Last Updated on February 20, 2026 12:13 am by INDIAN AWAAZ
AMN / NEW DELHI
بھارت اور نیوزی لینڈ نے آج باغبانی کے شعبے میں تعاون سے متعلق جے ڈبلیو جی کی پہلی میٹنگ منعقد کی، جو 12 مارچ 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی تعاون (ایم او سی) کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان مشترکہ عاملہ گروپ (جے ڈبلیو جی) کی میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارتی فریق کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری (باغبانی) ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو، پریارنجن نے باالمشافہ کی، جبکہ نیوزی لینڈ کی جانب سے ڈویژنل منیجر، بائی لیٹرل ریلیشنز اینڈ ٹریڈ اسٹیو آئنس ورتھ نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔اس اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی، تاکہ باغبانی کے شعبے میں تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں بالخصوص کیوی فروٹ اور پِپ فروٹ (سیب اور ناشپاتی) کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

جوائنٹ سیکریٹری (باغبانی)، ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو، پریارنجن نے کہا کہ کیوی فروٹ کو بھارت کے لیے ایک ترجیحی فصل کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کیوی فروٹ ایکشن پلان کے تحت اہم ترجیحی نکات پر تفصیلی غور و خوض کیا، جن میں سینٹرز آف ایکسیلنس کا قیام، باغات کے بہتر انتظام اور پیداوار میں اضافہ، معیاری روٹ اسٹاک اور پودا جاتی مواد تک رسائی، نیز فصل کی کٹائی کے بعد نظم و نسق اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔اجلاس میں نیوزی لینڈ سے کیوی روٹ اسٹاک کی درآمد کے طریقۂ کار اور بھارتی کسانوں و صنعت کاروں کے لیے نیوزی لینڈ میں تربیتی پروگراموں کے انعقاد پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
باہمی روابط اور تجارت کے ڈویژنل منیجر، اسٹیو اینسورتھ نے بھارت میں کیوی فروٹ، سیب اور ناشپاتی کی پیداوار کی موجودہ صورتِ حال اور درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعاون کو مشترکہ تحقیق، استعداد سازی اور کاشتکاروں کی تربیت کے گرد منظم کیا جائے، نیز سپلائی چین کو مضبوط بنانے، معیارات کو بہتر بنانے اور منڈی میں مؤثر پوزیشننگ کے ذریعے کسانوں کی آمدنی اور پیداواریت میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کا اختتام دونوں ایکشن پلانز کے لیے مقررہ وقت اور نفاذی روڈ میپ کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ہوا۔ اختتامی کلمات میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے باغبانی کے شعبے میں باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جے ڈبلیو جی نے فوری آئندہ اقدامات کی نشاندہی کی اور بھارت–نیوزی لینڈ باغبانی تعاون میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے فالو اپ میٹنگوں اور جائزوں کا مجوزہ شیڈول بھی طے کیا۔
