عندلیب اختر
دنیا بھر میں بھوک کے خلاف جاری جنگ میں اگرچہ مسلسل تیسرے سال معمولی پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک “زیرو ہنگر” (بھوک کا مکمل خاتمہ) کا عالمی ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھی تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک کا شکار رہے، جبکہ دو ارب 10 کروڑ افراد کو مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک باقاعدگی سے میسر نہیں آ سکی۔ جنگوں، موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی غذائی مہنگائی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور انسانی امداد میں کمی نے غذائی تحفظ کو ایک بار پھر عالمی پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل کر دیا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو دنیا لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو بھوک، غذائی قلت اور ناقص غذائیت سے بچانے میں ناکام رہے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO)، زرعی ترقی کے بین الاقوامی فنڈ (IFAD)، اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال (UNICEF)، عالمی پروگرام برائے خوراک (WFP) اور عالمی ادار? صحت (WHO) کی مشترکہ رپورٹ دنیا میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی صورتحال”** کے مطابق 2025 میں دنیا کی 7.8 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک یا غذائی قلت کا شکار رہے۔ یہ شرح 2024 میں 8.1 فیصد اور 2022 میں 8.6 فیصد تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن رفتار انتہائی سست ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال افریقہ میں 30 کروڑ 90 لاکھ افراد مناسب خوراک سے محروم رہے، جبکہ ایشیا میں یہ تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ رہی۔ اگرچہ افریقہ میں بھوک کی شرح 2024 کے 20.3 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 20 فیصد تک آ گئی، لیکن آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث بھوک سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد مزید بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں افریقہ کو غذائی تحفظ کے حوالے سے مزید سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


رپورٹ میں صرف بھوک ہی نہیں بلکہ غذائی عدم تحفظ کی مجموعی صورتحال بھی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً دو ارب 10 کروڑ افراد درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں یا تو مناسب مقدار میں خوراک میسر نہیں آئی یا پھر انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک کی بجائے کم معیار کی خوراک پر گزارا کرنا پڑا۔ اگرچہ یہ صورتحال کووڈ۔19 وبا کے عروج کے زمانے کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوئی ہے، تاہم وبا سے پہلے کے دور کے مقابلے میں دنیا اب بھی زیادہ غیر محفوظ غذائی حالات سے گزر رہی ہے۔


خطوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ میں 56.6 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار رہی، جبکہ ایشیا میں یہ شرح 20.3 فیصد، لاطینی امریکہ اور کیریبین میں 22.9 فیصد اور شمالی امریکہ و یورپ میں صرف 8.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار دنیا میں خوراک کی دستیابی اور معاشی مواقع کے درمیان موجود گہری عدم مساوات کو نمایاں کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری مسلح تنازعات، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، سیلاب اور انسانی امداد میں کمی عالمی غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو توریرو کے مطابق اگر توانائی اور کھاد کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو زرعی پیداوار مہنگی ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور 2030 تک بھی تقریباً 52 کروڑ افراد بھوک کا شکار رہ سکتے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق بچوں میں قد کی نشوونما میں رکاوٹ، شدید کمزوری، کم وزن پیدائش اور ماں کا دودھ پلانے جیسے شعبوں میں کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن 15 سے 49 برس کی خواتین میں خون کی کمی (اینیمیا) کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں موٹاپا بھی ایک تیزی سے ابھرتا ہوا صحت کا بحران بن چکا ہے۔ بالغ افراد میں موٹاپے کی شرح 2012 میں 12.1 فیصد تھی جو 2024 میں بڑھ کر 16.2 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق صرف 30.8 فیصد بچوں کو، جن کی عمر 6 سے 23 ماہ کے درمیان ہے، متنوع اور متوازن غذا میسر آ رہی ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچے اب بھی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت اور ناقص غذائیت مستقبل میں انسانی صحت، تعلیمی استعداد اور معاشی ترقی پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔


صحت بخش خوراک تک رسائی کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر بہت بڑا چیلنج موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 میں تقریباً دو ارب 97 کروڑ افراد ایسی خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے جو جسمانی ضروریات پوری کر سکے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کم ہو کر دو ارب 69 کروڑ رہ گئی، تاہم اب بھی دنیا کی ایک بڑی آبادی متوازن غذا خریدنے سے قاصر ہے۔رپورٹ میں اس غلط فہمی کو بھی دور کیا گیا ہے کہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق صارفین جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کا تقریباً
70 سے 75 فیصد حصہ فصل کے کھیت سے نکلنے کے بعد کے مراحل، مثلاً پراسیسنگ، پیکجنگ، ذخیرہ، کولڈ چین، ٹرانسپورٹ، تھوک تجارت اور سپلائی چین کے اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے۔