Last Updated on January 1, 2026 7:59 pm by INDIAN AWAAZ

آر۔ سوریامورتی

بھارت کی پہلی بلٹ ٹرین 15 اگست 2027 سے مرحلہ وار بنیاد پر خدمات کا آغاز کرے گی۔ یہ بات مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ تیز رفتار ریل سروس ممبئی–احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل کاریڈور پر چلائی جائے گی۔

وزیر ریلوے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بلٹ ٹرین کی سروس گجرات میں سورت سے بیلیمورا کے درمیان شروع کی جائے گی۔ اس کے بعد واپی–سورت سیکشن، پھر واپی–احمدآباد سیکشن کو آپریشنل کیا جائے گا۔ اس کے بعد تھانے سے احمدآباد تک ٹرین خدمات میں توسیع ہوگی، جبکہ آخری مرحلے میں ممبئی اور احمدآباد کو براہِ راست جوڑ دیا جائے گا، جس کے ساتھ ہی پورا کاریڈور مکمل ہو جائے گا۔

اشونی ویشنو نے کہا،
“یومِ آزادی 2027 کے موقع پر عوام بھارت کی پہلی بلٹ ٹرین کے لیے ٹکٹ خرید سکیں گے۔”

ممبئی–احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ 508 کلومیٹر طویل ہے، جسے جاپانی شنکانسن ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کاریڈور پر ٹرینیں 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جس سے مکمل آپریشن کے بعد ممبئی اور احمدآباد کے درمیان سفر کا وقت تقریباً دو گھنٹے رہ جائے گا۔

یہ کاریڈور گجرات، دادرا و نگر حویلی اور مہاراشٹر سے گزرتا ہے، جس میں تقریباً 352 کلومیٹر حصہ گجرات اور دادرا و نگر حویلی میں جبکہ 156 کلومیٹر مہاراشٹر میں واقع ہے۔ اس منصوبے کے تحت احمدآباد، وڈودرا، بھروچ، سورت، واپی، تھانے اور ممبئی جیسے اہم شہروں کو جوڑا جائے گا۔

نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل) کے مطابق کاریڈور کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بلند پلوں (ایلیویٹڈ وایاڈکٹس) پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اب تک 326 کلومیٹر سے زیادہ ایلیویٹڈ اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 25 میں سے 17 دریاؤں پر پل بنائے جا چکے ہیں۔ سورت–بیلیمورا کا 47 کلومیٹر طویل سیکشن منصوبے کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ حصوں میں شامل ہے، جہاں بڑے سول ورک اور ٹریک بیڈ کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے نومبر میں گجرات کے دورے کے دوران اس منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا تھا اور زیرِ تعمیر سورت بلٹ ٹرین اسٹیشن کا معائنہ کیا تھا۔ یہ اسٹیشن شہر کی ہیرا صنعت سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں اسٹرکچرل کام مکمل ہو چکا ہے اور اندرونی سجاوٹ اور مسافروں کی سہولیات پر کام جاری ہے۔

بلٹ ٹرین منصوبے کا آغاز 2017 میں کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے دسمبر 2023 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ تاہم زمین کے حصول اور عملدرآمد سے متعلق مسائل کے باعث ٹائم لائن میں تبدیلی کی گئی۔ یہ منصوبہ جاپان کی حکومت کی تکنیکی اور مالی مدد سے نافذ کیا جا رہا ہے۔

اشونی ویشنو نے وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان کی مقبولیت نے ریلوے کی جدید کاری پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے سفر کے لیے وندے بھارت سلیپر ٹرینیں بھی اسی معیار کے آرام اور حفاظت کے ساتھ جلد متعارف کرائی جائیں گی۔