Last Updated on May 20, 2026 11:51 am by INDIAN AWAAZ
جعلی ڈاکٹروں، منافع خوری اور بدعنوانی سے ٹوٹتا عوامی اعتماد

للیت گرگ اور عندلیب اختر
کسی بھی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معاشی کامیابیوں، بلند عمارتوں یا تکنیکی ترقی میں نہیں ہوتی بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان اور صحت کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔ صحت کی خدمات کو ابتدا میں انسانی تکلیف کم کرنے اور زندگی بچانے کی ایک مقدس خدمت کے طور پر تصور کیا گیا تھا، لیکن آج بڑھتی ہوئی بدعنوانی، منافع خوری اور غیر اخلاقی سرگرمیوں نے اس کی انسانی روح کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ برسوں میں جعلی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹروں اور بغیر اہلیت کے علاج کرنے والے افراد کے انکشافات نے ثابت کر دیا ہے کہ سب سے بڑا نقصان عوامی اعتماد کو پہنچا ہے۔ آج مریض اسپتالوں میں اعتماد کے ساتھ نہیں بلکہ خوف اور بے یقینی کے احساس کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔
صحت کا نظام کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے۔ اسپتال صرف عمارتیں نہیں بلکہ امید اور زندگی بچانے کے مراکز ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صرف پیشہ ور افراد نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑے حساس محافظ سمجھے جاتے ہیں، جن پر معاشرہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن جب یہی نظام بدعنوانی، دھوکہ دہی، منافع خوری اور غیر اخلاقی رویوں کا شکار ہو جائے تو عوامی اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان سے سامنے آنے والے حالیہ واقعات اسی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
آج بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وکست بھارت 2047، آتم نربھر بھارت اور سمردھ بھارت جیسے بڑے خواب معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل انقلاب، تکنیکی ترقی اور عالمی اثر و رسوخ کے ذریعے حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کامیابیاں امید پیدا کرتی ہیں، لیکن دوسری طرف صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیاں—جعلی ڈاکٹر، نقلی دوائیں، اسپتالوں کی منافع خوری اور طبی خدمات کی تجارت—اس ترقیاتی سفر کی ساکھ پر سنگین سوال کھڑے کرتی ہیں۔ اگر شہریوں کی زندگیاں ہی محفوظ نہ ہوں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے دمّوہ اور جبل پور کے سرکاری اسپتالوں میں جعلی ڈاکٹروں کی تقرری کا انکشاف صرف ایک ریاستی انتظامیہ کی ناکامی نہیں بلکہ پورے طبی نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک معاملہ راجستھان میڈیکل کونسل کا رہا، جہاں ضروری طبی تعلیم اور انٹرن شپ کے بغیر افراد کے بطور ڈاکٹر رجسٹر ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ یہ صرف ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے خلاف سنگین جرم ہے۔ جب کوئی نااہل شخص ڈاکٹر کی شناخت اختیار کرکے مریضوں کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ علاج نہیں کرتا بلکہ انسانی جانوں پر خطرناک تجربات کرتا ہے۔ ایسے حالات میں شفا آسانی سے المیہ بن سکتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ نظام میں داخل کیسے ہو جاتے ہیں؟ کیا کوئی فرد اکیلے اتنے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کر سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ ان اسکینڈلز کے پیچھے تصدیقی نظام کی ناکامی، ادارہ جاتی ملی بھگت اور گہری بدعنوانی کا جال موجود ہے۔ جب میڈیکل کونسلیں، اسپتال انتظامیہ اور رجسٹریشن ادارے خود شک کے دائرے میں آ جائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بیماری صرف چند افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے نظام میں پھیل چکی ہے۔
آج صحت کے شعبے کا بحران صرف جعلی ڈاکٹروں تک محدود نہیں ہے۔ نجی اسپتالوں میں بڑھتی ہوئی منافع خوری نے طبی خدمات کے انسانی کردار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مریضوں کی مجبوری کو معاشی موقع میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، بلاوجہ آئی سی یو میں داخلہ، طویل عرصے تک وینٹی لیٹر پر رکھنا، بڑھے ہوئے بل اور علاج کو جان بوجھ کر طول دینا جیسی شکایات مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں۔ مریض اسپتال میں سکون کی تلاش میں آتا ہے لیکن اکثر معاشی تباہی اور ذہنی اذیت لے کر واپس جاتا ہے۔ صحت کی خدمات کا مقصد تکلیف کم کرنا تھا، مگر کئی جگہوں پر یہ منافع کمانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ غریب اور کمزور طبقات کے لیے قائم یہ ادارے وسائل کی کمی، لاپروائی، بدعنوانی اور دلالوں کی مداخلت کا شکار رہتے ہیں۔ مفت دوائیں مریضوں تک نہیں پہنچ پاتیں، مشینیں خراب پڑی رہتی ہیں، ٹیسٹ میں تاخیر ہوتی ہے اور مریضوں کو اسپتالوں اور دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ غریب آدمی کے لیے بیماری اب صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ معاشی اور نفسیاتی آفت بن چکی ہے۔
ایک اور سنگین مسئلہ ڈاکٹر بننے کے لیے شارٹ کٹس اپنانے کا بڑھتا رجحان ہے۔ نیٹ (NEET) جیسے امتحانات میں بے ضابطگیوں نے پہلے ہی ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر داخلہ نظام ہی مشکوک ہو جائے اور جعلی ڈگری رکھنے والے لوگ بعد میں صحت کے نظام میں شامل ہونے لگیں تو پورے طبی پیشے کی ساکھ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر بننا برسوں کی سخت تعلیم، منظم تربیت، اخلاقی اقدار اور انسانی حساسیت کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن جب قابلیت کی جگہ پیسہ، بدعنوانی اور جعلسازی لے لے تو نتائج تباہ کن ہی ہوں گے۔ یہ صرف صحت کا بحران نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سماجی اعتماد کا بحران ہے۔
جب شہری ڈاکٹر کی اہلیت پر شک کرنے لگیں، اسپتال میں خوف کے ساتھ جائیں اور دوا خریدتے وقت اس کی اصلیت پر سوال اٹھائیں تو یہ کسی بھی ملک کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔ صحت کے نظام پر اعتماد ختم ہو جانا معاشرے کی اخلاقی روح پر گہرا زخم ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں صحت سے متعلق جرائم کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ جعلی ڈاکٹروں پر عمر بھر کی پابندی، بھاری جرمانے اور فوجداری مقدمات عائد کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی رجسٹریشن اور اسناد کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے جبکہ مضبوط ڈیجیٹل نگرانی کے نظام دھوکہ دہی کے امکانات کو کم کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں تحقیقات اکثر طویل، پیچیدہ اور سست رہتی ہیں۔ مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں اور مجرم اکثر بچ نکلتے ہیں۔ ایسی تاخیر مجرموں میں خوف نہیں بلکہ بے خوفی پیدا کرتی ہے۔
اب وقت صرف تشویش ظاہر کرنے یا رسمی یقین دہانیوں کا نہیں بلکہ فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ بھارت کو فوری طور پر ہر رجسٹرڈ ڈاکٹر کا ایک فعال ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کرنا چاہیے تاکہ شہری فوری طور پر ڈاکٹر کی اہلیت، رجسٹریشن اور خدمات کی تفصیلات کی جانچ کر سکیں۔ میڈیکل کونسلوں کو کاغذی اداروں سے نکل کر فعال نگرانی کے نظام میں تبدیل ہونا ہوگا۔ اسپتالوں کا باقاعدہ معائنہ ہو، ڈاکٹروں کی اسناد کی جسمانی تصدیق کی جائے اور دھوکہ دہی کے معاملات میں صرف جعلی ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ دستاویزات کی جانچ سے وابستہ افسران اور ملازمین کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ جوابدہی کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم میں اخلاقی اقدار اور انسانی حساسیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ طب صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس خدمت ہے۔ ڈاکٹر کی پہلی ذمہ داری منافع کمانا نہیں بلکہ زندگی بچانا ہونی چاہیے۔ اگر صحت کے نظام سے ہمدردی ختم ہو گئی تو مشینیں تو باقی رہ جائیں گی، مگر انسانیت نہیں بچے گی۔
آج معاشرہ خوف اور عدم تحفظ کے دور سے گزر رہا ہے۔ جب محافظ ہی استحصال کرنے لگیں، جب جان بچانے والے ہی جان کے لیے خطرہ بن جائیں اور جب اسپتال اعتماد کی جگہ شک کی علامت بن جائیں تو شہری آخر کہاں جائیں؟ یہ سوال صرف مدھیہ پردیش یا راجستھان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔ یہ صرف صحت کے نظام کا مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی زوال اور سماجی انتشار کی علامت ہے۔
وکست بھارت 2047 کا خواب صرف معاشی ترقی سے پورا نہیں ہوگا۔ یہ تبھی بامعنی بنے گا جب شہری خود کو محفوظ محسوس کریں؛ جب اسپتال امید کے مراکز بنیں؛ جب دوائیں اعتماد پیدا کریں؛ اور جب ڈاکٹر کا نام سنتے ہی احترام اور بھروسے کا احساس پیدا ہو۔ سڑکیں، صنعتیں، ٹیکنالوجی اور سرمایہ اہم ہیں، لیکن انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ اگر زندگی ہی محفوظ نہ ہو تو ترقی کا ہر خواب ادھورا رہ جائے گا۔
طب جیسے مقدس پیشے میں پھیلتی بدعنوانی، دھوکہ دہی اور اخلاقی زوال کو وقت رہتے روکنا ہوگا، ورنہ یہ صورتحال ناقابل واپسی بن سکتی ہے۔ یہ صرف قانونی چیلنج نہیں بلکہ قومی کردار کا سوال ہے۔ اگر بروقت سخت اور شفاف اقدامات نہ کیے گئے تو جعلی ڈاکٹروں، نقلی دواؤں اور منافع خوری کا جال معاشرے کے اعتماد کو مکمل طور پر نگل جائے گا۔ ترقی یافتہ بھارت کے سفر میں صحت کے نظام میں شفافیت، دیانتداری، جوابدہی اور انسانی ہمدردی کوئی اختیار نہیں بلکہ لازمی شرط ہیں۔ کیونکہ جہاں زندگی محفوظ نہ ہو وہاں ترقی کا کوئی خواب دیرپا نہیں ہو سکتا۔
