Last Updated on August 23, 2026 12:48 am by INDIAN AWAAZ

پونے، 22 اگست: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کو نوجوان خواتین کے حوصلے اور جمہوری حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بدسلوکی، گالی گلوچ اور تشدد کے باوجود اپنی آواز بلند کرنے والی لڑکیوں کی آواز اب دبائی نہیں جاسکتی۔
پونے میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’اب لڑکیاں بولیں گی اور ملک سنے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کے ہر نوجوان پر فخر ہے، بالخصوص ان لڑکیوں پر جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنے حقوق اور مستقبل سے متعلق مسائل پر آواز اٹھائی۔
یہ پروگرام خصوصی طور پر طالبات کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں تعلیم، خواتین کا تحفظ، مساوات، مسابقتی امتحانات، روزگار اور مستقبل کے مواقع سمیت متعدد اہم مسائل پر گفتگو ہوئی۔ پروگرام کا مقصد طالبات کو اپنے مسائل براہِ راست سامنے رکھنے اور ان کی آواز کو وسیع تر سطح تک پہنچانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
خواتین کی خودمختاری پر زور
راہل گاندھی نے خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لڑکی کو اپنے مستقبل کے فیصلوں کے لیے دوسروں پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خواتین کو بھارت کی بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں خواتین کی برابر شرکت ناگزیر ہے۔
انہوں نے منوسمرتی میں خواتین سے متعلق تصورات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ معاشرے میں خواتین کو مساوی حقوق، آزادی اور عزت ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو ایسے فرسودہ اور امتیازی نظریات کو چیلنج کرنا ہوگا جو خواتین کی آزادی اور مساوات کو محدود کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے دباؤ اور پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق معاشرہ بعض اوقات خواتین کی آزادی کو تشدد، توہین، وقت اور رویے پر پابندی جیسے طریقوں سے محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان پابندیوں کو تحفظ یا فکر کا نام دیا جاتا ہے۔
انہوں نے خواتین کی تعلیم، شادی، روزگار، تحفظ اور جائیداد سے متعلق بعض اعدادوشمار بھی پیش کیے۔ تاہم ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے بغیر انہیں حتمی قومی اعدادوشمار نہیں سمجھا جاسکتا۔
پیپر لیک، تعلیم اور روزگار اہم موضوعات
پروگرام میں مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں، تعلیم کے بڑھتے اخراجات، روزگار کے مواقع، خواتین کے تحفظ اور مساوی مواقع جیسے مسائل نمایاں رہے۔
راہل گاندھی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق اور مستقبل سے متعلق معاملات پر سوال اٹھائیں اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی فعال شرکت کے بغیر ملک کی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔
پروگرام سے قبل طلبہ گروپوں میں کشیدگی
راہل گاندھی کے پروگرام سے قبل پونے میں اے بی وی پی اور این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ گروپوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سی او ای پی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل کے باہر پیش آیا، جہاں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
پونے پولیس نے پروگرام کے انعقاد کے لیے منتظمین کو 30 شرائط کے ساتھ اجازت دی تھی۔ ان میں قابل اعتراض تصاویر، بینرز اور پوسٹروں پر پابندی کے علاوہ مذہبی جذبات کو مجروح نہ کرنے اور پروگرام کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایات شامل تھیں۔
بی جے پی کا پروگرام پر اعتراض
دوسری جانب بی جے پی نے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’پیسے کی گونج‘ قرار دیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ پروگرام میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر اثر رکھنے والے افراد کو مبینہ طور پر رقم دی گئی۔
کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں نوجوانوں کی شرکت راہل گاندھی کو طلبہ اور نوجوانوں میں حاصل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
پروگرام میں معروف بھوجپوری لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے حکومت اور وزیر اعظم سے سوال کرنے والی خواتین کو مبینہ طور پر گالی گلوچ اور تنقید کا سامنا کرنے کا معاملہ اٹھایا۔
راہل گاندھی کا پونے پروگرام ایسے وقت میں ہوا ہے جب سیاسی جماعتیں نوجوانوں، طلبہ اور پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے افراد تک اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ طالبات کے لیے خصوصی پروگرام کے ذریعے کانگریس نے تعلیم، روزگار، خواتین کے تحفظ اور مساوات جیسے مسائل کو نوجوان خواتین کے ساتھ سیاسی رابطے کا اہم ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
پونے کا یہ پروگرام اس اعتبار سے بھی اہم رہا کہ اس میں خواتین کے حقوق اور طلبہ کے مسائل کو سیاسی گفتگو کے مرکز میں رکھتے ہوئے نوجوان خواتین کی آواز کو ملک کے مستقبل سے جوڑنے کا پیغام دیا گیا۔
