Last Updated on May 10, 2026 12:51 pm by INDIAN AWAAZ

دنیا اس وقت ایک ایسے بڑھتے ہوئے رہائشی بحران کا سامنا کر رہی ہے جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے لے کر غریب اور ترقی پذیر خطوں تک، مناسب اور محفوظ رہائش اب لاکھوں خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، شہری آبادی میں تیز اضافہ، جنگیں، موسمیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور جائیداد کی آسمان چھوتی قیمتوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً تین ارب افراد مناسب رہائش سے محروم ہیں جبکہ ایک ارب سے زائد لوگ کچی آبادیوں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ 30 کروڑ سے زیادہ افراد مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہیں، جس کے باعث رہائش کا مسئلہ اب صرف سماجی یا معاشی نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی حقوق کا بحران بن چکا ہے۔

UN-Habitat کے مطابق افریقہ میں شہری رہائش کا تقریباً 62 فیصد حصہ غیر رسمی بستیوں پر مشتمل ہے جہاں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ اسی طرح ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں جبکہ ایک ارب سے زائد لوگ مناسب صفائی کے نظام سے محروم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص رہائش نہ صرف بیماریوں اور غربت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ سماجی بے چینی، جرائم اور معاشی عدم مساوات کو بھی فروغ دیتی ہے۔

ان بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر United Nations کے زیر اہتمام World Urban Forum 13 آذربائیجان کے شہر Baku میں منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں رہائشی بحران مرکزی موضوع ہوگا۔ “دنیا کو رہائش کی فراہمی: محفوظ و مضبوط شہر اور لوگ” کے عنوان سے ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں مختلف ممالک کے حکومتی نمائندے، ماہرین تعمیرات، شہری منصوبہ ساز، سماجی تنظیمیں اور نوجوان شریک ہوں گے تاکہ بڑھتی ہوئی بے گھری اور رہائش کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

اسی سلسلے میں معروف امریکی اداکار اور سماجی کارکن Richard Gere نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ محفوظ رہائش تمام بنیادی حقوق تک رسائی کا دروازہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی انسان کے پاس مستقل اور محفوظ گھر نہ ہو تو وہ صحت، تعلیم، روزگار، نجی زندگی اور انسانی وقار جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گھری صرف سر پر چھت نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ناانصافی ہے جو انسان کو معاشرے سے کاٹ دیتی ہے۔

رچرڈ گیئر نے اس بات پر زور دیا کہ بے گھری کو ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر حکومتیں سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں، سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنائیں اور سستی رہائش کے منصوبوں پر توجہ دیں تو اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ صرف اس وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ رہائش کو بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک کاروباری شے سمجھ لیا گیا ہے۔

The Gere Foundation اور سپین کی سماجی تنظیم Hogar Sí بھی UN-Habitat کے ساتھ مل کر بے گھری کے خاتمے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا مقصد حکومتوں اور عالمی اداروں کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ رہائش کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

Anacláudia Rossbach نے کہا کہ دنیا کو درپیش شہری بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے باعث آنے والے برسوں میں رہائش، پانی، صفائی اور بنیادی سہولتوں کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے پائیدار شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی، جنگوں اور معاشی بحرانوں کے باعث آنے والے برسوں میں بے گھر افراد کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی شہری فورم کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں دنیا رہائشی بحران کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کرے گی۔

AMN