Last Updated on October 24, 2025 11:28 pm by INDIAN AWAAZ
سے 30 اکتوبر کے درمیان کیا جائے گا کلاؤڈ سیڈنگ آپریشن

AMN / NEW DELHI
قومی دارالحکومت دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ایک نیا اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 28 سے 30 اکتوبر کے درمیان شہر میں پہلی بار کلاؤڈ سیڈنگ (مصنوعی بارش) کا تجربہ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ہوا میں موجود آلودہ ذرات کو کم کرنا اور دہلی این سی آر کے باشندوں کو آلودگی سے عارضی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ریخا گپتا نے کہا کہ مصنوعی بارش کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا، “یہ دہلی کے ماحولیاتی نظم و نسق میں ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ مصنوعی بارش کے ذریعے فضاء میں موجود آلودگی کے ذرات زمین پر بیٹھ جائیں گے اور ہوا کے معیار (AQI) میں نمایاں بہتری آئے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دہلی کے طویل المدتی آلودگی کنٹرول پروگرام کا حصہ ہے، جس میں جدید موسمیاتی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے بتایا کہ آپریشن کے لیے طیارے، کیمیائی اسپرے کے نظام، اور موسمیاتی نگرانی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہماری ٹیمیں آئی آئی ٹی کانپور اور انڈین میٹیورولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (IMD) کے ماہرین کے ساتھ مل کر اس عمل کی نگرانی کریں گی۔ کلاؤڈ سیڈنگ کے دوران بادلوں میں سلور آیوڈائیڈ اور سوڈیم کلورائیڈ جیسے کیمیائی ذرات چھوڑے جائیں گے تاکہ بارش کو مصنوعی طور پر پیدا کیا جا سکے۔”
حکومتی ذرائع کے مطابق دہلی میں پچھلے کئی مہینوں سے اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی اور سمیولیشن ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ دہلی کی تاریخ میں پہلی مصنوعی بارش ہوگی، جو مستقبل میں دیگر آلودہ شہروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مصنوعی بارش سے PM2.5 اور PM10 جیسے ذرات کی مقدار میں 25 سے 30 فیصد تک عارضی کمی آسکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ “جب تک گاڑیوں کے دھوئیں، کچرے کو جلانے، اور صنعتی اخراج جیسے بنیادی اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا، تب تک مسئلہ جڑ سے ختم نہیں ہو سکتا،” ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر انیتا شرما نے کہا۔
دہلی حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ آڈ-ایون ٹریفک اسکیم، تعمیراتی مقامات پر دھول پر قابو پانے کے اقدامات، اور گرین بفر زون جیسی پالیسیاں بھی نافذ کی ہیں۔ اگر مصنوعی بارش کا یہ تجربہ کامیاب رہا تو حکومت آئندہ مہینوں میں ہریانہ اور اتر پردیش کے آلودہ اضلاع میں بھی اس ٹیکنالوجی کو آزمانے پر غور کرے گی۔
