Last Updated on January 31, 2026 11:40 pm by INDIAN AWAAZ


ذاکر حسین، ڈھاکہ سے

ایک تازہ ملک گیر سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان آئندہ عام انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم بننے کی دوڑ میں سبقت رکھتے ہیں، جبکہ 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات کے حوالے سے ووٹروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

انوویژن کنسلٹنگ کی جانب سے کیے گئے پیپلز الیکشن پلس سروے (راؤنڈ 3) میں ملک کے تمام آٹھ انتظامی ڈویژنز سے 5,147 بالغ ووٹروں سے ٹیلی فون کے ذریعے رائے لی گئی۔ سروے کے مطابق 47.6 فیصد جواب دہندگان نے طارق رحمان کو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے اتحاد کے امیدوار شفیق الرحمن کو 22.5 فیصد حمایت حاصل ہوئی، جبکہ 22.2 فیصد ووٹرز اب بھی غیر فیصلہ شدہ ہیں۔ این سی پی کے کنوینر نہید اسلام کو محدود یعنی 2.7 فیصد حمایت ملی۔

سروے میں انتخابی ماحول سے متعلق مثبت رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ تقریباً 72 فیصد ووٹرز نے کہا کہ عبوری حکومت شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ تین چوتھائی سے زیادہ جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ پولیس اور سول انتظامیہ سیاسی طور پر غیر جانبدار رہے گی۔ اسی طرح 82 فیصد ووٹرز نے خود کو ووٹ ڈالنے کے عمل کے دوران محفوظ محسوس کرنے کا اظہار کیا۔ ووٹنگ میں شرکت کے ارادے بھی غیر معمولی طور پر بلند رہے، جہاں 93 فیصد سے زائد افراد نے پولنگ ڈے پر ووٹ ڈالنے کا عندیہ دیا۔

پارلیمانی نشستوں کے تناظر میں، فیصلہ شدہ ووٹروں کے درمیان بی این پی کی قیادت والا اتحاد 52.8 فیصد حمایت کے ساتھ سبقت پر ہے، جبکہ جماعت–این سی پی اتحاد کو 31 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تقریباً 13 فیصد ووٹرز نے اپنی سیاسی ترجیح ظاہر کرنے سے گریز کیا، جسے ماہرین ایک ممکنہ فیصلہ کن عنصر قرار دے رہے ہیں۔

سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ووٹر رجحانات میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ 2024 کے بعد سابق عوامی لیگ کے تقریباً ایک تہائی حامی بی این پی کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ ایک نمایاں حصہ جماعت–این سی پی اتحاد کی جانب جھکا ہے۔ نوجوان ووٹرز، خصوصاً 18 سے 28 سال کی عمر کے افراد، انتخابی عمل سے باخبر دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ ان میں ووٹنگ کی نیت مجموعی اوسط سے قدرے کم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ طارق رحمان کو برتری حاصل ہے، تاہم مقابلہ بدستور کھلا ہے۔ بڑی تعداد میں غیر فیصلہ شدہ ووٹرز اور بعض حلقوں میں ووٹنگ کے رجحانات میں تیز تبدیلی انتخابی نتائج کو غیر متوقع بنا سکتی ہے، جس کے باعث آئندہ انتخابات کو بنگلہ دیش کی سیاست کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔