Last Updated on September 16, 2025 12:55 am by INDIAN AWAAZ

دوحہ اجلاس نے نہ صرف اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ قطر کے دفاع کو عرب و اسلامی دنیا کے اجتماعی دفاع سے جوڑ دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس عرب و اسلامی اتحاد کو ایک نئے باب میں داخل کرتا ہے جہاں اجتماعی سلامتی کا اصول فلسطینی مقصد اور قطر کی خود مختاری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

AMN DOHA

دوحہ، 15 ستمبر 2025 – دوحہ میں پیر کے روز منعقد ہونے والے ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کو ’’خود مختاری پر کھلی یلغار‘‘ اور ’’عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ‘‘ قرار دیا۔ اجلاس میں شریک عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہان نے اس بات پر زور دیا کہ قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی دکھائی جائے گی اور اس جارحیت کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔

پس منظر اور اجلاس کی میزبانی

یہ اجلاس امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر اور ان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے شرکت کی اور قطر کو بھرپور انداز میں شکریہ پیش کیا۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ قطر پر حملہ دراصل تمام عرب و اسلامی ریاستوں پر حملہ ہے۔

حملے کی مذمت اور تفصیلات

اعلامیہ میں کہا گیا کہ 9 ستمبر کو دوحہ کے رہائشی علاقے پر اسرائیلی بمباری میں اسکول، نرسریاں، سفارتی دفاتر اور مذاکراتی وفود کے لیے مخصوص رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ اس حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک قطری شہری شہید ہوا۔ اجلاس نے اس حملے کو بزدلانہ، غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

اعلامیہ کے اہم نکات

اجلاس کے 25 نکاتی اعلامیہ میں مندرجہ ذیل نکات پر زور دیا گیا:

  • اسرائیلی جارحیت کی مذمت: نسل کشی، نسلی تطہیر، محاصرے اور توسیع پسندانہ منصوبوں کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
  • قطر کے ساتھ یکجہتی: قطر کے کسی بھی ممکنہ دفاعی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان۔
  • قانونی و سفارتی اقدامات: اسرائیل پر پابندیاں لگانے، اسلحہ کی فراہمی روکنے اور سفارتی تعلقات کے ازسرنو جائزے کی اپیل۔
  • بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ: اسرائیلی جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری اور احتساب کے لیے عملی اقدامات پر زور۔
  • اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت پر سوال: اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور کی مسلسل خلاف ورزی پر اس کی رکنیت پر نظرثانی کا مطالبہ۔
  • غزہ کی تعمیر نو: قاہرہ میں مجوزہ امدادی کانفرنس کے ذریعے فوری بحالی اور تعمیر نو کا عزم۔
  • فلسطینی ریاست کی حمایت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی القدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور۔

بین الاقوامی برادری کے لیے پیغام

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے ثالثی مراکز کو نشانہ بنانا نہ صرف قطر کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ امن قائم کرنے کی کوششوں پر براہ راست حملہ ہے۔ اس صورتحال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی گئی۔

عرب و اسلامی رہنماؤں نے عالمی برادری خصوصاً سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مزید خلاف ورزیوں سے باز رکھے اور فوری طور پر بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے اقدامات کا محاسبہ کرے۔

علاقائی اور عالمی سطح پر دیگر فیصلے

اعلامیہ میں متفقہ طور پر کہا گیا کہ:

  • کسی بھی عرب یا اسلامی ریاست کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں کو ناقابل قبول اشتعال انگیزی سمجھا جائے گا۔
  • خطے میں اجتماعی سلامتی اور مشترکہ تقدیر کا تصور عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
  • مشرق وسطیٰ کو جوہری اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے پر زور دیا گیا۔
  • فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔
  • انسانی امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

فلسطینی مسئلے پر زور

اعلامیہ نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن فلسطینی مسئلے کو پس پشت ڈالنے یا مذاکراتی ثالثوں پر حملے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے۔

مستقبل کے اقدامات اور تعاون

اجلاس نے سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والی ’’دو ریاستی حل کانفرنس‘‘ کا خیرمقدم کیا اور تمام ممالک سے فلسطین کی ریاست کو وسیع پیمانے پر تسلیم کرنے کی اپیل کی۔ اسی طرح اردن کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی تاریخی سرپرستی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

قطر کی میزبانی پر خراج تحسین

اعلامیہ کے آخر میں امیر قطر اور قطری عوام کو شکریہ پیش کیا گیا جنہوں نے سربراہی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے حکمت و فراست کے ساتھ انتھک کوششیں کیں۔ قطر کے کردار کو ’’مہذب، ذمہ دار اور عالمی قانون کی پاسداری کرنے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی و عالمی امن کے لیے سنگ میل سے تعبیر کیا گیا۔

دوحہ اجلاس نے نہ صرف اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ قطر کے دفاع کو عرب و اسلامی دنیا کے اجتماعی دفاع سے جوڑ دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس عرب و اسلامی اتحاد کو ایک نئے باب میں داخل کرتا ہے جہاں اجتماعی سلامتی کا اصول فلسطینی مقصد اور قطر کی خود مختاری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔