Last Updated on May 24, 2026 7:53 pm by INDIAN AWAAZ

HEALTH DESK
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے کئی ممالک اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں جبکہ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانوں کے لیے خاموش خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ایسے میں ہیٹ اسٹروک ایک سنگین طبی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، جس کی ابتدائی علامات اکثر لوگ عام تھکن یا پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط نہ کی جائے تو ہیٹ اسٹروک جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ہیٹ اسٹروک کیا ہے؟
ہیٹ اسٹروک دراصل جسم کا وہ خطرناک ردِعمل ہے جو شدید گرمی یا دھوپ میں زیادہ دیر رہنے سے پیدا ہوتا ہے۔ عام حالات میں انسانی جسم پسینے کے ذریعے اپنے درجہ حرارت کو متوازن رکھتا ہے، لیکن جب گرمی حد سے بڑھ جائے تو جسم اپنا قدرتی نظامِ حرارت برقرار رکھنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔
نتیجتاً جسم کا اندرونی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ کر 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہوسکتا ہے، جو دماغ، دل، گردوں اور دیگر اعضا کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی تشویشناک وارننگ
World Health Organization کے مطابق شدید گرمی اور ہیٹ اسٹریس دنیا بھر میں موسم سے متعلق اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ دمہ، ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض شدید گرمی میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد صرف اس وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ وہ ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
وہ خاموش علامات جنہیں لوگ اکثر نظر انداز کردیتے ہیں
ہیٹ اسٹروک کی ابتدا ہمیشہ اچانک بے ہوشی سے نہیں ہوتی بلکہ اس سے پہلے جسم کئی انتباہی اشارے دیتا ہے۔ بدقسمتی سے زیادہ تر لوگ انہیں عام کمزوری یا تھکن سمجھ لیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہیں:
- مسلسل شدید سر درد
- غیر معمولی تھکاوٹ اور کمزوری
- چکر آنا یا ذہنی الجھن
- متلی اور قے
- جسم میں پانی کی شدید کمی
- پٹھوں میں درد یا کھچاؤ
- دل کی دھڑکن کا تیز ہوجانا
- جلد کا گرم اور خشک محسوس ہونا
- سانس لینے میں دشواری
- بے ہوشی یا نیم بے ہوشی کی کیفیت
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کا جسمانی درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

ہیٹ اسٹروک کن لوگوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے؟
اگرچہ شدید گرمی ہر انسان کو متاثر کرسکتی ہے، لیکن بعض افراد میں اس کا خطرہ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
بچے اور بزرگ
چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد میں جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت نسبتاً کمزور ہوتی ہے، اسی لیے وہ جلد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوسکتے ہیں۔
کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد
مزدور، رکشہ ڈرائیور، ٹریفک پولیس اہلکار، کسان اور تعمیراتی کارکن جو زیادہ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں، ان میں خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
دائمی بیماریوں کے مریض
دل، گردوں، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض شدید گرمی میں جلد متاثر ہوتے ہیں۔ بعض ادویات بھی جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہیں جس سے ہیٹ اسٹروک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ہیٹ اسٹروک سے کیسے بچا جائے؟
ماہرین صحت کے مطابق چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس خطرناک صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔
- دن کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں
- زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات استعمال کریں
- ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں
- دھوپ میں نکلتے وقت سر ڈھانپیں
- کیفین اور بہت زیادہ مصالحے دار غذا سے پرہیز کریں
- بچوں اور بزرگوں کو بند گاڑی یا گرم کمروں میں اکیلا نہ چھوڑیں
- جسم میں پانی کی کمی محسوس ہوتے ہی آرام کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں معمولی کمزوری یا چکر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہی علامات بعد میں خطرناک ہیٹ اسٹروک میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ شدید گرمی کے اس دور میں احتیاط ہی سب سے مؤثر بچاؤ ہے۔
