Last Updated on February 8, 2026 11:56 pm by INDIAN AWAAZ

FILE PHOTO
پاک بھارت میچ کا بائیکاٹ: سری لنکا کے بعد یو اے ای کی بھی پاکستان سے اپیل
پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ سری لنکا کے بعد اب اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ وہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔
ذرائع کے مطابق اماراتی کرکٹ بورڈ نے پی سی بی کو پیغام دیا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو ٹورنامنٹ اور شائقین دونوں کے لیے نقصان دہ ہوں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سری لنکا کرکٹ نے بھی پاکستان کے فیصلے پر تشویش ظاہر کی تھی اور پی سی بی کو باقاعدہ خط لکھ کر اپیل کی تھی کہ وہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے۔
رپورٹ کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے خط میں واضح کیا تھا کہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ہائی پروفائل پاک بھارت میچ کی منسوخی سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ سری لنکا کرکٹ کے مطابق یہ میچ نہ صرف کرکٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ ملک کی معیشت اور سیاحت کے لیے بھی بڑا ایونٹ سمجھا جاتا ہے۔
سری لنکا کرکٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر پاکستان نے شرکت نہ کی تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جن میں سری لنکا کرکٹ کو مالی نقصان اور متوقع سیاحتی آمدن میں نمایاں کمی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاک بھارت میچ کے لیے ٹکٹوں کی فروخت سمیت تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
سری لنکن میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے بائیکاٹ اعلان کے بعد ٹورزم سیکٹر کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے، کیونکہ کئی غیر ملکی اور مقامی شائقین نے ہوٹل بکنگ منسوخ کر دی ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ سری لنکا کرکٹ نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دیا ہے، اس لیے پی سی بی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر معمولی حالات، دونوں بورڈز کے دیرینہ تعلقات اور کرکٹ کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میدان میں اترنے سے روک رکھا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ اب کرکٹ کے ساتھ ساتھ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔
کوالالمپور میں مودی-انور مذاکرات، بھارت-ملائیشیا تعلقات کو نیا اسٹریٹجک فروغ
وزیراعظم نریندر مودی نے آج کوالالمپور میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے ساتھ تفصیلی اور ہمہ جہت مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں سیاسی تعلقات، دفاعی اور سکیورٹی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت، توانائی، تعلیم، سیاحت اور علاقائی امور سمیت مختلف اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔
وزیراعظم مودی کے ملائیشیا کے دورے کے دوسرے اور آخری دن دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں سولہ معاہدوں اور شراکت داریوں پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات، آڈیو ویژول مشترکہ پروڈکشن، بدعنوانی کی روک تھام اور مقابلہ، اور سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں انٹیلی جنس شیئرنگ، بحری سلامتی، دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں مزید وسعت آئے گی۔
یہ وزیراعظم مودی کا ملائیشیا کا تیسرا سرکاری دورہ تھا اور اس وقت کے بعد پہلا دورہ تھا جب دونوں ممالک کے تعلقات کو “جامع اسٹریٹجک شراکت داری” (Comprehensive Strategic Partnership) کا درجہ دیا گیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور ملائیشیا کے درمیان تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے اور دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، صحت اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سی ای او فورم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے آسیان کی مرکزیت کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا اور ملائیشیا کو آسیان کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
بات چیت کے بعد جاری کردہ بھارت-ملائیشیا مشترکہ بیان میں دونوں فریقوں نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت میں اضافہ اور ترجیحی شعبوں جیسے بنیادی ڈھانچہ، قابل تجدید توانائی، جدید مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دسویں بھارت-ملائیشیا سی ای اوز فورم کے نتائج کا بھی خیرمقدم کیا۔
دورے کے دوران وزیراعظم نے ملائیشیا کی بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ کاروباری نمائندوں سے ملاقات بھی کی اور سرمایہ کاری منصوبوں اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ ملائیشیا آسیان کے اندر بھارت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً بیس ارب امریکی ڈالر کے قریب ہے۔
امیت شاہ کا دعویٰ، بی جے پی کی نظریاتی حکمرانی نے پسماندہ ریاستوں کو ترقی کی راہ پر ڈالا
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی کی نظریے پر مبنی حکمرانی نے ان ریاستوں کو تبدیل کر دیا ہے جو کبھی پسماندہ سمجھی جاتی تھیں، جن میں چھتیس گڑھ بھی شامل ہے۔
نوا رائے پور میں آرگنائزر کے کنکلیو کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا عنوان تھا “چھتیس گڑھ @ 25: زاویہ کی تبدیلی: سلامتی، خوشحالی اور استحکام”، امیت شاہ نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے بعد بی جے پی کے پندرہ سالہ دور حکومت میں چھتیس گڑھ نے نمایاں ترقی دیکھی۔
امیت شاہ نے کہا کہ حال ہی میں یورپی یونین کے صدر نے بھی اس بات کا ذکر کیا کہ جب بھارت مستحکم ہوتا ہے تو پوری دنیا زیادہ محفوظ اور مستحکم بن جاتی ہے۔
بنگال میں ریلوے منصوبوں کا افتتاح، آسن سول-بوکارو نئی ٹرین سروس کا آغاز
ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے آج مغربی بنگال میں سیوری روڈ اوور برج، کمارپور روڈ اوور برج کا ورچوئل افتتاح کیا اور آسن سول سے بوکارو کے درمیان نئی ٹرین سروس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ منصوبے ریاست میں ریلوے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، حفاظت میں اضافہ کرنے اور علاقائی رابطے بہتر کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہیں۔
وزیر ریلوے نے بتایا کہ اس سال مغربی بنگال کے لیے ریلوے کے شعبے میں 14 ہزار 205 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو 2009 سے 2014 کے درمیان اوسط مختص رقم کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہے۔
بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے سے کسانوں کو نقصان کے دعوے کو حکومت نے گمراہ کن قرار دے دیا
حکومت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچائے گا۔
پریس انفارمیشن بیورو (PIB) کی فیکٹ چیک یونٹ نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یونٹ کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اسے عوام میں الجھن اور غلط فہمی پھیلانے کے مقصد سے پھیلایا جا رہا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں ملک کے زرعی اور ڈیری شعبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔
دہلی میں انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026، گلوبل ساؤتھ میں پہلی عالمی اے آئی کانفرنس کی تاریخی میزبانی
انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 مصنوعی ذہانت (AI) پر عالمی تعاون کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ پہلی بار ہوگا کہ گلوبل ساؤتھ میں عالمی سطح کی اے آئی سمٹ منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ سمٹ نئی دہلی میں اس ماہ کی 16 تاریخ سے 20 تاریخ تک منعقد ہوگی۔
یہ سمٹ ذمہ دار، شمولیتی اور عوامی فلاح پر مبنی اے آئی مستقبل کی تشکیل میں بھارت کی بڑھتی ہوئی قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سمٹ میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک شرکت کریں گے۔ ممالک کی شمولیت “سیون چکرز” یعنی ورکنگ گروپس کے ذریعے ہوگی۔
یہ چکرز اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کریں گے، جن میں انسانی وسائل، شمولیت، قابل اعتماد اے آئی، سائنس، پائیداری، اے آئی وسائل تک رسائی، اور اقتصادی ترقی شامل ہیں۔ ان ورکنگ گروپس کے ذریعے بھارت کا مقصد عالمی اے آئی اصول و ضوابط تشکیل دینے میں کردار ادا کرنا اور مقامی سطح کے چیلنجز کو عالمی حل سے جوڑنا ہے۔
اس سمٹ کے نتائج آنے والے برسوں میں پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں اور صنعت کے رہنماؤں کے لیے رہنما خطوط فراہم کریں گے۔
سمٹ کی بنیاد تین رہنما اصولوں یعنی “لوگ، سیارہ اور ترقی” (People, Planet and Progress) پر رکھی گئی ہے۔ یہ اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال ہو، پائیدار ترقی کو فروغ دے اور جامع اقتصادی ترقی کا ذریعہ بنے۔
یہ سمٹ عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرے گی، مشترکہ معیار قائم کرنے میں مدد دے گی اور بھارت کو پائیدار ترقی اور عوامی بھلائی کے لیے اے آئی کے استعمال میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کرے گی۔
’ہماری ٹیم بہت مضبوط ہے‘، ٹرمپ کا ٹی20 ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار
بھارت میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں کرکٹ ورلڈ کپ جاری ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں ٹیم یو ایس اے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ ہماری ٹیم بہت مضبوط ہے۔ امریکا آپ کے ساتھ ہے‘۔

خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کا پہلا میچ گزشتہ روز بھارت کے ساتھ ہوا جس میں بھارت نے امریکا کو شکست دے دی۔
گروپ اے کے میچ میں بھارت کے 162 رنز کے ہدف کے تعاقب میں امریکا کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 132 رنز بناسکی۔
ممبئی میں کھیلے گئے میچ میں امریکا نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا اور بھارتی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 161 رنز بنائے تھے۔
