AMN

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین اور ایران-خلیجی خطے میں جاری تنازعات کے باعث آنے والے مہینوں میں غذائی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اناج اور کھاد کی سپلائی میں رکاوٹوں سے گلوبل ساؤتھ کی معیشتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایشیا سوسائٹی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ بڑے اناج برآمد کرنے والے ممالک سے رسد میں خلل، خصوصاً بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کھاد کی قلت اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی توانائی بازار پہلے ہی ’’انتہائی دباؤ‘‘ میں ہے۔ تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا اور روس میں کھاد پیدا کرنے والے کئی اہم ممالک بھی موجودہ تنازعات سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ناموافق موسمی حالات زرعی پیداوار کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ توانائی، خوراک، کھاد اور مالیاتی شعبوں پر بیک وقت بڑھنے والا دباؤ ترقی پذیر ممالک کے لیے ’’بہت ہی زیادہ پریشان کن‘‘ صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

جے شنکر نے ممالک کو خبردار کیا کہ انہیں صرف اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے کمزور ممالک کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا دباؤ گلوبل ساؤتھ میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے اور بعض ممالک کے لیے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ جاری تنازعات کے معاشی اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی بنیادی ضروریات اور اقتصادی سلامتی پر زیادہ توجہ دی جائے۔