Last Updated on March 20, 2026 10:55 pm by INDIAN AWAAZ

سید علی مجتبیٰ

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے شور اور ہنگامے کے درمیان ایک نہایت اہم خبر پس منظر میں چلی گئی ہے کہ اسرائیل نے ماہِ رمضان کے دوران فلسطینی عبادت گزاروں کے لیے یروشلم میں واقع مسجدِ اقصیٰ کو بند کر دیا ہے۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کی تیسری مقدس ترین مسجد کی یہ بندش غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔

مسجدِ اقصیٰ کو وہ مقام مانا جاتا ہے جہاں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے معراج کی رات نماز ادا کی تھی۔ یہ واقعہ اسلامی روایت کے مطابق تقریباً 621 عیسوی میں پیش آیا۔ اسی وقت سے مشرقی یروشلم کے فلسطینی اس مقدس مقام پر اپنا حق رکھتے آئے ہیں، لیکن ایران جنگ کے بعد یہ حق کمزور پڑتا نظر آ رہا ہے۔

یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب 1945 میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد یروشلم اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ مسجدِ اقصیٰ یہودیوں کا مقدس مقام بھی ہے۔

بین الاقوامی مداخلت کے ذریعے اس مذہبی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک اسلامی وقف (Islamic Waqf) قائم کیا گیا تاکہ اس مقدس مقام کی مذہبی حیثیت برقرار رکھی جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت مسلمانوں کو مسجد میں مشرقی جانب سے داخلے کی اجازت دی گئی جبکہ یہودیوں کو مغربی دیوار تک رسائی دی گئی۔ اس کے بعد فروری 2026 تک مسجدِ اقصیٰ میں نماز کا سلسلہ جاری رہا، جب اسرائیل نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کو بند کر دیا۔

28 فروری 2026 کو ایران پر حملے سے قبل اسرائیل نے مسجد کے پورے احاطے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ مسجد کی بندش کے ساتھ ہی قدیم یروشلم تقریباً مکمل لاک ڈاؤن کی حالت میں آ گیا۔ فلسطینیوں کے بازار، جو پہلے زندگی سے بھرپور ہوتے تھے، اب ویران دکھائی دیتے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد صرف پرانے شہر کے رہائشیوں کو محدود نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کو “گریٹر اسرائیل” کے قیام سے جوڑا ہے، جس میں مصر، شام، سعودی عرب اور ایران کے کچھ حصوں کو شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے میں مسجدِ اقصیٰ کو منہدم کر کے اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں مسجدِ اقصیٰ کی بندش کو دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کو مسجد تک رسائی سے روک دیا گیا ہے اور وہاں اسرائیلی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ مسجد کے اندر، حتیٰ کہ قبۃ الصخرہ کے اندر بھی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں، جس سے مسلسل نگرانی ممکن ہو گئی ہے۔

مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ 1967 کا بین الاقوامی انتظام آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے داخلے پر پابندیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ اسرائیلی کنٹرول اور یہودی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یروشلم میں اسلامی وقف کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر، عونی بز باز کے مطابق مسجد کی بندش نے طویل مدتی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ عارضی اقدام مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے، جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے شدید ناانصافی ہے۔

دوسری جانب ایران میں رمضان کے آخری جمعہ کو یومِ القدس منایا گیا، جو 1979 سے ہر سال فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی تہران اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، لیکن عرب دنیا میں اس طرح کے مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے۔

جنگ کے اس ماحول میں مسلم دنیا کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرا پائے گا یا نہیں۔ ابتدائی طور پر اس جنگ کا مقصد ایران کی عسکری طاقت کو کمزور کرنا اور وہاں حکومت کی تبدیلی تھا، لیکن تین ہفتے گزرنے کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے اور اسرائیل کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ امریکہ بھی خلیجی خطے سے پیچھے ہٹتا نظر آ رہا ہے۔

ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا، لیکن جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے، حالات اس کے حق میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایران فتح کے بعد مسجدِ اقصیٰ کے دروازے دوبارہ کھول سکے گا؟