Last Updated on January 30, 2026 12:51 am by INDIAN AWAAZ

بھارت کی حقیقی جی ڈی پی میں 7.4 فیصد اضافہ کا تخمینہ
نئی دہلی: مالی سال 2026 میں بھارت کی حقیقی جی ڈی پی میں 7.4 فیصد اضافہ کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں یہ شرح 6.8 تا 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ پیش گوئی آج پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی جانب سے پیش کیے گئے اقتصادی سروے میں کی گئی۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2026 میں بھارتی معیشت نے مضبوط ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق حقیقی جی ڈی پی میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ گھریلو مانگ ہے۔ نجی کھپت اور سرمایہ کاری نے توسیع کو سہارا دیا، جبکہ خدماتی شعبہ سپلائی سائیڈ پر سب سے بڑا محرک رہا۔ مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں بہتری آئی اور زراعت نے استحکام فراہم کیا۔
روزگار کے حالات میں بہتری، بے روزگاری کی شرح 3.2 فیصد
چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشوران نے کہا ہے کہ ملک میں روزگار کے حالات پیریاڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کے آغاز کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں۔ آج نئی دہلی میں اقتصادی سروے 2025-26 پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری کی شرح پہلے چھ فیصد تھی جو 2023-24 میں گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی۔
انہوں نے بھارت کو عالمی منظرنامے میں معاشی کارکردگی کا نخلستان قرار دیا اور کہا کہ ملک اعتدال پسند افراطِ زر کے ماحول میں بلند شرح نمو، کھپت اور سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے یو جی سی کے ضوابط 2026 کو معطل کیا
سپریم کورٹ نے آج یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں مساوات کے فروغ) کے ضوابط 2026 کو فی الحال معطل رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ان ضوابط پر کچھ تحفظات ظاہر کیے ہیں جنہیں عام زمرے کے خلاف امتیازی قرار دے کر چیلنج کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے تجویز دی کہ ان ضوابط کا جائزہ ممتاز ماہرین قانون پر مشتمل کمیٹی کرے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ ضوابط بظاہر مبہم ہیں اور ان کے غلط استعمال کا امکان ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے تین عرضداشتوں کی سماعت کی جو ان ضوابط کی آئینی حیثیت کو چیلنج کر رہی ہیں۔ عدالت نے مرکز اور یو جی سی کو نوٹس جاری کیا ہے، جس پر 19 مارچ کو جواب دینا ہوگا۔
وزیر اعظم مودی: اقتصادی سروے اصلاحات کی مکمل تصویر
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ پیش کیا گیا اقتصادی سروے بھارت کی “ریفارم ایکسپریس” کی جامع تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ عالمی چیلنجوں کے باوجود بھارت کی مسلسل پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سروے مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں، پائیدار ترقی کی رفتار اور جدت، کاروبار اور انفراسٹرکچر کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ سروے شمولیتی ترقی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، جس میں کسانوں، ایم ایس ایم ایز، نوجوانوں کے روزگار اور سماجی بہبود پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ سنگ میل
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو بھارت کی ترقیاتی کہانی میں سنگ میل قرار دیا۔ نئی دہلی میں آکاشوانی نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ہونے والی “مدر آف آل ڈیلز” دنیا کی جی ڈی پی کا 25 فیصد حصہ بنتی ہے۔
وزیر اعظم مودی: شفاف اور محفوظ مصنوعی ذہانت کا نظام ضروری
وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو شفاف، غیر جانبدار اور محفوظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے آج نئی دہلی میں اپنے رہائش گاہ پر اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والے سی ای اوز اور ماہرین سے گفتگو کے دوران کہی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کو ہر شعبے میں اپنانا چاہیے اور اسے قومی ترقی میں استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کلیدی شعبوں میں مقامی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا۔
مودی نے کہا کہ بھارت کے پاس پیمانے، تنوع اور جمہوریت کا منفرد امتزاج ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اعتماد کرتی ہے۔ یہ ملاقات فروری میں ہونے والے IndiaAI Impact Summit کے تناظر میں تھی، جس کا مقصد اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا، اے آئی جدت کو پیش کرنا اور بھارت کے اے آئی مشن کے اہداف کو تیز کرنا تھا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وپرو، ٹی سی ایس، ایچ سی ایل ٹیک سمیت کئی کمپنیوں کے سی ای اوز اور آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد، آئی آئی ٹی مدراس اور آئی آئی ٹی بمبئی کے ماہرین شریک ہوئے۔
بیٹنگ دی ریٹریٹ تقریب، جمہوریہ دن کی تقریبات کا اختتام

نئی دہلی کے وجے چوگ میں 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے اختتام پر بیٹنگ دی ریٹریٹ کی شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر دروپدی مرمو، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور دیگر وزراء موجود تھے۔
مسلح افواج کے بینڈز نے حب الوطنی کے نغمے جیسے “وندے ماترم”، “اے وطن” اور “سارے جہاں سے اچھا” بجا کر حاضرین کو مسحور کر دیا۔ تقریب میں بھارتی فضائیہ کے بینڈ نے “آپریشن سندور” کی خصوصی پیشکش کی، جس میں مسلح افواج کی بہادری اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
تقریب میں بھارتی فوج، بحریہ، فضائیہ اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے بینڈز نے شرکت کی۔ یہ تقریب “قدم قدم بڑھائے جا” سے شروع ہوئی اور پائپس اینڈ ڈرمز بینڈ کی دھنوں سے مزید رنگین ہوئی۔ سی اے پی ایف بینڈز نے “وجے بھارت” اور “ویر سپاہی” بجائے۔ فضائیہ نے “بریو وارئیر”، “ٹوائلائٹ” اور “فلائنگ اسٹار” پیش کیے، جبکہ بحریہ نے “نمستے”، “ساگر پون” اور “جے بھارتی” بجائے۔ فوجی بینڈ نے “وجیئے بھارت”، “آرنبھ ہے پرچنڈ”، “سگمیا بھارت” اور “ستارے ہند” بجائے۔ تقریب کا اختتام ہمیشہ کی طرح “سارے جہاں سے اچھا” کی دھن پر ہوا
١٤سال بعد بنگلادیش کی قومی ائیرلائن کی پرواز کراچی ائیرپورٹ پر لینڈکرگئی
١٤سال بعد پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ بحال ہوگیا، بنگلادیش کی قومی ائیرلائن کی پرواز کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کرگئی۔
بنگلا دیش کی قومی ائیرلائن بیمان کی پہلی پرواز ڈھاکا سےکراچی ائیرپورٹ پر پہنچی۔ پرواز کی آمد پر خصوصی انتظامات کیےگئے اور پرواز کو واٹر سلیوٹ پیش کیا گیا۔
بیمان ائیرلائن کی آمد پر کراچی ائیرپورٹ پر خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا، تقریب میں گورنر سندھ، بنگلادیشی ہائی کمشنر اور ائیرپورٹ حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر جزبانی مناظر بھی دیکھنے میں آئے، پاکستان میں موجود بنگالی کمیونٹی نے خوشی کا اظہار کیا کہ وہ کم خرچ میں اپنے پیاروں سے ملنے بنگلادیش جاسکیں گے۔
خیال رہے کہ ڈھاکا اور کراچی کے درمیان پرواز کا دورانیہ 3 گھنٹے ہے، براہ راست پروازیں بند ہونے کے باعث بنگلادیش جانے والے مسافروں کو براستہ دبئی مہنگا اور طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔
یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب دہشت گرد تنظیوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے یورپی یونین کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام ’امریکا اور صہیونی حکومت کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید‘ کے تحت کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ باقاعدہ فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔
پاسداران انقلاب ایران کے دفاع، بیرونی آپریشنز اور خطے میں اثر و رسوخ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار فعال (اور ریزرو سمیت 6 لاکھ سے زائد) اہلکاروں پر مشتمل یہ فورس ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگراموں کی نگرانی کرتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف اتحادی گروہوں کی حمایت کرتی ہے۔
امریکا نے 2019 میں پاسداران انقلاب کو غیر ملکی ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا تھا۔
