Last Updated on November 30, 2025 9:34 pm by INDIAN AWAAZ

اسٹاف رپورٹر / نیوز ڈیسک

وزیر اعظم نریندر مودی نے پولیس کے بارے میں عوامی تاثر، خصوصاً نوجوانوں میں، مثبت انداز میں تبدیل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس میں پیشہ ورانہ مہارت، حساسیت اور تیز رفتار جواب دہی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے شہری علاقوں میں پولیسنگ کو مؤثر بنانے، ٹورسٹ پولیس یونٹس کو ازسرِنو منظم کرنے اور نئے فوجداری قوانین کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

رائے پور میں منعقدہ ڈائریکٹر جنرلز اور انسپکٹر جنرلز آف پولیس کی ۶۰ویں آل انڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ریاستی اور مرکزی زیر انتظام خطوں کی پولیس فورسز کو ہدایت کی کہ وہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے جدید اور اختراعی حکمت عملی اپنائیں۔ اس سلسلے میں غیر آباد جزیروں کو سیکیورٹی نیٹ ورک میں مؤثر طریقے سے شامل کرنا، نیٹ گرڈ سے منسلک ڈیٹا بیس کا بھرپور استعمال، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے قابل عمل انٹیلی جنس کی تیاری جیسے اقدامات شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے جامعات اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ پولیس تحقیقات میں فرانزک سائنس کے استعمال پر تفصیلی مطالعات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک صلاحیتوں میں اضافہ فوجداری نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے اور تحقیقات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے ممنوعہ تنظیموں کی مسلسل نگرانی کے مؤثر نظام، بائیں بازو کی انتہاپسندی سے پاک علاقوں کی ہمہ جہتی ترقی، اور ساحلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اور جدید ماڈل اپنانے کی اہمیت کو بھی دہرایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منشیات کے استعمال کے خلاف لڑائی کے لیے حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ کاوش درکار ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے محکمے، بحالی کے مراکز اور سماجی سطح پر مداخلت شامل ہے۔

’وکسِت بھارت: سیکیورٹی ڈائمنشنز‘ کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس میں قومی سلامتی کے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران ۲۰۴۷ کے وژن کے تحت پولیسنگ کے طویل المدتی روڈ میپ، انسداد دہشت گردی و انسداد انتہاپسندی کے نئے رجحانات، خواتین کی سلامتی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، بیرونِ ملک موجود ہندوستانی مفروروں کی وطن واپسی کی حکمت عملی، اور فرانزک نظام کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری اور مربوط حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس سربراہان کو چاہیے کہ وہ سمندری طوفانوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی ہنگامی حالات—بشمول موجودہ سمندری طوفان ’’دِتوٰاح‘‘—کے لیے مؤثر مینجمنٹ میکانزم کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی، حقیقی وقت میں رابطہ کاری، بروقت ردعمل اور حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ کوششیں انسانی جانوں کے تحفظ اور نقصان کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

وزیر اعظم نے پولیس قیادت پر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی کی ضروریات اور ’وکسِت بھارت‘ کے ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیسنگ کے انداز کو ازسرِنو ترتیب دیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے انٹیلی جنس بیورو کے افسران کو صدرِ جمہوریہ کے پولیس میڈلز برائے امتیازی خدمات بھی عطا کیے۔ اس کے علاوہ شہری پولیسنگ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے تین شہروں کو خصوصی اعزازات بھی پیش کیے گئے، جو پہلی مرتبہ اس مقصد کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ شہری پولیسنگ میں جدت اور بہتری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ، قومی سلامتی کے مشیر، وزرائے مملکت برائے داخلہ، یونین ہوم سیکریٹری، تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام خطوں کے ڈی جی پی اور آئی جی پی، نیز سی اے پی ایف اور مرکزی پولیس تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی، جبکہ ملک بھر سے سات سو سے زائد افسران نے ورچوئلی شمولیت اختیار کی۔