Last Updated on January 15, 2026 11:47 pm by INDIAN AWAAZ

AMN NEWS DESK
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا فیصلہ عین آخری لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ اخبار کے مطابق یہ اچانک تبدیلی خلیجی ممالک کی بھرپور سفارتی مداخلت کا نتیجہ تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی رابطے قائم کیے اور صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر آمادہ کیا۔ ان ممالک کا مؤقف تھا کہ ایران کو اپنے رویّے میں بہتری اور ’’اچھے عمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مدد آ رہی ہے‘‘، تاہم بدھ کی شب انہوں نے یہ کہتے ہوئے یقینی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا کہ ایران میں ہلاکتوں کا سلسلہ رک رہا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ ہی دیر قبل ایران نے احتجاج میں ملوث افراد کو پھانسی دینے کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
ایک سینئر سعودی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ خلیجی ممالک نے آخری لمحات میں طویل اور نہایت تھکا دینے والی سفارتی کوششوں کے ذریعے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کو ایک اور موقع دیا جائے۔ ان ممالک نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ ایران پر حملے کے خطے کے لیے انتہائی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سعودی عہدیدار کے مطابق یہ ایک ایسی رات تھی جس کا مقصد ’’بموں کو ڈی فیوز کرنا‘‘ تھا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق ترکیے اور مصر نے بھی امریکی صدر سے تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ ایران پر امریکی حملے کے منفی اثرات اس کے ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم کو واضح ہدایت دی ہے کہ ایران پر حملہ صرف اسی صورت میں کیا جائے جب اس کے ایرانی نظام پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا اور لوگوں کو صورتحال پر نظر رکھنی چاہیے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران پر امریکی کارروائی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون نے کروز میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لیس بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا ہے جو آئندہ ایک ہفتے میں علاقے میں پہنچ جائے گا۔
امریکی اور برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک مختصر مگر فیصلہ کن کارروائی کے خواہاں ہیں، جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کے ٹھکانوں کو کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس
اقوام متحدہ سلامتی کونسل آج ایران کی صورتحال پر بریفنگ کے لیے اجلاس کرے گی۔ حالیہ مظاہروں اور کریک ڈاؤن کے بعد ایران نے چند گھنٹوں کے لیے فضائی حدود بند کی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں میں کمی آئی ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے سزائے موت کے منصوبوں کی تردید کی ہے۔
