Last Updated on March 14, 2026 12:31 am by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی، 13 مارچ 2026 — بھارتی شیئر بازار میں جمعہ کو شدید فروخت دیکھی گئی اور اہم اشاریے مسلسل تیسرے دن گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ عالمی منڈیوں کی کمزوری، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔

30 حصص پر مشتمل اہم اشاریہ BSE Sensex 1,470.50 پوائنٹس یعنی 1.93 فیصد گر کر 74,563.92 پر بند ہوا۔ دورانِ تجارت یہ 1,579 پوائنٹس تک نیچے چلا گیا تھا۔ اسی طرح 50 حصص پر مشتمل NSE Nifty 50 488.05 پوائنٹس یعنی 2.06 فیصد کی کمی کے ساتھ 23,151.10 پر بند ہوا۔

گزشتہ تین تجارتی دنوں کے دوران سینسیکس میں 4.65 فیصد جبکہ نفٹی میں 4.57 فیصد کی مجموعی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو بازار میں جاری دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔


عالمی عوامل کا اثر

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا براہِ راست اثر بھارتی بازاروں پر بھی پڑا۔ بین الاقوامی خام تیل کا معیار Brent Crude 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا اور تقریباً 100.7 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے عالمی مہنگائی اور معاشی سست روی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی گراوٹ رہی، جن میں Nikkei 225، Hang Seng Index، Kospi اور SSE Composite Index شامل ہیں۔

امریکہ میں بھی گزشتہ سیشن کے دوران Dow Jones Industrial Average تقریباً 740 پوائنٹس گر گیا، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔


شعبہ وار کارکردگی

بینکنگ اور مالیاتی شعبہ

بینکنگ اسٹاکس میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔ سرکاری بینک State Bank of India کے حصص میں تقریباً 3.61 فیصد کی کمی آئی جبکہ نجی بینک HDFC Bank کے شیئر بھی 1.93 فیصد گر گئے۔

بینکنگ اشاریہ Nifty Bank اپنے 52 ہفتوں کی بلند ترین سطح سے تقریباً 12.96 فیصد نیچے آ چکا ہے۔


انفراسٹرکچر اور کیپٹل گڈز

انفراسٹرکچر سیکٹر میں بھی بھاری دباؤ دیکھا گیا۔ انجینئرنگ کمپنی Larsen & Toubro کے حصص 7.38 فیصد گر گئے، جس نے بازار پر منفی اثر ڈالا۔


ایف ایم سی جی شعبہ

کمزور بازار کے باوجود کنزیومر گڈز سیکٹر میں کچھ مضبوطی دیکھی گئی۔ Hindustan Unilever ان چند کمپنیوں میں شامل رہی جن کے حصص میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار اکثر ایف ایم سی جی جیسے دفاعی شعبوں کا رخ کرتے ہیں۔


ٹیلی کام سیکٹر

ٹیلی کام شعبہ نسبتاً مستحکم رہا۔ Bharti Airtel کے حصص میں اضافہ ہوا جس نے بازار کو کچھ سہارا فراہم کیا۔


فارما سیکٹر

دوا سازی کے شعبے میں دباؤ دیکھا گیا۔ Laurus Labs کے حصص میں 4 فیصد سے زیادہ کمی آئی۔ رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں کمپنی کی برآمدی آمدنی میں تقریباً 47 فیصد کمی ہوئی ہے۔


قابلِ تجدید توانائی

قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں کچھ کمپنیوں کے حصص میں تیزی رہی۔ ACME Solar Holdings کے حصص 6.43 فیصد بڑھ گئے کیونکہ کمپنی نے راجستھان میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کا دوسرا مرحلہ شروع کیا ہے۔


دیگر نمایاں کمپنیاں

انفراسٹرکچر کمپنی Ramky Infrastructure کے حصص تقریباً 4.85 فیصد بڑھ گئے۔ کمپنی کو مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے ایک ہائی ٹیک فارماسیوٹیکل پارک کے قیام کا معاہدہ ملا ہے۔


مڈ کیپ اور اسمال کیپ مارکیٹ

وسیع تر بازار میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔

  • S&P BSE MidCap Index میں 2.61 فیصد کمی
  • S&P BSE SmallCap Index میں 2.67 فیصد کمی

بی ایس ای میں مارکیٹ بریڈتھ کمزور رہی، جہاں 3,348 شیئرز گرے جبکہ صرف 941 میں اضافہ ہوا۔


کرنسی اور اتار چڑھاؤ

بھارتی روپیہ بھی دباؤ کا شکار رہا اور 20 پیسے کم ہو کر 92.45 روپے فی ڈالر کی ریکارڈ نچلی سطح پر بند ہوا۔

بازار میں اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرنے والا India VIX 5.23 فیصد بڑھ کر 22.65 پر پہنچ گیا۔


کموڈیٹی اور بانڈ مارکیٹ

کموڈیٹی بازار میں سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ ایم سی ایکس گولڈ فیوچرز تقریباً 0.54 فیصد کم ہو کر 59,400 روپے فی 10 گرام کے قریب آ گئے۔

دوسری جانب بھارت کے 10 سالہ سرکاری بانڈ کی پیداوار بڑھ کر 6.682 فیصد ہو گئی۔