Last Updated on February 9, 2026 7:14 pm by INDIAN AWAAZ

ذاکر حسین، ڈھاکہ سے:
بنگلہ دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جنہیں ماہرین گزشتہ دس برس سے زیادہ عرصے میں ملک کے پہلے حقیقی اور مسابقتی انتخابات قرار دے رہے ہیں۔ یہ انتخاب نوجوانوں، خاص طور پر جنریشن زیڈ، کی قیادت میں گزشتہ سال ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اقتدار سے بے دخل ہوئیں۔
شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ دور میں اپوزیشن جماعتوں کے لیے سیاست کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جبکہ دیگر کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ 2024 کی بدامنی کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئیں، ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی لگ چکی ہے اور اپوزیشن دوبارہ کھل کر انتخابی مہم چلا رہی ہے۔
اس وقت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی 300 میں سے 292 نشستوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔
تاہم مقابلہ یکطرفہ نہیں۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں ایک اتحاد بھی مضبوط حیثیت اختیار کر چکا ہے، جسے جن زیڈ سے تعلق رکھنے والی ایک نئی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہے۔ اس نئی جماعت کے زیادہ تر ارکان کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ یہ گروہ ابتدا میں سڑکوں پر شیخ حسینہ کے خلاف سرگرم رہا، لیکن انتخابی کامیابی نہ ملنے پر جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔
ملک بھر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ بی این پی کے “دھان کی بالی” اور جماعتِ اسلامی کے “ترازو” کے نشان والے پوسٹر درختوں، کھمبوں اور دیواروں پر نظر آ رہے ہیں۔ انتخابی کیمپوں میں پارٹی نغمے بج رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منظر پچھلے انتخابات سے بالکل مختلف ہے، جب ہر جگہ عوامی لیگ کا “کشتی” کا نشان چھایا ہوا تھا۔
تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا بنگلہ دیش شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد کئی ماہ سے سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔ اس بدامنی نے معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، خاص طور پر ملبوسات کی صنعت کو، جہاں بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر انتخابات کا نتیجہ واضح نہ ہوا تو سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

ڈھاکہ کے سینٹر فار گورننس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرویز کریم عباسی کے مطابق،
“اگرچہ رائے عامہ کے جائزے بی این پی کو برتری دیتے ہیں، لیکن ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ابھی فیصلہ نہیں کر سکی۔ نتائج پر کئی عوامل اثر انداز ہوں گے، جن میں جنریشن زیڈ کا ووٹ خاص طور پر اہم ہے، جو کل ووٹروں کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔”
معاشی مسائل بھی عوام کی ترجیح ہیں۔ مختلف سرویز کے مطابق بدعنوانی ووٹروں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جبکہ مہنگائی دوسرے نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش کو بڑھتی قیمتوں، کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاری میں کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں سے اربوں ڈالر کی مالی مدد لینا پڑی۔
اکیس سالہ عبداللہ السعد، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہے ہیں، کہتے ہیں:
“لوگ عوامی لیگ سے تنگ آ چکے تھے۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی عملی طور پر موجود نہیں تھا۔ میری خواہش ہے کہ آنے والی حکومت اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔”
یہ انتخابات بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دور میں ملک کو بھارت کے قریب سمجھا جاتا تھا، جبکہ ان کی معزولی کے بعد چین کا اثر بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق بی این پی بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات رکھ سکتی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں حکومت پاکستان کے زیادہ قریب ہو سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کے جن زیڈ اتحادی نے بنگلہ دیش میں “نئی دہلی کی بالادستی” پر تنقید کی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس نے چینی سفارت کاروں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک ملک کے ساتھ وابستہ نہیں۔ طارق رحمان کے مطابق بی این پی کی حکومت ہر اس ملک سے دوستانہ تعلقات رکھے گی جو بنگلہ دیش کے مفاد میں ہو۔
پیر کو انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی۔ ڈھاکہ میں بڑے جلسوں اور جلوسوں کے باعث ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم منگل کی صبح ساڑھے سات بجے ختم ہو جائے گی۔
