Last Updated on February 12, 2026 11:41 am by INDIAN AWAAZ


نامہ نگار کی رپورٹ
ڈھاکہ: سن 1971 میں بھارت کی فوجی حمایت اور مکتی باہنی کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان سے علیحدگی اور آزادی کے پانچ دہائیوں بعد، بنگلہ دیش آج اپنی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن انتخابات کا سامنا کر رہا ہے۔

ملک کے 13ویں پارلیمانی انتخابات اور عبوری حکومت کے اصلاحاتی پیکج پر ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا عمل آج صبح 7:30 بجے ملک بھر میں شروع ہو گیا۔ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے پولنگ اسٹیشنز کے باہر قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن (EC) نے شیر پور-3 نشست پر ایک امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد اب 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ جاری ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

احتجاج سے انقلاب تک کا سفر

یہ انتخابات ایک ایسے ہنگامہ خیز دور کے بعد ہو رہے ہیں جس کا آغاز طلبہ کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج سے ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ملک گیر تحریک میں بدل گیا۔ اس لہر نے طویل عرصے سے برسرِ اقتدار وزیر اعظم شیخ حسینہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ اقتدار میں جہاں معاشی ترقی اور انفراسٹرکچر میں بہتری آئی، وہی سیاسی جبر اور جمہوری آزادیوں میں کمی کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے تھے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئیں، جہاں وہ اب بھی جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اس واقعے نے پاک بھارت اور بنگلہ دیش کے مضبوط تعلقات میں نئی تناؤ کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

عبوری دور اور سیاسی تبدیلی

بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کی گئی، جس نے ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف انتخابات کا وعدہ کیا۔ اگرچہ مغربی ممالک نے ان کی آمد کا خیر مقدم کیا، تاہم مقامی ناقدین اس گہری سیاسی تقسیم کے شکار ملک میں ٹیکنوکریٹک تجربے کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب، جماعتِ اسلامی، جو شیخ حسینہ کے دور میں پابندیوں کا شکار رہی، ایک بار پھر ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

بی این پی کی واپسی اور سیاسی منظر نامہ

سابق صدر ضیاء الرحمن کی قائم کردہ اور ان کے صاحبزادے طارق رحمن کی قیادت میں بنگلہ دیش نشنلسٹ پارٹی (BNP) ایک بڑی واپسی کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے حالیہ انتقال کے بعد، ہمدردی کی لہر اور وراثتی سیاست نے پارٹی کارکنوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ لندن سے پارٹی کے معاملات چلانے والے طارق رحمن کو محمد یونس کے اصلاحاتی ایجنڈے کے خلاف ایک مضبوط حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی مبصرین کی موجودگی

ان انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر سے مبصرین اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں بشمول کامن ویلتھ سیکریٹریٹ، یورپی یونین، او آئی سی (OIC)، اور امریکی اداروں (IRI اور NDI) کے وفود یہاں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر 21 ممالک سے مبصرین آئے ہیں، جن میں پاکستان (8)، ترکی (13)، سری لنکا (11)، چین، روس اور جاپان سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کا قیام ایک انقلاب کے نتیجے میں ہوا تھا۔ آج نصف صدی بعد، یہ ملک ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ کیا حالیہ سیاسی انقلاب ایک مستحکم جمہوری نظام میں تبدیل ہو سکے گا یا نہیں۔ یہ انتخاب محض شخصیات کا مقابلہ نہیں بلکہ سیاسی وراثت بمقابلہ ٹیکنوکریٹک تبدیلی، اور خاندانی سیاست بمقابلہ نئی نسل کی بغاوت کا امتحان ہے۔