ووٹرز کا تقریباً 23 فیصد ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں کامیابیوں کا ذکر

یومِ آزادی کی تقریر میں وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تعلیم کے شعبے میں حکومت کی جانب سے کیے گئے توسیع کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں ملک میں تقریباً 650 یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ 2014 کے بعد طبی تعلیم کی نشستوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔

مودی نے قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “35 برس تک کوئی تعلیمی پالیسی نہیں تھی۔ ہم نئی تعلیمی پالیسی لائے۔”

قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے حکومت نے تعلیمی نظام کو زیادہ جدید، ہنرمندی پر مبنی اور روزگار سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں تربیت کا اعلان بھی اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔

نوجوانوں کی ناراضگی کے درمیان حکومت کی توجہ

نوجوانوں کے لیے کیے گئے اعلانات کی سیاسی اہمیت بھی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امتحانی سوالنامے افشا ہونے اور بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ میں ناراضگی دیکھی گئی ہے۔ کئی معاملات میں لاکھوں امیدواروں کو دوبارہ امتحانات میں شرکت کرنا پڑی۔

ان واقعات نے معیاری روزگار، شفاف بھرتی اور قابل اعتماد امتحانی نظام سے متعلق نوجوانوں کے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان مسائل کو حکومت کے خلاف سیاسی مہم کا اہم موضوع بنایا ہے۔

ایسے ماحول میں وزیر اعظم کی یومِ آزادی تقریر میں نوجوانوں کو مرکز میں رکھا گیا۔ مفت کوچنگ، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور کھیلوں میں ٹیلنٹ کی تلاش جیسے اعلانات کے ذریعے حکومت نے تعلیم، روزگار اور ہنرمندی سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا پیغام دیا۔

گاؤں گاؤں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی تلاش

وزیر اعظم نے تعلیم اور ٹیکنالوجی کی مہارت تک محدود رہنے کے بجائے کھیلوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ملک گیر کھیلوں کی صلاحیت تلاش کرنے کا پروگرام شروع کرنے کی بات کہی۔

اس مہم کو گاؤں، قصبوں اور اسکولوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک کے مختلف علاقوں میں موجود پوشیدہ کھیلوں کی صلاحیتوں کی شناخت کرنا اور انہیں ابتدائی مرحلے سے تربیت اور مواقع فراہم کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے اسے ہندوستان کی 2036 کے اولمپکس کی تیاری سے بھی جوڑا۔ حکومت کا مقصد آنے والے برسوں میں بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں ہندوستان کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

نوجوانوں کو ترقی کے سفر کا مرکز بنانے کی کوشش

مودی کی یومِ آزادی تقریر میں نوجوانوں سے متعلق اعلانات سے واضح ہے کہ حکومت ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف میں نوجوان آبادی کو ایک بڑی طاقت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ مفت امتحانی کوچنگ کے ذریعے مالی رکاوٹیں کم کرنے، مصنوعی ذہانت کی تربیت کے ذریعے مستقبل کی تکنیکی ملازمتوں کے لیے نوجوانوں کو تیار کرنے اور کھیلوں کے ٹیلنٹ کی تلاش کے ذریعے کھیل کے شعبے میں مواقع بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں نوجوانوں کی توانائی، صلاحیت اور جدت سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ ترقی یافتہ ہندوستان صرف معاشی ترقی کا ہدف نہیں بلکہ نوجوانوں کو مواقع، مہارت اور بہتر مستقبل فراہم کرنے کا عزم بھی ہے۔

ان اعلانات کے ذریعے حکومت نے تعلیم اور روزگار سے متعلق نوجوانوں کے مسائل کو براہِ راست حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان منصوبوں کے عملی نفاذ، ان کی رسائی اور نوجوانوں کو ملنے والے براہِ راست فوائد پر خصوصی توجہ رہے گی۔