Last Updated on September 9, 2025 11:05 pm by INDIAN AWAAZ

ویب ڈیسک
اسرائیلی فوج نے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فضائی حملے کیے جن میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ داخلہ قطر کے مطابق یہ حملے دوحہ کے رہائشی عمارتوں پر کیے گئے جہاں حماس کے سیاسی بیورو کے کئی رہنما مقیم تھے۔ دھماکوں کی آواز پورے شہر میں سنی گئی جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
قطری حکام نے تصدیق کی کہ اس حملے میں داخلی سکیورٹی فورس “لخویا” کا ایک اہلکار، بدر سعد محمد الدوسری، اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوا جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر کلیئرنس اور حفاظتی اقدامات جاری ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ “آپریشن سمٹ آف فائر” کے دوران حماس کے اُن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے ذمہ دار ہیں۔ اسرائیلی فوجی افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ “یہ براہِ راست فضائی حملے تھے”۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو “بزدلانہ اور شرمناک کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قطر کی سلامتی اور خودمختاری پر کھلا حملہ ہے۔ وزارت کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ “ریاستِ قطر اس بے پرواہ اسرائیلی رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔”
یہ اسرائیل کا قطر پر پہلا حملہ ہے، جو ایک عرصے سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف قطر کے امن کردار کو دھچکا پہنچا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔
سعودی عرب نے اس حملے کو “وحشیانہ اسرائیلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکا جائے جو خطے کے امن و استحکام کو کمزور کر رہی ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر گفتگو میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ قطر کے تحفظ اور خودمختاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے بھی حملے کو “بزدلانہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔ اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی دوحہ پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عرب لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ ریاست کی خودمختاری پر “ناقابلِ قبول اور سنگین تجاوز” ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قطر اور مصر، امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ قطر نے ہمیشہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مستقل جنگ بندی کی طرف بڑھیں نہ کہ امن کوششوں کو سبوتاژ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام خطے میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو مزید سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
