Last Updated on March 15, 2026 2:55 pm by INDIAN AWAAZ

اے ایم این / نیوز ڈیسک
خلیج کے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جب ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر الزام لگایا ہے کہ اس کی سرزمین کو ایرانی اہداف پر میزائل حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ رات کے دوران جزیرہ خارگ اور ابو موسیٰ پر ہونے والے حملے ہائمارس (HIMARS) راکٹ سسٹم کے ذریعے کیے گئے جو مبینہ طور پر راس الخیمہ اور دبئی کے قریب نصب تھے۔
یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے پورے خلیجی خطے میں عدم استحکام کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے یو اے ای کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہوئے اہم بندرگاہوں کے قریب علاقوں کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان میں جبل علی بندرگاہ، خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ شامل ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ مقامات ممکنہ جوابی کارروائی میں نشانہ بن سکتے ہیں۔
تاہم یو اے ای حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ یو اے ای نے اپنی سرزمین سے کسی بھی حملے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اب بھی مکالمے اور سفارت کاری کے راستے پر قائم ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق جھوٹی ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں دس افراد کے خلاف فوری مقدمہ بھی شروع کیا ہے تاکہ عوام میں پھیلنے والی افواہوں کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب یو اے ای کے فجیرہ میں ایک آئل تنصیب پر ہنگامی ٹیمیں ٹھنڈک کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک ڈرون کو فضا میں مار گرانے کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس واقعے میں ایک اردنی شہری معمولی زخمی ہوا، تاہم تیل کی تنصیب کی مجموعی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔
ادھر دبئی کے مرینا اور الصفوح علاقوں کے رہائشیوں نے اتوار کی صبح کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ دھماکے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے آنے والے خطرات کو کامیابی سے ناکام بنانے کے نتیجے میں ہوئے۔ وزارت دفاع نے بعد میں اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں نو بیلسٹک میزائلوں اور 33 ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب یو اے ای نے اتوار کی صبح ایک نئے میزائل حملے کی بھی اطلاع دی ہے۔ یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل ایران نے یو اے ای کی تین بڑی بندرگاہوں کو خالی کرانے کی وارننگ دی تھی۔ جاری تنازع کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے کسی ہمسایہ ملک میں امریکی اثاثوں کے علاوہ دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اتحادی ممالک عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے۔
اسی دوران لبنان میں اسرائیلی حملوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اب تک تقریباً 800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جاری حملوں کے باعث 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
