Last Updated on October 25, 2025 10:22 pm by INDIAN AWAAZ

تحریر: سید علی مجتبیٰ
بہار کی سیاست ہمیشہ سے ذات، برادری اور مذہب کے پیچیدہ توازن پر استوار رہی ہے۔ یہاں کے انتخابی نقشے میں مسلم ووٹروں کی حیثیت ایک فیصلہ کن قوت کی سی ہے، خاص طور پر شمالی بہار میں جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ ہے۔ اگر بہار اسمبلی کی کل ۲۴۳ نشستوں پر نظر ڈالیں تو اندازاً ۱۴۰ حلقے شمالی بہار میں ہیں جبکہ جنوبی بہار کے حصے میں تقریباً ۱۰۰ نشستیں آتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شمالی بہار کے ووٹر ہی اصل میں اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں مسلم ووٹوں کی کثافت سب سے زیادہ ہے۔
سیماںچل خطہ شمالی بہار کا وہ علاقہ ہے جہاں مسلم آبادی ۴۰ سے ۷۰ فیصد کے درمیان ہے۔ ضلع کشن گنج میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۶۸ فیصد، کٹیہار میں ۴۴.۴۷ فیصد، ارریہ میں ۴۲.۹۵ فیصد اور پورنیہ میں ۳۸.۴۶ فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی سیاسی موجودگی نہ صرف نمایاں ہے بلکہ فیصلہ کن بھی۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار ۲۰۱۱ کی مردم شماری پر مبنی ہیں، تاہم قدرتی طور پر گزشتہ دہائی میں آبادی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مسلم ووٹ بینک مزید مضبوط ہوا ہوگا۔
انتخابی مطالعے کے لیے سہولت کی خاطر بہار کے ۳۸ اضلاع کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی انتخابی قوت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
پہلا حصہ ان ۱۸ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی ۴۰ سے ۷۰ فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں کشن گنج (۴ نشستیں)، کٹیہار (۴)، ارریہ (۵) اور پورنیہ (۵) شامل ہیں۔ یہ علاقے مسلمانوں کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں، جہاں ان کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ انتخابی اصطلاح میں کہا جائے تو یہ حلقے مسلمانوں کے ’’پوکٹ بورو‘‘ ہیں، جہاں وہ ابتدائی برتری رکھتے ہیں۔
دوسرا حصہ ۳۵ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں مسلم آبادی ۲۰ سے ۳۰ فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں دربھنگہ (۸)، مغربی چمپارن (۸)، مشرقی چمپارن (۱۲) اور سیتامڑھی (۷) شامل ہیں۔ ان حلقوں میں اگر مسلمان اپنی حکمت عملی سے ووٹ ڈالیں اور کسی ہم خیال پارٹی سے اتحاد کریں تو بآسانی جیت درج کر سکتے ہیں۔
تیسرا حصہ ان ۴۱ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی ۱۵ سے ۲۰ فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں مدھوبنی (۹)، مظفرپور (۹)، سیوان (۸)، بھاگلپور (۶)، گوپال گنج (۵) اور سپول (۴) شامل ہیں۔ یہاں بھی اگر مسلمان کسی برادری یا طبقات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں تو نتیجہ ان کے حق میں جا سکتا ہے۔
چوتھا حصہ ان ۶۲ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جہاں مسلم آبادی ۱۰ سے ۱۵ فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں سہرسہ، بیگوسرائے، شیوہار، بانکا، مدھےپورہ، جمئی، گیا، نوادہ، سارن، سمستی پور، کھگڑیا اور روہتاس جیسے اضلاع شامل ہیں۔ یہاں اگرچہ مسلم ووٹ اقلیت میں ہے لیکن ۱۰ فیصد سے زائد کی شرح بھی بعض اوقات انتخابی نتیجہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پانچواں حصہ ان ۵۹ نشستوں پر مشتمل ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی ۵ سے ۱۰ فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں ویشالی، مونگیر، شیخ پورہ، نالندہ، پٹنہ، بھوجپور، ارول، جہان آباد، اورنگ آباد، بکسّر اور کیمور جیسے اضلاع شامل ہیں۔ اگر ان حلقوں میں مسلم ووٹ متحد ہو کر کسی ایک سمت میں پڑے تو مخالف امیدواروں کے لیے جیت مشکل ہو سکتی ہے۔
اگر ان پانچ حصوں کے انتخابی وزن کا مجموعی اندازہ لگایا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بہار میں مسلم ووٹرز کم از کم ۴۳ سے ۵۰ اسمبلی نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر تیسرے حصے سے محض ۱۰ نشستیں مزید شامل کر لی جائیں تو مسلم نمائندگی کی تعداد تقریباً ۵۳ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ہدف اس وقت ممکن ہے جب مسلم ووٹ منقسم ہونے کے بجائے کسی واضح حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بہار میں مسلمانوں کی اسمبلی میں نمائندگی ہمیشہ اوسط سے کم رہی ہے۔ تقسیم سے قبل ۱۹۸۵ میں غیر منقسم بہار اسمبلی (۳۲۴ اراکین پر مشتمل) میں ۳۴ مسلم ایم ایل ایز کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن ۲۰۲۰ کے انتخابات میں کل ۲۴۳ اراکین میں سے صرف ۱۹ مسلم اراکین اسمبلی پہنچ پائے۔ یہ شرح دس فیصد سے بھی کم ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ۲۰۲۵ کے انتخابات میں اگر مسلمان اپنے ووٹ کو منظم انداز میں استعمال کریں تو وہ اپنی نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں ذات پات کے روایتی خول سے نکل کر سیاسی بصیرت کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ بہار جیسے سیاسی طور پر حساس صوبے میں جہاں ایک ایک ووٹ حکومت سازی کا فیصلہ کرتا ہے، وہاں مسلمان ووٹ کا متحد ہونا پورے انتخابی منظرنامے کو بدل سکتا ہے۔
بہار کے مسلم ووٹرز کو چاہیے کہ وہ ۲۴۳ اسمبلی نشستوں کے بڑے منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کی اہمیت پہچانیں۔ اگر وہ کسی واضح سیاسی حکمت عملی کے تحت متفقہ انداز میں فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ایک بار پھر وہی اثر پیدا کر سکتے ہیں جو کبھی ۱۹۸۵ میں دیکھا گیا تھا۔
آخرکار یہ کہنا بجا ہوگا کہ بہار کی سیاست میں مسلم ووٹ صرف ایک عددی قوت نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی طاقت بھی ہے۔ اگر یہ طاقت متحد ہو جائے تو بہار کی سیاست کا رخ بدلنا بعید نہیں۔
— سید علی مجتبیٰ، سینیئر صحافی، مقیم چنئی (آبائی تعلق بہار سے)
