Last Updated on October 7, 2026 8:31 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے حملے تیز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن کے خلاف 100 ایف آئی آرز بھی درج کر دی جائیں تب بھی انڈیا اتحاد ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے معاملے پر اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
راہل گاندھی نے دوٹوک انداز میں کہا، “100 ایف آئی آرز درج کر لیجیے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اتحاد انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر اٹھائے گئے سوالات کو ملک بھر میں عوام کے سامنے لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی میں سیاسی سرگرمی اُس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب انڈیا اتحاد کے قائدین اور کارکنان نے ونڈسر پلیس، جنتر منتر کے قریب، احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران علاقے میں مرکزی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔
یہ احتجاج ایک روز قبل الیکشن کمیشن کی جانب اپوزیشن جماعتوں کے مارچ کے بعد کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق ان کے تحفظات اور سوالات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔
دریں اثنا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے لیے ساگر رتنا میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں الیکشن کمیشن کے خلاف جاری اپوزیشن کی “ووٹ چوری” مہم اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انڈیا اتحاد نے واضح اشارہ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف شروع کی گئی مہم محض ایک روزہ احتجاج نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک بھرپور انداز میں اٹھاتے رہیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کو قومی سطح کی مہم بنانے کی کوششوں کے بعد انڈیا اتحاد اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تنازع ملکی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہونے کا امکان رکھتا ہے۔
