عندلیب اختر
عالمی سطح پر بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ اب وقتی یا ہنگامی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ ایک مستقل اور گہرا بحران بنتا جا رہا ہے۔ گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز 2026 نے ایک نہایت تشویشناک تصویر پیش کی ہے، جس کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں شدید بھوک کا شکار افراد کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے۔ Global Network Against Food Crises کی اس رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا بھر میں بھوک صرف بڑھ نہیں رہی بلکہ مخصوص ممالک میں جڑ پکڑ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف دس ممالک—جن میں افغانستان، سوڈان، یمن اور نائجیریا شامل ہیں—دنیا بھر کے دو تہائی بھوکے افراد کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہ خطے ہیں جہاں جنگ، معاشی بدحالی اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک ساتھ مل کر حالات کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ان ممالک میں بھوک اب عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔


سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ 2025 میں دو مختلف خطوں—غزہ اور سوڈان—میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی گئی۔ Integrated Food Security Phase Classification کے مطابق قحط وہ مرحلہ ہے جہاں بھوک صرف کمی نہیں بلکہ موت کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک ہی سال میں دو مقامات پر قحط کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی نظام انسانی بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام ہو رہا ہے۔


اعداد و شمار اس بحران کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2025 میں 47 ممالک کے تقریباً 266 ملین افراد شدید غذائی قلت کا شکار رہے، جو کہ زیرِ جائزہ آبادی کا تقریباً 23 فیصد بنتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انتہائی شدید بھوک (کیٹاسٹروفک لیول) کا سامنا کرنے والوں کی تعداد 2016 کے مقابلے میں نو گنا بڑھ چکی ہے۔


اس بحران کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ 2025 میں 3 کروڑ 55 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار رہے، جن میں تقریباً ایک کروڑ بچے انتہائی خطرناک حالت میں تھے۔ یہ صورتحال صرف خوراک کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ صحت، صاف پانی اور بنیادی سہولیات کی ناکامی کا عکاس ہے۔ غزہ، میانمار اور جنوبی سوڈان جیسے علاقوں میں یہ تمام عوامل مل کر انسانی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔


جنگ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ António Guterres کے مطابق تنازعات نہ صرف خوراک کی فراہمی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جبری نقل مکانی نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ 2025 میں 85 ملین سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، اور یہ لوگ اکثر ان علاقوں میں پہنچتے ہیں جہاں وسائل پہلے ہی محدود ہوتے ہیں۔


افسوسناک امر یہ ہے کہ جب بحران شدت اختیار کر رہا ہے، عالمی امداد کم ہو رہی ہے۔ غذائی تحفظ اور غذائیت کے لیے فنڈنگ تقریباً ایک دہائی پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، جس سے امدادی اداروں کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں درست اور مکمل ڈیٹا کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس کی وجہ سے حقیقی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔


2026 کے لیے منظرنامہ زیادہ امید افزا نہیں ہے۔ جاری تنازعات، موسمیاتی تبدیلیاں اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اس بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عالمی غذائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا اثر سب سے زیادہ کمزور طبقات پر پڑے گا۔


تاہم یہ رپورٹ صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ حل کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقتی امداد کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ مقامی زرعی نظام کو مضبوط بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنا، اور دیہی معیشت کو سہارا دینا اس بحران سے نکلنے کے لیے ناگزیر ہے۔
عالمی رہنما بھی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ Cindy McCain نے خبردار کیا کہ دنیا کے پاس بھوک ختم کرنے کے وسائل موجود ہیں، مگر سیاسی عزم کی کمی ہے۔ اسی طرح Catherine Russell نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں وسائل کی کمی نہیں، بچوں کا بھوک سے مرنا ایک اخلاقی ناکامی ہے۔


دریں اثنا بڑھتے جغرافیائی سیاسی تنازعات، موسمیاتی بحران اور ترقیاتی مالی وسائل میں کمی کے باعث دنیا کے غریب ترین اور کمزور ممالک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس کے باعث پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب پیش رفت مزید سست پڑنے لگی ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے ‘مالیات برائے پائیدار ترقی’ کے موضوع پر رواں سال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کی تکمیل میں اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں، مگر اس سمت میں ہونے والا کام نہ صرف سست ہے بلکہ بہت سی جگہوں پر اب تک حاصل کردہ کامیابیاں ضائع ہونے لگی ہیں۔ ایک چوتھائی ترقی پذیر ممالک میں فی کس آمدنی اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔ تقریباً 3.4 ارب لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں حکومتیں صحت اور تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کے سود کی ادائیگی پر زیادہ خرچ کر رہی ہیں۔سرکاری ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل گھٹ رہی ہے اور کئی ممالک کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے درکار ٹیکس جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ عالمگیر تجارتی کشیدگیاں اور بڑھتے ہوئے ٹیرف خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔


آخرکار، یہ بحران صرف خوراک کا نہیں بلکہ انصاف، ترجیحات اور عالمی ذمہ داری کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔اب سوال یہ ہے: کیا عالمی برادری اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، یا بھوک ایک ایسا مسئلہ بن جائے گا جسے ہم صرف رپورٹس میں پڑھتے رہیں گے؟