Last Updated on May 10, 2026 1:06 pm by INDIAN AWAAZ

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی Apple میں قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر Tim Cook رواں برس ستمبر تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، جس کے بعد کمپنی کے سینئر انجینئر John Ternus نئے سی ای او کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ کک کے پندرہ سالہ دور کو کمپنی کی تاریخ کا کامیاب ترین دور مانا جاتا ہے۔ ان کے دور میں ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 400 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی جبکہ دنیا بھر میں 250 کروڑ سے زیادہ فعال ایپل ڈیوائسز موجود ہیں۔
تاہم نئے سی ای او کے لیے اصل امتحان مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں ایپل کی پوزیشن مضبوط کرنا ہوگا۔ گزشتہ چند برسوں میں OpenAI، NVIDIA اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں نے اے آئی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے، جبکہ ایپل نسبتاً پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ کمپنی کا ورچوئل اسسٹنٹ “سِری” اپنے اینڈرائیڈ حریفوں کے مقابلے میں کم جدید تصور کیا جا رہا ہے اور “ایپل انٹیلی جنس” کو بھی صارفین کی وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ یا گروک جیسے پلیٹ فارمز کو ملی۔
ایپل کی سب سے بڑی طاقت اس کا مربوط ڈیجیٹل نظام ہے، جہاں آئی فون، میک اور آئی کلاؤڈ ایک دوسرے کے ساتھ بغیر رکاوٹ کام کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق صرف یہی برتری اب کافی نہیں رہے گی۔ اگر کمپنی نے جلد اے آئی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت نہ کی تو اسے مارکیٹ شیئر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جان ٹرنس ایک تجربہ کار انجینئر سمجھے جاتے ہیں اور ایپل چِپ کی تیاری سمیت کئی اہم منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ تاہم نئی ذمہ داری میں انہیں صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ کاروباری شراکت داری اور بڑے سودوں کی مہارت بھی دکھانا ہوگی۔ خبریں ہیں کہ ایپل، اوپن اے آئی کے ساتھ تعاون اور اے آئی سرچ کمپنی “پرپلیکسٹی” کے ممکنہ حصول پر غور کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی حکمت عملی ایپل کو مستقبل کی اے آئی دوڑ میں دوبارہ نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔
