Last Updated on September 9, 2026 4:06 pm by INDIAN AWAAZ

سری نگر، 8 ستمبر 2026 — ۔

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس (جموں و کشمیر) کی حالیہ نشست سوپور کے دارالشفاء میں منعقد ہوئی، جس نے یونانی طب کے فروغ اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے نئی سمتیں متعین کیں۔ اجلاس کی صدارت قومی صدر پروفیسر مشتاق احمد نے کی اور اس موقع پر کشمیر میں ایمز یونانی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے نہ صرف تنظیمی مسائل بلکہ بے روزگار یونانی ڈاکٹروں کے مستقبل، طبی تعلیم کے معیار اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ریفرل سسٹم جیسے اہم نکات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

نشست میں تنظیمی امور، عوامی فلاح و بہبود اور یونانی طب کے فروغ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کانگریس کے سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر شوکت حسین ایٹو (سابق رجسٹرار، جموں و کشمیر آیوش) نے ریاستی صدر حکیم محمد اشرف لون، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حضرات برسوں سے یونانی طب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

اجلاس میں NIQs کے رجسٹریشن مسائل، بے روزگار BUMS و MD یونانی ڈاکٹروں کے روزگار کے مواقع، اور گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج گاندربل میں عملے کی کمی جیسے امور پر بحث ہوئی۔ شرکاء نے تجویز دی کہ کالج میں خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور ریفرل سسٹم قائم کر کے مریضوں کی بہتر نگہداشت کو یقینی بنایا جائے۔

ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو نے تاریخی طبی کتب میں کشمیری اطباء و حکماء کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی، جبکہ کشمیر کے یونانی معالجین کی خدمات کو محفوظ کرنے کا منصوبہ بھی رکھا گیا۔

اہم ترین نکتہ پروفیسر مشتاق احمد کی جانب سے ایمز یونانی کے قیام کا مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس سلسلے میں حکومتِ ہند سے مسلسل اور مؤثر انداز میں رابطے میں ہے اور چاہتی ہے کہ یہ ادارہ کشمیر میں قائم ہو، کیونکہ یو ٹی بننے کے بعد یہاں امکانات زیادہ ہیں۔

تجویز کردہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن (AIIUM) کے لیے کشمیر کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے قومی صدر پروفیسر مشتاق احمد نے خطے کی تاریخی عظمت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس اس معاملے میں حکومت ہند کے ساتھ مسلسل اور مؤثر انداز میں کوششیں کر رہی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ یہ ادارہ کشمیر میں قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ (U.T.) بننے کے بعد اس طرح کے ادارے کے قیام کے لیے مواقع اور امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔

اجلاس میں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید احمد خان نے تنظیمی امور پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہیں روایتی شال اور گلدستہ پیش کر کے خوش آمدید کہا گیا۔

نشست کے اختتام پر ڈاکٹر شوکت حسین ایٹو نے تمام قومی و ریاستی عہدیداران اور معززین کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد یوسف دینتھو نے کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر جاوید احمد گنائی، ڈاکٹر محمد اشرف، ڈاکٹر نور محمد، حکیم صنوبر خان، حکیم نذیر احمد میر، حکیم شوکت علی پیر، حکیم میسر محی الدین، محمد حسین میر، حکیم عاشق الٰہی، حکیم رئیس احمد اور ڈاکٹر ارسلان بیگ سمیت دیگر عہدیداران و اراکین موجود تھے۔