Last Updated on August 31, 2026 11:32 pm by INDIAN AWAAZ

AMN
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انصاف و مساوات، مذہبی آزادی، قومی یکجہتی اور امن و امان کے تحفظ کے لیے ملک گیر عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بورڈ نے اس تحریک کو ’’تحفظِ آئین و شریعت تحریک‘‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں آئین، جمہوری اقدار اور امن پر یقین رکھنے والے تمام طبقات کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سلسلے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحمٰن مجددی اور دیگر اہم مسلم رہنما موجود تھے۔

بورڈ کے مطابق مجوزہ تحریک کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس میں انصاف پسند اور جمہوری سوچ رکھنے والے شہریوں، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

بورڈ نے کہا کہ ہندوستانی آئین ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے یکساں اطلاق کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، بورڈ کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جن میں کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات، بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی سطح پر دباؤ، عدم تحفظ اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اپنے بیان میں بورڈ نے ہجومی تشدد، مبینہ غیر قانونی بلڈوزر کارروائیوں کے ذریعے انہدام، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنائے جانے، اوقاف کی املاک اور قبرستانوں پر مبینہ غیر قانونی قبضوں اور مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات میں مبینہ من مانی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کی۔

بورڈ نے مذہبی آزادی میں مبینہ مداخلت، یکساں سول کوڈ کے ذریعے مسلم پرسنل لا کو متاثر کرنے کی کوششوں، وندے ماترم گانے کو لازمی قرار دینے کی مبینہ کوششوں اور تعلیمی نظام و نصاب میں ایسی تبدیلیوں پر بھی اعتراض کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان سے اقلیتوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

بورڈ نے اپنے بیان میں کہا، ’’یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی آئینی شناخت، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘

تحریک کی نگرانی اور مختلف پروگراموں میں رابطے کے لیے مجلس عمل تشکیل دی جائے گی۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ تحریک کے تمام پروگرام آئین، جمہوری اصولوں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل طور پر پرامن طریقے سے چلائے جائیں گے۔ اس کا مقصد کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ تناؤ، تشدد یا امن عامہ میں خلل سے بچتے ہوئے مکالمے، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔

تحریک کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں عوامی جلسوں اور پرامن احتجاجی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان پروگراموں میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں، علما، دانشوروں، سماجی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کو خطاب کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

بورڈ نے ایک جامع وائٹ پیپر تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک، آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق واقعات کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔ یہ دستاویز ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں، منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔

اس کے علاوہ ایک جامع قانونی رہنما کتاب شائع کی جائے گی، جس میں شہریوں کے قانونی حقوق، عدالتی چارہ جوئی کے طریقہ کار اور مبینہ غیر قانونی انہدام اور بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف دستیاب قانونی راستوں کی وضاحت کی جائے گی۔ اس میں اوقاف کی املاک، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی امور بھی شامل ہوں گے۔

ہجومی تشدد کے مسئلے پر بھی بورڈ ایک جامع اعلامیہ جاری کرے گا۔ اس میں قانون کی حکمرانی، حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں، متاثرین کے قانونی حقوق اور جان و مال کے تحفظ سے متعلق قانونی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔

تحریک کے تحت ایک مطالبات کا منشور بھی تیار کیا جائے گا، جسے ریاستی سطح پر گورنروں اور ضلعی سطح پر انتظامیہ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کو پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں آئینی حقوق کا تحفظ، نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام، مذہبی آزادی، مبینہ غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقاف اور مذہبی مقامات کا تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ جیسے مطالبات شامل ہوں گے۔

بورڈ نے تحریک کے لیے وسیع ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا مہم چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت پریس کانفرنسیں، میڈیا بریفنگ، ویڈیو دستاویزات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر منظم مہم چلائی جائے گی۔ بورڈ کے مطابق سوشل میڈیا پر مربوط مہم اور مشترکہ ہیش ٹیگ کے ذریعے بھی عوام تک تحریک کا پیغام پہنچایا جائے گا۔

تحریک کے ایک اہم مرحلے میں نئی دہلی میں ایک بڑے قومی اجتماع اور احتجاجی پروگرام کے انعقاد کا منصوبہ بھی ہے۔ اس میں ملک کے مختلف طبقات، مذاہب اور فکری و سماجی حلقوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بورڈ کے مطابق اسی اجتماع میں تحریک کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے واضح کیا کہ اس کی مجوزہ تحریک کسی ایک برادری تک محدود نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی، امن اور بھائی چارے کے تحفظ کی ایک وسیع قومی کوشش ہے۔

بورڈ نے ملک کے شہریوں، سماجی و مذہبی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ انصاف، جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں پر یقین رکھتے ہوئے اس تحریک کا حصہ بنیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ انصاف، مکالمہ، باہمی احترام اور پرامن آئینی جدوجہد ہی ملک کے مضبوط، پرامن اور ہم آہنگ مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں شامل تھے:

مولانا اصغر امام مہدی، امیر، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث اور نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛

سید سعادت اللہ حسینی، امیر، جماعتِ اسلامی ہند اور نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛

مولانا فضل الرحمٰن مجددی، جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛

مولانا یاسین علی عثمانی، سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛

مولانا ابو طالب رحمانی، رکن مجلس عاملہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔