Last Updated on January 4, 2026 10:39 pm by INDIAN AWAAZ


امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے تازہ اداریے میں وینزویلا کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو نہ صرف غیر قانونی بلکہ انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے۔ اداریے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین خطے میں غیر معمولی فوجی طاقت تعینات کی، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، سات دیگر جنگی جہاز، درجنوں جنگی طیارے اور تقریباً 15 ہزار امریکی فوجی شامل تھے۔
اداریے کے مطابق ابتدا میں اس فوجی طاقت کو چھوٹی کشتیوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، جن پر الزام تھا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ تاہم ہفتے کے روز صورتحال اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا اور اسے “بڑے پیمانے پر حملہ” قرار دیا۔
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ نکولس مادورو ایک غیر جمہوری اور جابرانہ حکمران ہیں اور ان کی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور سیاسی مخالفین کی من مانی گرفتاریوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ اس کے باوجود، اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کسی بھی ناپسندیدہ حکومت کو طاقت کے زور پر ہٹانے کی کوشش اکثر مزید تباہی کو جنم دیتی ہے۔
اداریے میں افغانستان، عراق اور لیبیا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان مداخلتوں کے نتائج آج بھی دنیا بھگت رہی ہے۔ اسی طرح لاطینی امریکا میں بھی ماضی کی امریکی مداخلتوں نے چلی، کیوبا، گوئٹے مالا اور نکاراگوا جیسے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا۔
امریکہ نے افغانستان میں بیس برس گزارے مگر ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں ناکام رہا، اور لیبیا میں آمریت کا خاتمہ کر کے وہاں ایک منتشر اور ٹوٹا ہوا ریاستی ڈھانچہ چھوڑ دیا۔ عراق میں 2003 کی جنگ کے المناک نتائج آج بھی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
اخبار نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ کارروائی کی، جو امریکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر انتظامیہ کے پاس واقعی کوئی جواز ہے تو اسے آئینی طریقے سے کانگریس کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
اداریے میں “نارکو دہشت گردی” کے دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وینزویلا امریکہ میں منشیات کے بحران کا بڑا ذریعہ نہیں ہے۔ آخر میں نیویارک ٹائمز نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی میں مونرو ڈاکٹرائن کو دوبارہ نافذ کرنے کی بات دراصل لاطینی امریکا پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی عکاس ہے، جو خطے کو ایک نئے بین الاقوامی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
