
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ تمام 27 یورپی ممالک کے طبی شعبوں میں مصنوعی ذہانت سے کام لینے کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور بیشتر ملک علاج معالجے کو بہتر بنانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو موثر طور سے استعمال کر رہے ہیں۔
‘ڈبلیو ایچ او’ (یورپ) کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے کے طبی نظام جدید ٹیکنالوجی کو محفوظ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے تقریباً تین چوتھائی ممالک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام کا استعمال پہلے ہی جاری ہے جس میں طبی نقشہ سازی، بیماریوں کی نشاندہی اور صحت سے متعلق فیصلوں میں مدد دینے والے آلات شامل ہیں۔
یورپی یونین کے تقریباً نصف ممالک نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت اور معلوماتی (ڈیٹا) سائنس کے لیے باقاعدہ پیشہ ورانہ عہدے بھی قائم کر دیے ہیں اور کئی ممالک مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیتی پروگرام شروع کرنے یا انہیں مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ نتائج اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھنے کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کی ضرورت بھی سامنے آ رہی ہے۔
افرادی قوت کی تربیت
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ 74 فیصد یورپی ممالک بیماریوں کی تشخیص کے لیے مصنوعی سے کام لے رہے ہیں اور 63 فیصد مریضوں سے رابطے اور رہنمائی کے لیے چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں، تاہم اب خطے کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ افرادی قوت کی تربیت اس رفتار سے ہم آہنگ رہے۔ اسی مقصد کے لیے کئی ممالک مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی معلومات کو طبی تعلیم اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا حصہ بھی بنا رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق، یہ صورتحال ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں پیدا کرنے کے وسیع عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ علاج معالجے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کو بہتر نتائج میں بدلا جائے اور طبی ماہرین اس ٹیکنالوجی کو سمجھداری اور ذمہ داری سے استعمال کریں، معیاری دیکھ بھال برقرار رکھیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے جانے والے فیصلوں میں جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اخلاقی ذمہ داری اور مشمولہ فیصلے
طبی نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے کردار کے ساتھ پیشہ ور افراد کے لیے اس ٹیکنالوجی کو محفوظ اور موثر طریقے سے استعمال کرنے کی مہارت کا حصول مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ معالجین ان فیصلوں کے لیے اخلاقی اور قانونی طور پر ذمہ دار ہوں جو ایسی ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے جاتے ہیں جسے وہ مکمل طور پر نہ سمجھتے ہوں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس معاملے میں مریضوں اور عوام کو بھی زیادہ وسیع پیمانے پر مشاورت میں شامل کیا جائے تاکہ اعتماد میں اضافہ ہو اور یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات ان لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہوں جن کے لیے وہ بنائے جا رہے ہیں۔
ایسے جس نظام کی تیاری میں لوگوں کو بامعنی طور پر شامل کیا جاتا ہے ان پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے، منصفانہ نتائج حاصل ہوتے ہیں اور تمام مریضوں کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اس سے برعکس جس نظام میں عوام کی شمولیت نہ ہو اس کے لیے اپنی تکنیکی ترقی کے باوجود مسترد کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے اور پہلے سے موجود طبی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔
‘ڈبلیو ایچ او’ کی سفارشات
یہ نتائج ایک اہم موقع پر سامنے آئے ہیں جب یورپی یونین دنیا کا پہلا ایسا جامع قانونی فریم ورک نافذ کرنے جا رہی ہے جو خاص طور پرمصنوعی ذہانت کو باضابطہ بناتا ہے۔ اس تناظر میں ‘ڈبلیو ایچ او’ نےحکومتوں کے لیے تین سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
- تعلیم اور تربیت کے ذریعے افرادی قوت کومصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی معلومات، اخلاقیات اور معلومات کے انتظام میں بہتر بنایا جائے۔
- مصنوعی ذہانت کے نظام وضع کرتے ہوئے جامع اور شفاف شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور پیشہ ور طبی عملہ، مریض اور عوام متعلق پالیسی سازی میں شامل ہوں۔
- ٹیکنالوجی کی جانچ، بہترین طریقوں کے تبادلے اور اس کے محفوظ و منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ معیارات وضع کرنے کا اہتمام کیا جائے
