Last Updated on August 30, 2026 12:52 am by INDIAN AWAAZ

دنیا کی چند اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں جاری کشیدگی اب صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی غذائی نظام تک پہنچ چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے تیل، اناج، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی عالمی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورت حال نے پہلے ہی بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار دنیا کے لیے ایک نئے بحران کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتحال کو عالمی غذائی نظام کے لیے انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہم سمندری راستوں میں خلل عالمی تجارت کی ان شریانوں کو متاثر کر رہا ہے جن پر خوراک، توانائی اور زرعی پیداوار کا پورا نظام انحصار کرتا ہے۔ ان کے مطابق سمندری گزرگاہوں کو ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا نہیں چاہیے، کیونکہ ان راستوں میں رکاوٹ کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں اور کمزور آبادیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بحری تجارت میں کسی ایک اہم راستے کا متاثر ہونا بھی عالمی منڈیوں میں قیمتوں کو ہلا سکتا ہے، لیکن جب ایک ہی وقت میں کئی اہم گزرگاہیں جنگ اور کشیدگی کی زد میں ہوں تو خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا ایک بنیادی راستہ ہے، جبکہ باب المندب یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان بحری تجارت کے لیے اہم رابطہ فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب بحیرہ اسود عالمی اناج کی تجارت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت میں شدید کمی نے پہلے ہی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں مشکلات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے، جبکہ جہاز رانی اور بیمہ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہی اضافی لاگت بالآخر ان اشیا کی قیمتوں میں شامل ہو جاتی ہے جو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔
اس مسئلے کا اثر صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہتا۔ مہنگا تیل جہازوں، ٹرکوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے اخراجات بڑھاتا ہے، جبکہ مہنگی سمندری ترسیل درآمدی خوراک کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی طرح کھاد اور زرعی خام مال کی ترسیل مہنگی ہونے سے کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر اگلی فصل اور مستقبل کی خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
تاریخی طور پر عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا رہا ہے، جبکہ تقریباً 12 فیصد سمندری تیل تجارت باب المندب سے منسلک رہی ہے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان راستوں میں طویل مدتی خلل عالمی توانائی اور تجارتی نظام کے لیے کس قدر بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
بحیرہ اسود کی صورتحال نے اس بحران کی ایک اور جہت پیدا کر دی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے باعث بندرگاہوں اور مال بردار بحری جہازوں کو خطرات لاحق ہونے سے اناج کی عالمی رسد متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جب دنیا کے بڑے زرعی خطوں سے اناج کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف قریبی ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں اور دستیابی دونوں پر پڑ سکتا ہے۔
یہ صورتحال ان ممالک کے لیے زیادہ خطرناک ہے جو اپنی خوراک، کھاد اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ عالمی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی کم آمدنی والے ممالک میں لاکھوں افراد کی قوت خرید کو متاثر کر سکتا ہے۔ خوراک مہنگی ہونے کی صورت میں خاندان اپنی خوراک کی مقدار یا معیار کم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومتوں کے لیے سبسڈی اور امدادی پروگراموں کا مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
گوتیرش نے اس پورے بحران کو عالمی تجارت کی “شریانوں” پر دباؤ سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تنازعات خوراک کی قیمتوں میں اضافے، بھوک میں شدت، زرعی پیداوار میں کمی اور انسانی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بحری جہازوں کے لیے آزادانہ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کوئی محض اصولی تصور نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی امن و سلامتی کا اہم حصہ ہے۔
اسی پس منظر میں مارچ میں ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے انسانی بنیادوں پر محفوظ، منظم اور قابل اعتماد بحری آمدورفت کو ممکن بنانا ہے۔ ابتدائی توجہ کھاد اور اس کے لیے درکار خام مال کی ترسیل پر رکھی گئی ہے، تاہم ضرورت کے مطابق دیگر ضروری اشیا کو بھی اس انتظام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمی غذائی نظام پہلے ہی جنگوں، موسمیاتی تبدیلی، مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث دباؤ میں ہے۔ ایسے میں اہم سمندری راستوں کا مزید غیر محفوظ ہونا بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ تیل اور جہاز رانی کی قیمتوں میں اضافہ بالآخر خوراک کی قیمتوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی سب سے بھاری قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی خوراک خریدنے کے وسائل محدود ہیں۔
اسی لیے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود کا مسئلہ محض بحری سلامتی یا عالمی تجارت کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ عالمی غذائی تحفظ، توانائی کی قیمتوں، زرعی پیداوار اور کروڑوں انسانوں کی زندگی سے براہ راست جڑ چکا ہے۔ سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا اب عالمی معیشت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ بھوک کے خلاف جنگ کا بھی بنیادی تقاضا بن گیا ہے۔
