
عندلیب اختر
دنیا میں انسان پہلے سے زیادہ طویل عمر پا رہا ہے۔ عمر کا بڑھنا بظاہر زندگی کی ایک خوش آئند علامت ہے۔ انسان نے طب، سائنس اور بہتر غذائی سہولتوں کے ذریعے زندگی کی اوسط مدت میں اضافہ کیا ہے، لیکن ایک بنیادی سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے: کیا زیادہ عمر کا مطلب زیادہ باوقار، خودمختار اور محفوظ زندگی بھی ہے؟ کیا لمبی زندگی باوقار زندگی بھی ہے؟ غربت، تنہائی، صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی، صنفی امتیاز اور تشدد جیسے مسائل لاکھوں بزرگوں کے لیے عمر کے آخری برسوں کو مشکل بنا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں اقوام متحدہ معمر افراد کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قانونی طور پر پابند عالمی معاہدے کی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔
دنیا یکم اکتوبر کو عالمی یومِ معمر افراد** مناتی ہے۔ اس سال کا موضوع ہے: ’’طویل عمری کا دور: طویل زندگی کے لیے نظاموں پر ازسرنو غور‘‘۔ یہ موضوع محض عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف توجہ نہیں دلاتا بلکہ اس سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ معاشرے طویل ہوتی زندگی کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔اکتوبر 2026 میں اقوام متحدہ میں معمر افراد کے انسانی حقوق سے متعلق بین الحکومتی ورکنگ گروپ بھی دوبارہ اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے۔ اس عمل کا مقصد معمر افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی تیاری کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بڑھتی عمر کو اب صرف پنشن، علاج یا خاندان کی دیکھ بھال کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ معمر افراد بھی مکمل حقوق رکھنے والے شہری ہیں—انہیں عزت، خودمختاری، مساوات، تحفظ اور فیصلہ سازی میں شرکت کا وہی حق حاصل ہے جو معاشرے کے دوسرے افراد کو حاصل ہے۔
بڑھتی عمر، بڑھتی ہوئی تنہائی
بڑھاپا ہر شخص کے لیے ایک جیسا تجربہ نہیں ہوتا۔ کسی کے لیے یہ ریٹائرمنٹ کے بعد سکون اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا مرحلہ ہو سکتا ہے، تو کسی دوسرے کے لیے مالی مشکلات، تنہائی، صحت کے مسائل اور سماجی بے دخلی کا دور۔خاص طور پر ان افراد کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی معاشی یا سماجی عدم مساوات کا سامنا کرتے ہوئے گزاری ہو۔ غربت، صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی، تشدد، بلا معاوضہ نگہداشت کی ذمہ داریاں اور فیصلہ سازی سے دوری جیسی مشکلات عمر کے آخری حصے میں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ کئی مرتبہ مزید گہری ہو جاتی ہیں۔اسی لیے معمر افراد کے انسانی حقوق کی بحث میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بزرگ شہریوں کو ایک یکساں گروہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی ضروریات، تجربات اور مشکلات ان کے جنس، معاشی حالات، معذوری اور سماجی پس منظر کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
بزرگ خواتین کی دوہری آزمائش
اس بحث کا ایک انتہائی اہم پہلو معمر خواتین کی صورتحال ہے۔ عمر اور صنفی امتیاز کئی مرتبہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ جن خواتین نے زندگی کے ابتدائی اور درمیانی مراحل میں معاشی انحصار، گھریلو تشدد، غیر مساوی مواقع یا بلا معاوضہ نگہداشت کا بوجھ اٹھایا ہو، ان مشکلات کے اثرات بڑھاپے میں بھی ان کا پیچھا کرتے ہیں۔معمر عورت کو صرف ماں، دادی، نانی یا خاندان کی نگہداشت کرنے والی فرد کے طور پر دیکھنا اس کی انفرادی شناخت اور حقوق کو محدود کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے بعد بھی وہ ایک مکمل انسان، شہری اور حقوق رکھنے والی فرد ہے، جس کے پاس اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کی صلاحیت اور حق ہونا چاہیے۔
اکثر بزرگوں کو ایسے افراد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہیں پنشن، علاج، خاندان کی مدد یا سرکاری امداد کی ضرورت ہے۔ یہ سہولتیں یقیناً ضروری ہیں، لیکن انسانی حقوق کا نقط? نظر اس سے آگے کا سوال اٹھاتا ہے۔سینئر شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی شوبھا شکلا* کے مطابق معمر افراد کو محض خیرات یا نگہداشت حاصل کرنے والے افراد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بزرگ افراد معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ خاندان، برادری، معیشت اور عوامی زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے والے حقوق کے حامل شہری ہیں۔یہ سوچ ایک بنیادی تبدیلی کی متقاضی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’بزرگوں کو کیا ضرورت ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ’’بزرگوں کا حق کیا ہے؟‘‘
ہندوستان کے لیے بھی اہم سوال
یہ عالمی بحث ہندوستان کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ہندوستان میں خاندان روایتی طور پر بزرگوں کی دیکھ بھال کا اہم ذریعہ رہے ہیں، لیکن شہری کاری، روزگار کے لیے نقل مکانی، بدلتے خاندانی ڈھانچے اور بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بزرگوں کی ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ایسے میں صرف یہ توقع کرنا کہ خاندان ہر صورت میں بزرگوں کی مکمل دیکھ بھال کرے گا، کافی نہیں ہوگا۔ صحت، سماجی تحفظ، مناسب رہائش، قابل رسائی عوامی مقامات، مالی تحفظ اور تنہائی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی نظام بھی ضروری ہوں گے۔خاص طور پر معمر خواتین، معذور بزرگوں، غریب طبقات اور سماجی طور پر حاشیے پر موجود افراد کے لیے مخصوص تحفظ اور سہولتوں کی ضرورت زیادہ ہو سکتی ہے۔ہندوستان کے لیے اس عالمی معاہدے کی بحث ایک موقع بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں کے زمینی تجربات کو عالمی سطح پر ہونے والی گفتگو کا حصہ بنائے۔ مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں، بزرگ شہریوں کے گروپ، انسانی حقوق کے ادارے اور سول سوسائٹی ان معاملات کی نشاندہی کر سکتے ہیں جو سرکاری اعداد و شمار میں ہمیشہ نمایاں نہیں ہوتے۔

سول سوسائٹی کا اہم کردار
اقوام متحدہ کے معمر افراد کے انسانی حقوق سے متعلق بین الحکومتی ورکنگ گروپ کے سیکریٹری خالد حسّین کے مطابق سول سوسائٹی کا کردار مذاکرات کے رسمی اجلاسوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ تنظیمیں اپنی حکومتوں، متعلقہ وزارتوں اور قومی وفود کے ساتھ براہ راست کام کرکے زمینی تجربات اور حقیقی واقعات کو قومی پالیسی میں شامل کرا سکتی ہیں۔جولائی 2026 میں ورکنگ گروپ کے گزشتہ اجلاس کے دوران مختلف فریقوں کی جانب سے 200 سے زائد تحریری تجاویز موصول ہوئیں۔ یہ تجاویز مختلف موضوعات پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
اگر لمبی زندگی غربت، تشدد، امتیاز، تنہائی، بے دخلی اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کے حق سے محرومی کے ساتھ گزرے تو محض عمر میں اضافہ انسانی ترقی کی مکمل علامت نہیں ہو سکتا۔بزرگ افراد کو معاشرے کے خاموش کنارے پر کھڑی ایک ایسی نسل سمجھنا جسے صرف دیکھ بھال کی ضرورت ہے، وقت کے ساتھ بدلنا ہوگا۔ وہ اپنے خاندانوں، معاشروں اور معیشتوں میں برسوں کی محنت، تجربہ اور علم کا سرمایہ رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں زیرِ غور مجوزہ قانونی معاہدہ اسی سوچ کو ایک عالمی انسانی حقوق کے فریم ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم کسی بھی معاہدے کی اصل کامیابی اس کی زبان سے زیادہ اس کے نفاذ میں ہوگی۔بالآخر ایک باوقار معاشرہ وہی ہوگا جہاں بڑھاپا کسی شخص کے حقوق کم نہ کرے؛ جہاں ایک معمر عورت اپنی شناخت اور فیصلوں سے محروم نہ ہو؛ جہاں معذوری یا غربت عمر کے ساتھ مزید امتیاز کا سبب نہ بنے؛ اور جہاں بزرگ افراد کو بوجھ نہیں بلکہ *حقوق رکھنے والے، تجربہ کار اور فعال شہری سمجھا جائے۔کیونکہ لمبی زندگی اسی وقت حقیقی کامیابی ہے جب اس کے ساتھ عزت، آزادی، مساوات اور وقار بھی زندہ رہیں۔AMN*
……………………………………………………………………………………………..
