Last Updated on March 15, 2026 9:17 pm by INDIAN AWAAZ

نفرت انگیز بیانیہ اور سیاسی استعمال عالمی ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار

UN’s Special Envoy for combating Islamophobia, Miguel Ángel Moratinos,

— عندلیب اختر

اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں اور ماہرین نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی نمائندے Miguel Ángel Moratinos نے خبردار کیا ہے کہ مختلف ممالک میں بعض سیاسی جماعتیں اور تحریکیں مذہب کو سماجی تقسیم اور سیاسی فائدے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشروں میں نفرت اور عدم برداشت کو فروغ مل رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے میڈیا پلیٹ فارم UN News کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ یہ انٹرویو ہر سال 15 مارچ کو منائے جانے والے International Day to Combat Islamophobia کے موقع پر نشر کیا گیا۔

دنیا کے مختلف خطوں میں مسلم مخالف واقعات میں اضافہ

موراتیونس کے مطابق حالیہ برسوں میں دنیا کے کئی خطوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور امتیازی سلوک کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر یورپ میں مساجد پر حملے، حجاب پہننے والی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات میں اضافہ تشویشناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف یورپ تک محدود نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور ساحل (Sahel) کے خطے میں بھی ایسے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات سماجی ہم آہنگی اور عالمی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل António Guterres نے مئی 2025 میں موراتیونس کو اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا تاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیاز کے بڑھتے رجحان سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ United Nations Alliance of Civilizations کے اعلیٰ نمائندے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانے کا رجحان

موراتیونس نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں بعض سیاسی قوتیں مذہبی اختلافات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی شناخت کو سیاست میں استعمال کرنے کا رجحان معاشروں میں تقسیم اور کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 16 کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ہدف کا مقصد امن، انصاف اور مضبوط اداروں کا قیام ہے۔ اگر دنیا اس ہدف کے مطابق معاشروں میں برداشت، انصاف اور برابری کو فروغ نہ دے سکی تو مذہبی نفرت جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عقائد اور اختلافات کو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔ نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی بیانیہ نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ جمہوری اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

آزادی اظہار اور مذہبی احترام کا توازن

موراتیونس نے کہا کہ آزادی اظہار اور مذہبی احترام کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں Universal Declaration of Human Rights کی شق 18 اور 19 کا حوالہ دیا، جن میں ضمیر، مذہب، فکر اور اظہار کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ان دونوں اصولوں کو ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک متوازن اور مثبت انداز میں نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ معاشروں میں آزادی اور احترام دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار

موراتیونس نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان کے پیچھے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کردار کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے معلومات کی ترسیل کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق بعض سیاسی اور انتہا پسند گروہ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلاتے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض سیاسی جماعتیں اس رجحان کی مذمت کرنے کے بجائے اسے آزادی اظہار کے نام پر نظر انداز کر دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل میڈیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر عالمی سطح پر موثر ضابطہ بندی اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ان پلیٹ فارمز کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہی کی ضرورت

موراتیونس کے مطابق اسلاموفوبیا کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار تعلیم اور آگاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی اصل تعلیمات، جو بقائے باہمی، برداشت اور انسانی احترام پر زور دیتی ہیں، کو عالمی سطح پر درست انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی دنیا میں اسلام کے بارے میں معلومات کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں براہ راست علم رکھنے کے بجائے ایسے ذرائع سے متاثر ہوتے ہیں جو مذہب کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسکولوں، جامعات اور میڈیا کے ذریعے اسلام اور دیگر مذاہب کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ غلط فہمیوں اور تعصبات کو ختم کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کا نیا عالمی منصوبہ

موراتیونس نے بتایا کہ اقوام متحدہ اسلاموفوبیا کے خلاف ایک جامع عالمی منصوبہ تیار کر رہی ہے جسے رواں سال پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیاز کے رجحان کو مؤثر انداز میں روکنا ہے۔

اس منصوبے کے چار اہم پہلو ہوں گے:

  • اسلاموفوبیا کی واضح تعریف اور نفرت انگیز رویوں کی شناخت
  • تعلیمی نظام میں اصلاحات اور اسلام کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی
  • قومی سطح پر قوانین کی تشکیل اور ان کا موثر نفاذ
  • نفرت انگیز جرائم اور امتیازی واقعات کی نگرانی کے بہتر نظام کی تشکیل

کثیر الثقافتی دنیا میں باہمی احترام کی ضرورت

اپنے پیغام کے اختتام پر موراتیونس نے کہا کہ دنیا اس وقت سیاسی کشیدگی، معاشی چیلنجز اور سماجی تقسیم جیسے پیچیدہ مسائل سے گزر رہی ہے۔ ایسے حالات میں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی احترام اور مکالمہ پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت ایک متنوع اور کثیرالثقافتی حقیقت ہے جس میں مختلف مذاہب اور تہذیبیں شامل ہیں۔ اسلامی تہذیب بھی اس عالمی ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے مذہبی ہم آہنگی، تعلیم اور مکالمے کو فروغ دیا تو نہ صرف اسلاموفوبیا بلکہ دیگر نفرت انگیز رجحانات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔