Last Updated on January 15, 2026 10:14 pm by INDIAN AWAAZ

اسٹاف رپورٹر

نئی دہلی، 15 جنوری 2026: لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر اوم برلا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سوشل میڈیا نے جمہوری اداروں کی کارکردگی اور مؤثریت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم ان کے غلط استعمال سے غلط معلومات، سائبر جرائم اور سماجی تقسیم جیسے سنگین چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں۔ وہ سمویدھان سدن کے سینٹرل ہال میں دولتِ مشترکہ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی 28ویں کانفرنس (CSPOC) سے خطاب کر رہے تھے۔

مسٹر اوم برلا نے زور دے کر کہا کہ ان ابھرتے ہوئے مسائل سے نمٹنا دنیا بھر کی مقننہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اے آئی کے اخلاقی استعمال اور سوشل میڈیا کے لیے شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد فریم ورک ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس عالمی سطح پر ان اہم امور پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کا موقع فراہم کرے گی اور پالیسی سطح پر ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔

لوک سبھا اسپیکر نے بھارت کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں کو بتدریج پیپر لیس بنایا جا رہا ہے اور ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے شفافیت، مؤثریت اور عوامی رسائی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بھارت کے سات دہائیوں سے زائد طویل پارلیمانی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عوام دوست پالیسیوں، فلاحی قوانین اور منصفانہ و مضبوط انتخابی نظام کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط کیا گیا ہے۔ مسٹر برلا کے مطابق ان اقدامات سے عوام کی جمہوری عمل میں شمولیت بڑھی ہے اور جمہوریت پر اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔

مسٹر اوم برلا نے کہا کہ دولتِ مشترکہ جیسے پارلیمانی فورمز مختلف جمہوریتوں کے سربراہانِ ایوان کو عالمی نوعیت کے مسائل پر تبادلۂ خیال کا منفرد موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے مباحث پارلیمانی طریقۂ کار کو بہتر بنانے، عوامی شرکت میں اضافے اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔