Last Updated on October 19, 2025 6:27 pm by INDIAN AWAAZ

19 اکتوبر 2025 | ویب ڈیسک / اے ایم این
امریکہ کی تمام 50 ریاستوں میں ہزاروں افراد نے ’نو کنگز‘ () کے نعرے کے تحت سڑکوں پر نکل کر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت اور پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 2500 سے زائد مقامات پر مظاہرے منظم کیے گئے، جن میں اٹلانٹا، لاس اینجلس، اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہروں کا مقصد آمریت کے خلاف آواز بلند کرنا اور امریکی جمہوریت کا دفاع تھا۔
مظاہرین نے جمہوری اقدار کے زوال، سخت امیگریشن پالیسیوں، شہروں میں وفاقی فوج کی تعیناتی، اور سرکاری فلاحی منصوبوں میں کٹوتیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب وفاقی حکومت فنڈنگ تنازع کے باعث شٹ ڈاؤن کا شکار ہے۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے مظاہرین کو صبر و سکون سے کام لینے کا مشورہ دیا، جبکہ سینیٹر چک شومر اور برنی سینڈرز نے مظاہروں میں شرکت کرتے ہوئے امریکی عوام کی جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر تعریف کی۔
ہزاروں مظاہرین مختلف شہروں، قصبوں اور نواحی علاقوں میں سڑکوں پر نکلے، جنہوں نے صدر ٹرمپ کی آمرانہ رجحانات اور کرپشن کے خلاف نعرے لگائے۔ تنظیم کاروں کے مطابق دن کے اختتام تک 2600 سے زیادہ مقامات پر ریلیوں میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع تھی۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین کا سمندر اُمڈ آیا، جہاں پولیس کے مطابق ایک بھی گرفتاری نہیں ہوئی، حالانکہ پانچوں بورو میں ایک لاکھ سے زائد افراد پرامن انداز میں شریک تھے۔
اسی طرح بوسٹن، فلاڈیلفیا، اٹلانٹا، ڈینور، شکاگو، اور سیٹل میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مغربی ساحل پر لاس اینجلس کے مختلف علاقوں میں ایک درجن سے زیادہ ریلیاں ہوئیں، جبکہ سیٹل میں مظاہرین نے ایک میل طویل جلوس نکالا جو شہر کے مشہور اسپیس نیڈل تک پہنچا۔ پولیس کے مطابق سان ڈیگو میں 25 ہزار سے زائد افراد نے پرامن احتجاج کیا۔
مظاہرین کی بڑی تعداد — بالخصوص بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے امریکی شہری — ٹرمپ کی سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں، امیگریشن پالیسیوں میں عسکریت پسندی، اور نیشنل گارڈ فوجیوں کی شہروں میں تعیناتی پر برہم نظر آئے۔
صدر ٹرمپ نے ان مظاہروں پر زیادہ ردعمل نہیں دیا، تاہم جمعہ کو فاکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا:
“وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں — میں بادشاہ نہیں ہوں۔”
