Last Updated on August 29, 2026 11:23 pm by INDIAN AWAAZ

file photo

افغانستان میں 37 لاکھ بچے غذائی قلت کے باعث جسمانی کمزوری اور لاغر پن کا شکار ہیں۔ ان میں سے 10 لاکھ بچوں کو درپیش یہ مسئلہ شدید ترین اور جان لیوا نوعیت کا ہے جن میں 83 فیصد کی عمر دو سال سے بھی کم ہے۔

غذائی قلت مناسب خوراک تک رسائی نہ ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے جو بچوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور انہیں عام بیماریوں کے سامنے کہیں زیادہ غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کی بڑھتی تعداد کے باعث ہسپتالوں پر شدید دباؤ آ رہا ہے۔ ملک کے جنوبی علاقوں میں ہسپتال ہر دستیاب بستر پر تین سے چار بچوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔

طبی پیچیدگیوں کے ساتھ ہسپتالوں میں داخل کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔ جولائی 2025 میں ایسے بچوں کی تعداد تقریباً 6 ہزار تھی جو کہ جولائی 2026 تک بڑھ کر 8 ہزار ہو گئی۔

کثیر الجہتی بحران

غذائی قلت کا شکار بچوں میں یہ اضافہ متعدد ماحولیاتی اور سیاسی عوامل کا نتیجہ ہے۔ فغانستان مسلسل کئی برس سے خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے جبکہ تباہ کن بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ رواں سال ریکارڈ شدت کے ال نینو موسمیاتی رجحان سے بھی موسمی حوادث بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

خطے میں عدم استحکام کے باعث سرحد پار تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ 2023 سے اب تک 60 لاکھ سے زیادہ افراد کی افغانستان واپسی نے پہلے ہی دباؤ کا شکار روزگار کی منڈی اور عوامی خدمات بشمول رہائش اور صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

یونیسف کے مطابق، ان حالات کے باعث لوگ اپنے بچوں کو مناسب خوراک فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ کھانے کی مقدار کم ہو گئی ہے، کھانا پہلے سے زیادہ نایاب ہو گیا ہے اور غذائی تنوع بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، چھ ماہ کی عمر میں بچے کو دی جانے والی پہلی خوراک بعض اوقات چائے کے ساتھ صرف روٹی یا پانی ملا دہی ہی ہوتی ہے۔

‘علاج ممکن ہے’

افغانستان میں یونیسیف کے نمائندے تاج الدین ایویوالے نے مشرقی افغانستان کے ایک ہسپتال میں نو ماہ کی بچی سگیدہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا تعلق ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے جو حال ہی میں شدید سیلاب سے متاثر ہوا تھا۔ یونیسف کے ایک تربیت یافتہ طبی کارکن نے اس کی حالت دیکھ کر اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ 

جب سگیدہ کو پہلی مرتبہ ہسپتال لایاگیا تو ڈاکٹروں کو اس کے زندہ بچنے کی بہت کم امید تھی۔ اس کا وزن صرف 4 کلوگرام تھا لیکن علاج کے لیے خصوصی دودھ ملنے کے بعد اب اس کی جسمانی حالت مستحکم ہو گئی ہے۔

کم لاگت میں بروقت امداد

یونیسف نے کہا ہے کہ، امدادی وسائل میں کمی کے باعث 2025 کے مقابلے میں رواں سال شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کو علاج فراہم کرنے کے 100 سے زیادہ مراکز بند ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں باقی ماندہ مراکز پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔

یونیسف کے غذائی پروگرام کو رواں سال درکار 18 کروڑ ڈالر میں سے اب تک صرف 22 فیصد وسائل ہی موصول ہوئے ہیں۔

ایویوالے نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں بروقت اقدامات نہ صرف جانیں بچاتے ہیں بلکہ ان پر خرچ بھی کم آتا ہے۔ جب کوئی بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کی زندگی کو تحفظ دینے پر اٹھنے والے اخراجات پیشگی اقدامات پر خرچ کردہ مالی وسائل سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔