
(AMN / ویب ڈیسک):
امریکہ کے صدر Donald Trump ہفتہ کی شب ایک ممکنہ بڑے سانحے سے محفوظ رہے جب White House Correspondents’ Association کے سالانہ عشائیے کے دوران ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ واقعہ کے فوراً بعد امریکی خفیہ ادارے United States Secret Service کے اہلکاروں نے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام کے مطابق یہ تقریب Washington Hilton Hotel میں منعقد ہو رہی تھی جہاں صدر کے ہمراہ خاتون اول Melania Trump، نائب صدر JD Vance، صحافیوں، میڈیا شخصیات اور سرکاری عہدیداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق رات تقریباً 00:45 GMT پر ایک مشتبہ شخص ہوٹل کے داخلی حصے (فوئیر) میں داخل ہوا اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر اور دیگر اہم شخصیات کو وہاں سے نکال لیا۔
Federal Bureau of Investigation (ایف بی آئی) کے ایک اہلکار کے مطابق حملہ آور کے پاس شاٹ گن تھی اور اس نے ایک سیکیورٹی افسر کو نشانہ بنایا۔ تاہم افسر نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے باعث وہ محفوظ رہا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مہمانوں میں خوف و ہراس
فائرنگ کے بعد ہال میں موجود سینکڑوں مہمانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک مہمانوں کو ہال میں ہی روکے رکھا گیا، جس کے بعد پورے بال روم کو خالی کرا لیا گیا۔

ملزم کی گرفتاری
وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں پیش آنے والے واقعے میں گرفتار مسلح مشتبہ شخص کی شناخت کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کا رہائشی 31 سالہ شہری ہے۔
صدر Donald Trump نے تقریباً ایک گھنٹے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 31 سالہ Cole Tomas Allen کو اس واقعہ کا مرکزی ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس پر پیر کے روز متعدد الزامات عائد کیے جائیں گے، جن میں پرتشدد جرم کے دوران آتشیں اسلحہ کے استعمال کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
صدر کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے واقعہ کے بعد سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا:
“واشنگٹن میں ایک غیر معمولی رات تھی، سیکیورٹی اداروں نے شاندار کام کیا۔”
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں فائرنگ کے کئی واقعات کے تناظر میں بعض پیشے انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔
سی سی ٹی وی اور تصاویر جاری
صدر نے میڈیا سے گفتگو سے قبل سی سی ٹی وی فوٹیج اور مشتبہ شخص کی تصاویر بھی جاری کیں، جن میں ایک شخص کو ہوٹل کے اندر بھاگتے ہوئے اور بعد ازاں زمین پر قابو میں لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ واقعہ امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے، تاہم فوری اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔ تمام اعلیٰ حکام محفوظ رہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر تیزی سے قابو پا لیا۔
یہ میری جان لینے کی ایک اور کوشش تھی، صدر ٹرمپ
واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔
صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے۔
صدر نے کہا کہ یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
