Last Updated on September 9, 2025 8:21 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی، 9 ستمبر 2025۔


قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن بھارت کے پندرہویں نائب صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے اپوزیشن انڈیا بلاک کے امیدوار اور سپریم کورٹ کے سابق جج بی سوڈرشھن ریڈی کو شکست دی۔

نتیجہ اور ووٹنگ

انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل اور ریٹرننگ آفیسر پی سی موڈی نے رادھا کرشنن کی کامیابی کا اعلان کیا۔ این ڈی اے امیدوار کو 452 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن امیدوار سوڈرشھن ریڈی کو 300 ووٹ حاصل ہوئے۔ یہ نتیجہ باضابطہ طور پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھیج دیا جائے گا۔

نائب صدر کے انتخاب کے لیے 781 اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج بنایا گیا تھا جس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین شامل ہیں۔ پولنگ صبح 10 بجے شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک جاری رہی۔ کانگریس کے مطابق اپوزیشن کے لگ بھگ 315 اراکین پارلیمان نے اپنا ووٹ ڈالا۔

امیدواروں کا تعارف

این ڈی اے نے 17 اگست کو سی پی رادھا کرشنن کو نائب صدر کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ رادھا کرشنن اس وقت مہاراشٹر کے گورنر ہیں اور تمل ناڈو کی او بی سی برادری گونڈار–کونگو ویلالر کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ دو مرتبہ کوئمبتور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی تمل ناڈو یونٹ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا انتخاب این ڈی اے کی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد جنوبی ہند اور پسماندہ طبقات میں اپنی سیاسی جڑوں کو مضبوط کرنا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن نے بی سوڈرشھن ریڈی کو میدان میں اتارا تھا۔ وہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے معروف جج اور سپریم کورٹ کے سابق رکن ہیں۔ ان کی امیدواری کو اپوزیشن نے آئینی وقار اور عدالتی وقوف کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

سیاسی پس منظر

رادھا کرشنن کی جیت کے ساتھ ہی این ڈی اے نے ایک اور اعلیٰ آئینی عہدے پر اپنی گرفت قائم کر لی ہے۔ موجودہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے بعد رادھا کرشنن کی کامیابی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں حکومت کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ رادھا کرشنن کی امیدواری دراصل این ڈی اے کی جنوبی ہند میں حکمت عملی کا حصہ تھی، جہاں بی جے پی کو خاطر خواہ کامیابیاں نہیں مل سکیں۔ ان کا او بی سی پس منظر بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکمران اتحاد سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کو اپنی پالیسی کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔

اپوزیشن انڈیا بلاک کے لیے یہ انتخابی معرکہ زیادہ تر علامتی حیثیت رکھتا تھا۔ اگرچہ سوڈرشھن ریڈی کی شخصیت کو وسیع احترام حاصل ہے لیکن پارلیمانی عددی طاقت کی کمی کے باعث وہ اصل میں سخت مقابلہ پیش نہیں کر سکے۔ تاہم اس عمل کے ذریعے اپوزیشن نے جمہوری تنوع اور اپنی وحدت کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔

آگے کا منظرنامہ

نائب صدر کے طور پر سی پی رادھا کرشنن اب راجیہ سبھا کے چیئرمین بھی ہوں گے۔ موجودہ سیاسی حالات میں جہاں حکومت کے اصلاحی ایجنڈے اور اپوزیشن کے دباؤ میں شدت متوقع ہے، وہاں ان کی غیر جانبداری اور پارلیمانی امور چلانے کی صلاحیت کو قریب سے دیکھا جائے گا۔

رادھا کرشنن کی کامیابی نہ صرف این ڈی اے کی سیاسی گرفت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ آج کے ہندوستان میں علاقائی اور سماجی طبقات کی نمائندگی سیاست کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔